Sunday, June 9, 2013

لائبہ میرے افسانوی مجموعے کلندستینی سے ایک افسانہ


لائبہ


لائبہ میریوٹ
(MARRIOTT)
کے سوئمنگ پول سے سوئمنگ کوسٹیوم
(swimming costume)
میں ملبوس باہر نکلی اور پول کے کنارے رکھی لمبی لمبی کرسیوں میں سے ایک پر، جو اِک کونے میں رکھی تھی، پر تولیہ بچھا کر لیٹ گئی۔ اس کے گیلے بال، جن کا اصلی رنگ تو کالا تھا لیکن لائبہ نے انہیں سنہرے رنگ سے اس طرح رنگا تھا کہ وہ بلونڈ
(blonde)
دِکھتے تھے، زمین کو چھو رہے تھے اور اس کا چہرہ اور جسم کی دیگر خوبصورتیاں سورج کی تمازت کا مزہ لے رہی تھیں۔ جسے انگریز سن باتھ
(sun bath)
یعنی غسلِ آفتابی کا نام دیتے ہیں۔ ابھی بمشکل چند ساعتیں ہی گزریں ہوں گی کہ لائبہ کے موبائیل فون
(mobile phone)
کی گھنٹی بجناشروع ہوگئی۔ اُس نے جَھلا کے موبائیل فون اٹھایا۔ نمبر اس کے والد صاحب کا تھا۔ مجبوراً اُسے سننا پڑا۔ اس نے بڑے انداز سے کہا،
’’جی پاپا‘‘
’’بیٹاتم کہاں ہو‘‘
’’جی میں سوئمنگ کے لیے آئی ہوئی تھی لیکن اب گھر کے لیے نکلنے ہی والی ہوں۔ بتائیں کیا کام ہے‘‘ ؟ ’’بس کچھ خاص نہیں۔ تمہاری خیرت دریافت کرنی تھی اور
how do you feel now? ‘‘
’’بس پا پا آپ بھی نا۔ میں کیا اب بچی ہوں۔ بڑی ہوگئی ہوں۔
i am adult now‘‘
’’میں جانتا ہوں لیکن میرے لیے تو تم اب بھی بچی ہی ہو‘‘
’’پاپا، پاپا میری بات سنیں۔ آج میں آپ سے کسی کو ملوانا چاہتی ہوں‘‘۔
’’کون ہے بھئی وہ ۔۔۔ہم بھی تو جانیں‘‘
’’وہ میرا دوست ہے‘‘
’’کیا کرتا ہے‘‘
’’میرے ساتھ پڑھتا ہے۔
he has same subject like me, anthropomorphism‘‘
"ok you can bring him home"
’’پاپا ایسا نہیں لگتا کہ کوئی ٹی وی ڈارمہ چل رہا ہو یا کوئی انڈین فلم، ٹپیکل
(typical)
انداز میں آپ اُسے اِنوائیٹ
(invite)
کررہے ہیں۔ جیسے میں اس سے شادی کرنے جارہی ہوں۔
he is just a friend
اور کبھی آپ سے ملواؤں گی‘‘
’’اُو کے بھئی غلطی ہوگئی۔ جب تمہارا دل چاہے ملوادو، بس مجھے بتادینا، کیونکہ تمہیں پتا ہے کہ میں کاروبار میں کتنا مصروف ہوتا ہوں۔ اچھا بیٹا خدا حافظ! میرے موبائیل کی بیٹری لُو
(battery low)
ہوگئی ہے‘‘َ ۔
اور اس کے ساتھ گفتگو کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔
ژ
لائبہ اور مستنیر محمد علی جناح یونیورسٹی میں اس طرح ساتھ ساتھ دیکھے جاتے جیسے ان کو کوئی جدا نہ کرسکے گا۔ اس پر طرہ یہ کہ دونوں یونیورسٹی کے لائق ترین سٹوڈنٹ تھے۔ اینتھروپومورفزم (
anthropomorphism)
پڑھتے پڑھتے دونوں قریباً اینتھروپوموفسٹ
(anthropomorphist)
بن چکے تھے۔ انسانوں کی جانچ بڑیجلدی کرلیتے تھے۔۔۔ دونوں کو اس بات کا اندازہ نہ ہوا کہ دونوں ایک دوسرے کو چاہنے لگے ہیں۔ جھگڑے، دوستی، کھانا پینا، لباس پر تنقید، کتابیں، نوٹس، ای میل
(e,mail)
، چیٹنگ
(chatting)
، موبائیل، ہر چیز نے ان دونوں کو جکڑا ہوا تھا۔ کبھی کبھی ایسا لگتا کہ ان دونوں کے درمیان سے ہوا بھی نہیں گزر سکتی۔ نہ ہی لائبہ نے کبھی اظہار کیا کہ وہ مستنیر سے پیار کرتی ہے نہ ہی مستنیر نے۔ وہ دونوں شاید اس بات سے ڈرتے تھے کہ اگر اس بندھن کو پیار کا نام دے دیا تو ٹِپیکل
(typical)
سا ہوجائے گا۔ حالانکہ لفظوں کو معنی دینے والے تو ہم ہی ہوتے ہیں۔ ہم پیار کا مطلب نفرت لے لیں اور نفرت کا پیارتو ہمیں جس سے اُنس یا پیارہے اگر پیار کو نفرت اور نفرت کو پیار سمجھ لیں تو ہم کچھ اس طرح کا جملہ دھرائیں گے۔ ’’میں تم سے جنون کی حد تک نفرت کرتا ہوں‘‘۔ جملے کا سیاق و سباق اور کہنے کا انداز بتائے گا کہ بات اچھے پیرائے میں کی گئی ہے اور صوتی اثرات چہرے کے اتار چڑھاؤ اور منہ میں گھلاوٹ کا آنا اس بات کا ثبوت ہوگا کہ ’’نفرت‘‘ لفظ جو برے معنوں میں تصور کیا جاتا ہے جب ’’پیار‘‘ کا لبادہ اوڑھے لے گا تو اچھا لگنے لگے گا۔ ابھی تک دونوں کسی لفظ کو پیار کا لبادہ اوڑھا کر پیش نہیں کرسکے تھے ورنہ جو کچھ ان میں تھا وہ کچھ ایسا ہی تھا کہ جسے اچھا کہا جائے۔
ژ
لائبہ کے والد زہاب ہنجرال کا زیادہ حصہ جرمنی میں گزرا تھا۔ وہیں فریکنفرٹ
(Frankfurt)
میں میلان پِتسا
(Milan Pizza)
پر کام کے دوران ان کی آشنائی ایک اطالوی دوشیزہ سے ہوگئی۔ زہاب صاحب کی آشنائی اس حد تک بڑھی کہ سبرینا مارینی
(Sabrina Marini)
سے انھیں شادی کرنا پڑی۔ سبرینا مارینی
(Sabrina Marini)
، اٹلی کے ضلع ریجو کلابریاء
(Reggio Calabria)
کے ایک چھوٹے سے شہر یا قصبہ کہہ لیجئے کاتنزارو لیڈو
(Catanzaro Lido)
کی رہنے والی تھی۔ بالکل انڈین، پاکستانی عورتوں کی طرح کالے بال، گندمی رنگ۔ کبھی کوئی جانچ نہیں کرسکتا تھا کہ یہ عورت کسی یورپی ملک کی رہنے والی ہے۔
ہوا کچھ اس طرح، زہاب صاحب سبرینا کے ساتھ کبھی کبھی دل بہلالیا کرتے لیکن چونکہ اٹالین رومن کیتھولک عیسائی ہوتے ہیں اس لیے شادی سے پہلے جنسی سرگرمیوں پر پابندی ہے اور اگر جوانی کے نشے میں غلطی ہوبھی جائے تو شادی کرنی پڑتی ہے۔ بچہ ضائع کرنا گناہِ کبیرہ تصور کیا جاتا ہے۔ زہاب صاحب نے انتہائی نامساعد حالات میں سبرینا
(Sabrina)
سے شادی کی۔ زہاب صاحب نے جو شادی ایک بوجھ سمجھ کر کی تھی اس کا انھیں بہت فائدہ ہوا۔ وہ جرمنی میں قانونی حقوق کے ساتھ رہنے لگے۔ ان کو خدا نے بہت ہی خوبصورت بیٹی عطا کی۔ اس کا نام انھوں نے لائبہ رکھا۔ زہاب اور سبرینا
(Sabrina)
کے لیے لائبہ خزانے کی چابی کی طرح تھی۔ دونوں نے خوب محنت کرکے پیسہ جمع کیااور پِتسا میلان
(Pizza Milan)
خرید لیا۔ پھر تو سلسلہ چل نکلا اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ زہاب صاحب، جرمنی میں قیام پذیر غیرملکیوں میں سب سے زیادہ دولت مند آدمی بن گئے۔
زہاب صاحب کے دل میں نہ جانے کیا آئی، انھوں نے پیسہ پاکستان انویسٹ
(invest)
کرنا شروع کردیا۔ اس میں بھی انھیں کافی کامیابی نصیب ہوئی۔ انھوں نے پِتسا میلان
(Pizza Milan)
کی شاخیں یورپ کے مختلف ملکوں میں کھول دی تھیں۔ دولت ان کے گھر کی باندی بن کے رہ گئی تھی۔ زہاب صاحب کا زیادہ وقت پاکستان میں ہی گزرتا۔ لائبہ کو بھی انھوں نے پندرہ سال کی عمر میں پاکستان بلا لیا تھا۔ یہاں اس نے اپنی بقیہ تعلیم مکمل کر کے ہائر سٹڈیز(higher studies) کے لیے امریکہ جانا تھا۔ لائبہ کو قریباً پانچ سال ہوچکے تھے۔ لائبہ اُردو، جرمن، اٹالین اور انگریزی بڑی روانی سے بولتی تھی۔ سبرینا مارینی
(Sabrina Marini)
نے یورپ میں پِتسا میلان
(Pizza Milan)
کی ساری شاخوں کی ڈائریکٹر جنرل
(director general)
تھی۔ سبرینا مارینی
(Sabrini Marini)
اٹلی کے جس علاقے کی رہنے والی تھی وہاں ستّر کی دھائی میں کافی غربت تھی۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ اتنی امیر ترین عورت بن جائے گی اور یہی حال زہاب صاحب کا تھا۔ لیکن وقت کا رنگ اور دولت کا اثر کافی حد تک تبدیلی لایا۔زہاب صاحب کی تکبر سے گردن کافی اکڑ چکی تھی۔ وہ اس بات کو بھول چکے تھے کہ وہ کبھی پنجاب کے ایک چھوٹے سے دیہات میں چھپڑوں میں نہایا کرتے تھے اور ان کے ہاتھوں میں چھوٹے چھوٹے مینڈک ہوا کرتے تھے۔ زہاب صاحب نے اسلام آباد کے سیکٹرE-7 میں اتنا بڑا گھر بنایا تھا جس کا عام آدمی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ آج کل وہ سیاست میں شمولیت اختیار کرنے کی سوچ رہے تھے۔ سب لوگ انھیں ہنجرال صاحب کہہ کر پکارتے۔ لائبہ کو پاکستان میں رہنا پسند تھا کیونکہ جتنی آسائش کے ساتھ وہ یہاں رہتی تھی نہ وہ اٹلی میں رہ سکتی تھی نہ ہی جرمنی میں۔
ژ
آج وہ اور مستنیر کسی گہرے بحث و مباحثے میں پڑے ہوئے تھے۔ لائبہ، مستنیر کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کررہی تھی کہ انسان نے خدا کو تخلیق کیا جبکہ مستنیر اس کے برعکس یہ ثابت کررہا تھا کہ خدا نے انسا ن کو تخلیق کیا ہے۔
’’دیکھو مستنیر انسان نے لفظ بنائے اور لفظوں کو ملا کے خدا بنا دیا‘‘
’’تمہاری بات ٹھیک ہے کہ لفظوں کو ملاکے خدا بنادیا لیکن لفظوں کو ملانے کا سلیقہ اور عقل کس نے دی‘‘
’’مستنیر تم میری بات سمجھ نہیں رہے ہو۔ دیکھو GOD کا مطلب ہے خدا، اللہ، بھگوان، DIEU, DIO
اور ہر زبان میں لفظوں کی تخلیق سے خدا کی تخلیق ہوئی ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو ثابت ہوا کہ انسان نے خدا کو تخلیق کیا ہے‘‘
’’لیکن خدا لفظ خدا سے پہلے بھی موجود تھا۔ وہ لفظوں کا محتاج نہیں ہے۔ اس کی ذات کا احاطہ لفظوں سے تو نہیں کیا جاسکتا‘‘
’’میں تمہاری بات فلسفیانہ انداز میں دیکھوں تو ٹھیک ہے لیکن ماڈرن سائنس
(modern science)
اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے‘‘
’’سائنس جہاں ناکام ہوجاتی ہے وہاں خدا کی ذات شروع ہوجاتی ہے‘‘
’’ایک تو میں مسلمانوں کی اس ہٹ دھرمی سے بڑی تنگ ہوں۔ ایک ایسی چیز کوماننے پر مجبور کرتے ہیں جو نظر نہیں آتی‘‘
’’تو اس کا مطلب ہے تم مسلمان نہیں ہو‘‘
’’یہ میں نے کب کہا‘‘
’’لگتا تو ایسا ہی ہے۔ خیر مجھے اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ویسے ایک بات بتاؤں، پال ڈیوس (Paul Davies)
اور رچرڈ ڈاکنز
(Richard Dawkins)
بھی بہت سی چیزوں کو اب تک نہیں جان سکے۔ جیسے
"chicken came first or egg"
’’وہی دقیانوسی مثال‘‘
’’بی بی! یہ دقیانوس بڑی دور کی کوڑی لایا ہے‘‘
’’مستنیر! یہ محاورہ میری سمجھ میں نہیںآیا‘‘
’’اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں‘‘
’’اچھا آج میرے گھر آرہے ہو،تمہیں ابو سے ملواؤں گی‘‘
’’ارے نا بابا نا، وہ مجھ قلاش کو گھر سے نکال دیں گے‘‘
’’تم بہت عجیب آدمی، ہر وقت خود کو خول میں بند کئے رکھتے ہو۔ یہ ہوجائے گا وہ ہوجائے گا۔ اور مضمون تمہارااینتھروپومورفزم
(anthropomorphism)
ہے‘‘
’’اچھا بابا آجاؤں گا۔لیکن تمہارے گھر کوئی کتا تو نہیں کیونکہ ہر بڑے گھر میں ایک کتا ہوتا ہے۔ اور تمہیں تو پتا ہے کہ مجھے کتوں سے بڑا ڈر لگتا ہے‘‘
’’اچھا اب میں چلتی ہوں‘‘
’’خدا حافظ‘‘
’’خداحافظ‘‘
ژ
مستنیر کا مکمل نام مستنیر سوری تھا۔ اس نے ایک ایسے گھر میں آنکھ کھولی تھی جہاں رشوت، جھوٹ، سفارش اور بے ایمانی کی کوئی جگہ نہ تھی۔ مستنیر کے والد مستبصر سورینے ساری زندگی اصولوں کے مطابق گزاری تھی۔ مستنیر نے اب تک جو تعلیم حاصل کی تھی وہ اچھے نمبروں کے عوض ملنے والے سکالر شپ کی وجہ سے تھی۔ مستنیر ذہین تھا۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ جائے۔ وہ چاہتا تھااینتھروپومورفزم
(anthropomorphism)
میں پی ایچ ڈی
(Ph.D)
کرے۔ لیکن ابھی اس کی منزل بہت دور تھی۔ وہ اپنے اخراجات ٹیوشن
(tuitions)
پڑھا کر پورے کرتا اور جب سے محمد علی جناح یونیورسٹی میں داخل ہوا تھا، اسے اپنے لباس کا بھی خیال رکھنا پڑتا۔ وہ لنڈے سے چُن چُن کر جینز اور رنگین قمیصیں لایا کرتا۔ لائبہ کو کبھی بھی نہ لگا کہ مستنیر لنڈے کے کپڑے پہنتا ہے۔ اُسے تو پتا ہی نہیں تھا کہ لنڈا کس چیز کا نام ہے۔ خیر اس بات کی کبھی مستنیر نے بھی پرواہ نہیں کی تھی کہ وہ لنڈے کی چیزیں پہنتا ہے۔ اس کے پاس بڑی جائز دلیل تھی ’’لنڈا کون سا مفت آتا ہے‘‘ ۔
اس کے والد صاحب پنڈی کے مشہور کالج میں ریاضی کے پروفیسر تھے۔ ان کی گزر اوقات بڑی مشکل سے ہوتی کیونکہ مستبصر صاحب ٹیوشنز
(tuitions)
پڑھانے کے سخت خلاف تھے۔ وہ کہتے، ’’میں اپنا فرض بخوبی نبھا آتا ہوں اور میرے طُلبا ء کو ٹیوشن کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انھوں نے ایک پرانا ویسپا
(vespa)
رکھا ہوا تھا جو سٹار ٹ
(start)
ہونے میں آدھا گھنٹہ لگاتا۔ کئی دفعہ ان کا ٹخنہ بھی زخمی ہوا اور اس پر کمال یہ کہ جب کولیج (کالج) کی پارکنگ میں جاکرکے کھڑا کرتے تو طُلباء اس کے دونوں پہیوؤں کی ہوا بھی نکال دیا کرتے اور مستبصر صاحب اپنے اصولوں کا جنازہ نکلتے دیکھتے اور خون کے آنسو روتے۔ لیکن مجال ہے جو ٹس سے مس ہوں۔ سکوٹر کو گھسیٹتے گھسیٹتے دوکان تک لاتے۔ ایسا کئی دفعہ ہوا۔ گھر دیر سے آمد پر بیگم کی ڈانٹ بھی سننی پڑتی۔ وہ تو مستنیر کو بھی سختی سے منع کرتے کہ بیٹاٹیوشنز
(tuitions)
مت پڑھایا کرو۔ طُلباء کو خود پڑھناچاہیے۔ کولیجز
(colleges)
اور مدرسے کس لیے ہوتے ہیں۔ وہ شاید اس بات سے نابلد تھے کہ سارے اساتذہ ان کی طرح نہیں ہوتے۔ مستبصر صاحب کی زندگی تکالیف سے بھرپور ضرور تھی لیکن وہ ذہنی طور پر بڑے پُرسکون تھے۔ ان کا ضمیر کبھی بھی ملامت نہ کرتا۔ سچے اورکھرے آدمی تھے۔
ژ
لائبہ کی ماں اطالوی تھی اور باپ پاکستانی۔ اُس میں دونوں ملکوں کی خوبصورتی کے عناصر اس طرح عیاں تھے جس طرح جینیٹک
(genetics)
میں ڈومیننٹ(dominants)
اور ریسیسو
(reccesives)
کا چکر ہوتا ہے۔ اطالوی اور پاکستانی حُسن دونوں ڈومیننٹ
(dominant)
تھے۔ بال گھَنے کالے اور لمبے، جنھیں اس نے آجکل ڈائی کیا ہوا تھا۔ لیکن اب کچھ کچھ اصلی رنگ کے بال نکلنے شروع ہوگئے تھے۔ بلونڈ
(blonde)
اور بلیک
(black)
کی ایک عجیب آمیزش لگتی تھی۔ بالکل ایسا لگتا تھا جیسے آپ شیور مرغی کے چوزے لاکر پالیں تو شروع میں بہت پیارے لگتے ہیں لیکن جب ان کے نئے پر نکلتے ہیں تو وہ عجیب سے لگنے لگتے ہیں۔ رنگ گندمی، ناک اتنی خوبصورت جیسے کسی سنگ تراش نے خوبصورتی سے تراشی ہو، آنکھیں نیلی، قد درمیانہ، جسامت اتنی متناسب کہ ہر چیز اپنی اپنی جگہ ٹھیک تھی۔ اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتی تھی اس کی خوبصورت ہنسی، ایسی تھی جیسے کلیاں کھل اُٹھتی ہوں۔ غصہ تو اس کے چہرے پر جچتا ہی نہیں تھا۔ لائبہ کی عمر بیس سال کے لگ بھگ تھی لیکن چہرے مہرے سے سولہ سال کی لگتی۔ اسے دوہی شوق تھے، سوئمنگ
(swimming)
اورسکیئنگ
(skiing)
۔ سکیئنگ
(skiing)
کے لیے پاکستان میں دو ہی ریزوٹس
(resorts)
تھے، ایک مالم جبہ اور دوسرا گلگت سے تھوڑا دور نلتر، اس لیے وہ سوئمنگ پر ہی اکتفا کرتی۔ ویسے بھی اُسے چند سالوں میں امریکہ چلے جانا تھا۔ وہاں بیشمارجگہوں پر سکیئنگ
(skiing)
کرسکتی تھی۔ لائبہ کو جرمنی، اٹلی اور حتیٰ کہ پاکستان میں بھی کئی جگہوں سے موڈلنگ
(modeling)
کی آفر ز
(offers)
ہوئیں لیکن اس نے ہمیشہ انکار کردیا۔ حالانکہ یورپین لڑکیاں تو چانس کی تلاش میں رہتی ہیں۔ خاص کر اطالوی لڑکیاں، ہر لڑکی خود کو ماڈل
(model)
ہی تصور کرتی ہے۔
لائبہ جب سے پاکستان آئی تھی بیشمار لڑکے اسے اپروچ
(approach)
کرنیکی کوشش کرتے لیکن کوئی بھی اُسے متاثر نہ کرسکا۔ ایسا بہت کم دیکھنے میںآیا ہے کہ لڑکی خوبصورت، سمارٹ اور سمجھدار ہو۔ یہ تمام خوبیاں ایک ساتھ کم ہی دیکھنے میں آتی ہیں۔ لائبہ نہ صرف خوبصورت، سمارٹ اور سمجھدار تھی بلکہ بلا کی ذہین بھی تھی۔ اینتھروپومورفزم (
anthropomorphism)
اس کا پسندیدہ مضمون تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ایتنھروپولوجی
(anthropology)
سے بھی لگاؤ رکھتی تھی۔
لائبہ کو پاکستان میں ان چند سالوں میں اگر کوئی شخص متاثر کرسکا تو وہ تھا مستنیر۔ ایک ایسا شخص جو کسی کی دولت سے متاثر نہیں ہوتا۔ اور واحد شخص تھا جس کی ذہانت کی لائبہ بھی قائل ہوگئی حالانکہ وہ اتنی جلدی شکست ماننے والی نہ تھی۔ دونوں قریباً ہم عمر ہی ہوں گے۔ مستنیر قد لمبا ہونے کی وجہ سے ذرا عجیب سا لگتا تھا جسے عرفِ عام میں بے ڈھنگا کہہ لیجئے۔ لیکن دِکھنے میں برا نہیں تھا۔ داڑھی اور بال بڑھائے رکھتا۔ داڑھی تو کبھی کبھی مونڈ لیا کرتا لیکن بال کٹوانے کے لیے اس کے پاس فرصت ہی نہیں تھی۔ یونیورسٹی میں ایک ہی شخص تھا جس سے اس کی انڈرسٹینڈنگ
(understanding)
تھی، وہ تھے احمد حسن دانی۔ دانی صاحب کے سامنے مستنیر چپ ہوجاتا ورنہ وہ کسی کو بولنے ہی نہ دیتا۔ اور دوسری شخصیت جس نے مستنیر کو متاثر کیا وہ تھی لائبہ۔ اس کی وجہ لائبہ کی حاضر جوابی، بولڈنیس اور خوبصورتی بھی۔ یونیورسٹی کے تمام لڑکے سینئر
(senior)
، جونیئر
(junior)
حتیٰ کہ پروفیسر حضرات بھی اس تاڑ میں ہوتے کہ کوئی بھی طریقہ ہاتھ آجائے کہ لائبہ سے فلرٹ
(flirt)
کرسکیں۔ لیکن وہ ایسا منہ توڑ جواب دیتی کہ خدا کی پناہ۔ جبکہ مستنیر کے وہ پیچھے پھرتی۔
لائبہ کو مستنیر سے پیار ہوگیا تھا لیکن اظہار نہیں کرسکتی تھی۔ اس لیے نہیں کہ وہ ڈرپوک تھی یا اُس کے اندر اتنی جرأت نہیں تھی۔ حقیقت میں وہ ٹھیک سے فیصلہ نہیں کرپا رہی تھی کہ جو وہ محسوس کررہی ہے وہ انفیچوئیشن
(infatuation)
ہے، محبت یا عشق۔ دوسری طرف مستنیر کا بھی یہی حال تھا۔ دونوں کا مینٹل لیول
(mental level)
اتناہائی
(high)
تھا کہ وہ بھونڈے انداز سے آئی لو یو
(I love you )
کہنا نہیں چاہتے تھے۔ اس محسوسات عمل میں کافی مدت گزر گئی لیکن ان کا عشق کوئی جامہ زیب تن نہ کرسکا۔ژ
’’تو آپ ہیں مستنیر‘‘،
زہاب ہنجرال نے بڑے تکبرانہ لہجے میں کہا۔
مستنیر اس جملے کے لیے تیا ر نہیں تھا اس لیے اس نے سنبھلتے ہوئے جواب دیا،
’’جی مجھے ہی مستنیر سوری کہتے ہیں‘‘
ابھی گفتگو کا آغاز ہی ہوا تھا کہ لائبہ نے ایک اور دھماکہ کردیا،
’’پاپا میں اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں اور شاید یہ بھی‘‘،
مستنیر کومخاطب کرتے ہوئے،
’’کیوں مستنیر‘‘
’’اس میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن میں باضابطہ طور پر اپنے والدین کو لاؤں گا۔ وہ بات چیت کریں گے‘‘، مستنیر نے جواب دیا۔
زہاب صاحب کو تو ایسا لگا جیسے کسی بچھو نے ڈس لیاہو۔ چونکہ ان کی بیٹی یورپ میں پیدا ہوئی تھی وہیں پلی بڑھی تھی اس لیے انھوں نے اپنے اعصاب پر قابو پاتے ہوئے بڑی متانت سے کہا،
’’ٹھیک ہے بیٹا! آپ اپنے والدین کو جب چاہیں لاسکتے ہیں‘‘
’’پاپا اس کی کیا ضرورت ہے۔ شادی میں اور یہ کرنا چاہتے ہیں اور ویسے بھی آئی ایم اُوَّر ایٹین
(I am over eighteen)۔
مجھے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت تو نہیں، میں تو ویسے ہی آپ کو بتا رہی تھی‘‘۔
’’یہ ٹھیک ہے بیٹا کہ آپ بڑی ہوگئی ہیں لیکن ہر چیز کا کوئی قائدہ اور قانون ہوتا ہے۔ ہماری کوئی نورمز
(norms)
اور ٹریڈیشنز
(traditions)
ہیں۔ ہمیں اپنی اقدار کو تو نہیں بھولنا چاہیے‘‘
مستنیر نے لقمہ دیا،
’’لائبہ آپ کے ابو ٹھیک کہتے ہیں‘‘
’’مستنیر تمہارے اندر تو آج تک اتنی جرأت پیدا نہیں ہوئی کہ مجھے اپنے گھر والوں سے ملواسکو یا اس قسم کی کوئی بات کرسکو۔ اس لیے مجھے ہی قدم آگے بڑھانا پڑا‘‘
’’میں جانتا تھا لیکن میں سوچتا تھا شاید میرا وہم ہو‘‘
’’سیم واز دا کیس ود می‘‘
(same was the case with me)
زہاب صاحب نے گفتگو کا رنگ بدلنے کے لیے کہا،
’’بیٹا ماسٹرز
(masters)
کرنے کے بعد کیا ارادہ ہے‘‘
’’جی پی ایچ ڈی
(Ph.D)
کرنے کا ارادہ ہے۔ اگر سکالرشپ
(scholarship)
مل گیا تو‘‘
’’ورنہ‘‘
’’ورنہ کوئی ریسرچ ورک
(research work)
یا کوئی بھی جاب
(job)‘‘
’’میرا بھی خیال ہے لائبہ پی ایچ ڈی
(Ph.D)
کر لے تو پھر کوئی حتمی فیصلہ کریں۔ یہ تو امریکہ چلی جائے گی‘‘
’’اچھا انکل یہ تو امریکہ چلی جائے گی اور میں اگر گھر وقت پر نہ پہنچا تو میری امی جان کی جان نکل جائے گی۔ اس لیے مجھے اجازت دیجئے‘‘
اس نے زہاب صاحب سے ہاتھ ملایا۔ لائبہ اسے دروازے تلک چھوڑنے آئی۔ لائبہ کا گھر بہت خوبصورت تھا لیکن مستنیر کا فلسفہ تھا کہ گھر انسانوں سے خوبصورت ہوتے ہیں جو اُن میں رہتے ہیں۔ گھر خوبصورت نہیں ہوتے اس لیے اسے کروڑ پتی شخص کے اس کروڑ وں روپے کے گھر میں رہنے والی لائبہ پسند تھی نہ کہ اس کا گھر۔
ژ
زہاب صاحب سیاست میں قدم رکھنا چاہتے تھے اور وہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتے تھے کہ جس سے ان کی سیاسی زندگی پر (جو انہوں نے شروع کرنے کا ابھی سوچا ہی تھا) کوئی دھبہ لگے۔ ورنہ مستنیر کو تو وہ دو منٹ میں راستے سے ہٹا سکتے تھے اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ یہ انفیچوئیشن
(infatuation)
ہے یا ہوسکتا ہے جنسی تلذذ، جو کہ اکثر اسعمر میں ہوجاتا ہے۔ یہ کام انہیں کافی مشکل لگ رہا تھا کیونکہ مستنیر نہ تو ان کی دولت سے مرعوب ہوا تھا نہ گھر سے۔ اس لیے انہیں یقین تھا کہ وہ مستنیر کو دولت سے نہیں خرید سکتے نہ ہی کسی قسم کا لالچ دیکر اُسے بیٹی کے راستے سے ہٹا سکتے ہیں۔ نہ وہ اپنی بیٹی پر زو ر یا زبردستی کرسکتے تھے۔۔۔
اب ان کے پاس ایک ہی صورت بچی تھی کہ وہ اپنی بیٹی کے پیار کے سامنے ہتھیار ڈال کر اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کردیتے۔ اور سیاست تو ایک ایسا نشہ ہے اس کے لیے لوگ بیٹی کے پیار کے آگے ہتھیار پھینکناتو چھوٹی بات ہے اپنی بیٹی کو اغوا کروانے اور اس کی عزت لٹوانے تک کو تیار ہو جاتے ہیں۔ اب زہاب صاحب اس لَو سٹوری کو قانونی شکل دیکر اپنی سیاسی زندگی کے آغاز میں ہی ایک مثال قائم کرنا چاہتے تھے کہ وہ تمام انسانی تفرقات سے مبراء اور پاک ہیں۔ مستنیرمالی لحاظ سے کم تر تھا لیکن علم کی دولت سے مالامال تھا۔ آگے چل کے ان کی مدد بھی کرسکتا تھا۔ زہاب صاحب نے اپنے دل کو راضی کرنے کے لیے بے شمار شگفتہ وجوہات ڈھونڈ لی تھیں۔۔۔
مستبصر صاحب اور ان کے گھر والوں کے لیے یہ خبر کسی ایٹم بم
(atom bomb)
سے کم نہ تھی کہ ان کا بیٹا شادی کرنا چاہتا ہے۔ اور وہ بھی ایک ایسی لڑکی سے جس کا باپ بزنس ٹائیکون
(business tycoon)
ہے۔
’’بیٹا ایسی شادیاں کامیاب نہیں ہوتیں‘‘
’’ابا! اب دور بدل چکا ہے‘‘
’’بیٹا میں جانتا ہوں کہ تم پڑھے لکھے ہو، اپنا برا بھلا خود سوچ سکتے ہو لیکن زندگی، میتھمیٹک
(mathematic)
اور اینتھروپومورفزم
(anthropomorphism)
جو تم کتابوں میں پڑھتے ہو، اس سے کہیں زیادہ مختلف ہے۔ مجھے اس بات پر اعتراض نہیں کہ تم شادی کرنا چاہتے ہو اور نہ ہی اس شادی پر اعتراض ہے۔ میں تو تمہیں سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں کہ تمہیں تکلیف میں دیکھ کر ہماری زندگی بھی کرب میں گزرے گی۔ تمہیں سیدھے لفظوں میں بتاتا ہوں کہ یہ شادی بے جوڑ ہے اور ہوگی۔ ایسا تو نہیں تمہیں دولت کالالچ ہے‘‘
’’ابا اگر مجھے دولت کا لالچ ہوتا تو اس کے اور بھی بہت سارے طریقے تھے اور ویسے بھی اگر دولت خوشیاں لاسکتی تھی تو دنیا کے تمام امیر لوگ خوشحال زندگی بسر کررہے ہوتے۔ میں لائبہ کو صرف اس لیے پسند کرتا ہوں کہ اس کی شخصیت میں اس طرح کی کوئی بات نہیں‘‘
’’بیٹا تعلیم مکمل کرنی ہے یا اسے بھی ادھورا چھوڑ دو گے‘‘
’’ابا ہماری حالت لیلیٰ مجنوں جیسی نہیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کریں گے‘‘
’’بیٹا میں چاہتا ہوں کہ تم ڈاکٹریٹ کرلو۔ میرے خیال میں انیتھروپومورفزم میں کم ہی لوگوں نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ مجھے خوشی ہوگی اگر تم اس فیلڈ میں آگے جاؤ اور تمہیں مستقبل میں محمد علی جناح یونیورسٹی میں جاب بھی مل جائے‘‘
’’ابا! میرا بھی کچھ ایسا ہی ارادہ ہے۔ دیکھئے خدا کو کیا منظور ہے‘‘
’’بیٹا تم سے کتنی دفعہ کہا کہ خدا فارسی کا لفظ ہے اس لیے اللہ نے چاہا یا اللہ کو جو منظور ہوا کہا کرو‘‘
’’اچھا ابا! لیکن خدا، معاف کیجئے گا اللہ لفظوں کا محتاج نہیں‘‘
’’اچھا بیٹا! اب میں تم سے بحث میں نہیں پڑنا چاہتا۔ میں چلتا ہوں مجھے کام ہے۔ اللہ حاف٭۔۔۔
لائبہ نے گاڑی گلی کی نکڑ پر روکتے ہوئے کہا،
’’مستنیر اگر یہ گلیاں صاف ستھری ہوں تو بالکل ایسا لگتا ہے جیسے آپ ریجو کلابریاء
Reggio Calabria
کے کسی چھوٹے سے شہر میں گھوم رہے ہوں‘‘
مستنیر نے متحیرانہ انداز میں پوچھا،
’’تو کیا آریہ محلے کی گلیاں اٹلی کے گلی محلوں جیسی ہیں۔ یہ تو بڑے فخر کی بات ہے‘‘
لائبہ، مستنیر کے طنز بھرے، متحیرانہ انداز کو بھانتے ہوئے کہنے لگی،
’’مجھے یقین تھا کہ تم میرے اس تقابلی موازنے کو طنزیہ رنگ دوگے‘‘
مستنیر نے خفت مٹاتے ہوئے کہا،
’’ارے بھئی میں تو‘‘
’’بس بس میں تو‘‘،
لائبہ نے یہ کہہ کر بحث کا اختتام کردیا۔ دونوں چلتے چلتے مستنیر کے گھر تک پہنچے۔ لائبہ چلتے چلتے گلی کا معائنہ کررہی تھی۔ کہیں گاڑیاں کھڑ ی تھیں، کہیں بھینسیں بندھی تھیں۔ مستنیر نے دروازہ کھولا۔ گو کہ گھر پرانا تھا لیکن صاف ستھرا۔ مستنیر کی امی پرانے طرز کی خاتون تھیں لیکن انھوں نے لائبہ کا بڑے تپاک سے استقبال کیا۔ نہ ہی مستنیر کے ننھیال میں نہ ہی ددھیال میں اتنی خوبصورت لڑکی تھی۔ وہ تصور ہی تصور میں لائبہ کو بہو کے روپ میں دیکھنے لگیں۔ اسی اثناء باہر سکوٹر کے رکنے کی آواز آئی۔ مستبصر صاحب داخل
ہوئے۔ لائبہ نے جھک کر سلام کیا۔ انھوں نے کہا، ’’جیتی رہو۔ بیٹا کیسا لگا ہمارا محلہ‘‘
’’یہ بہت اچھا ہے‘‘،
لائبہ نے اپنائیت سے جواب دیا۔
’’ارے بھئی بیگم کھانے پینے کا انتظام کرو۔ ہاں تو بیٹا آپ اینتھروپومورفزم anthropomorphism)
پڑھ رہی ہیں‘‘
’’جی انکل‘‘
’’ارے بھئی یہ انکل ونکل مت کہو۔ ہمیں اپنے بڑھاپے کا احساس ہونے لگتا ہے‘‘
’’چلیں میں آپ کو سر
(sir)
کہہ لیتی ہوں‘‘
’’اس سے بھی غلامی کی بو آتی ہے۔ اس سے اچھا تو انکل ہی ہے۔ خیر بیٹا کچھ اپنے بارے میں بتائیں، آپ لوگ کیا شروع سے اسلام آباد میں رہ رہے ہیںیا آپ بھی ہماری طرح ہجرت کرکے آئے ہیں‘‘
’’انکل میرا خیال ہے مستنیر نے حسبِ عادت آپ کو کچھ نہیں بتایا ہوگا، کیونکہ وہ ان چیزوں کو ضروری نہیں سمجھتا‘‘
’’بیٹا ضروری تو میں بھی نہیں سمجھتا لیکن چونکہ آپ پہلی دفعہ گھر پر آئی ہیں، گفت و شنیدتو ہونی چاہیے‘‘
’’انکل میرے والد صاحب پنجاب کے رہنے والے ہیں اور میری امی اٹالین ہیں۔ میری پیدائش جرمنی کی ہے‘‘
’’بیٹا آپ تو بڑی اچھی اُردو بول لیتی ہیں‘‘
’’ابا! یہ جرمن، انگریزی اور اٹالین بھی بڑی روانی سے بولتی ہے‘‘
لائبہ کو مستنیر کی والدہ کا چائے پیش کرنے کا انداز بہت پسند آیا۔ صحن کے وسط میں انھوں نے لکڑی کا بہت خوبصورت میز رکھا۔ اس پر سفید رنگ کا سوتی رنگین دھاگوں سے کڑھا ہوا میزپوش اور چائے کی پیالیاں انھوں نے تانبے کی خوبصورت اور منقش ٹرے، ایک ایک کرکے سب کے سامنے رکھیں۔ پکوڑے، سموسے، شامی کباب، چٹنی۔ یہ سب لوازمات دیکھ کر لائبہ کے منہ میں پانی بھر آیا۔ اسے خود پر رشک آنے لگا کہ اسے کتنی عزت و تکریم دی جارہی ہے۔ وہ اب تک اے کلاس
(a class)
زندگی گزارتی آئی تھی۔ لیکن گھر جسے گھر کہتے ہیں جو اینٹوں سے نہیں بنتا بلکہ انسانوں سے بنتا ہے، وہ صحیح معنوں میں پہلی دفعہ دیکھ رہی تھی۔ وہ مستنیر کی والدہ کی دلی کیفیت کا اندازہ تو نہیں لگاسکتی تھی کہ وہ اسے کس نظر سے دیکھ رہی تھیں۔
ابھی وہ اسی طائرانہ جائزے میں مصروف تھی کہ مستنیر کی امی نے سکوت توڑا، ’’بیٹاامی کوساتھ نہیں لائیں‘‘
’’جی وہ یہاں نہیں ہوتیں‘‘
’’تو کہاں ہوتی ہیں‘‘
’’جی جرمنی‘‘
مستنیر نے ماں کو سمجھاتے ہوئے کہا، ’’ماں و ہ وہاں کاروبار کی دیکھ بھال کرتی ہیں اور اس کے ابو یہاں‘‘
مستنیر کی امی کو بات سمجھ نہ آئی۔ اس سے پہلے کہ وہ مزید کوئی سوال کرتیں لائبہ نے اجازت طلب کی۔ سب نے بہت اصرار کیا کہ کچھ دیر اور رُک جاؤ، لیکن وہ نہ مانی۔ ’’اچھاانکل اور آنٹی! اب اجازت دیجئے۔ آپ لوگوں سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ اب میں چلتی ہوں‘‘
ژ
مستنیر کا سکالرشپ
(scholarship)
منظور نہ ہوا ور لائبہ پی ایچ ڈی
(PHD)
کرنے کے لیے امریکہ چلی گئی۔ اس نے مستنیر کی بہت منت سماجت کی کہ وہ اس کی بھی فیس ادا کردے گی۔ حتیٰ کہ ہنجرال صاحب نے بھی کئی دفعہ کہا، لیکن وہ نہ مانا۔ وہ مڈ ل کلاس کا ضرور تھا لیکن بہت زیادہ خوددار۔ اگر مستبصر صاحب سفارش کرتے تو شاید کام بن جاتا لیکن مستنیر کو اور نہ ہی مستبصر صاحب کو سفارش پسند تھی۔ مستنیر نے پاکستان میں ہی اینتھروپومورفزم میں ایم فِل کرنے کا ارادہ کرلیا۔ جبکہ لائبہ کو اس نے انتہائی حوصلہ افزائی کے ساتھ لیکن دکھی دل سے رخصت کردیا تھا۔ دونوں روز ایک دوسرے کو ای میلز
(emails)
کرتے، میسینجر
(messenger)
پر چَیٹ
(chat)
کرتے، خط لکھتے، فون کرتے لیکن باتیں تھیں کہ ختم ہی نہیں ہوتی تھیں۔ آہستہ آہستہ ای میلز (
emails)
کم ہونے لگیں۔ لائبہ اور مستنیر ایک دوسرے کو کم ہی آون لائن
(on line)
ملتے اور خط و کتابت میں بھی کمی واقع ہوگئی۔ مستنیر ایم فِل
(M.Phil)
میں بھی زیادہ توجہ نہ دے سکا لیکن تین سال میں وہ ایم فِل
(M.Phil)
مکمل کرگیا۔ اسے یونیورسٹی میں جاب کی آفر ہوئی اس نے منظور کرلی۔ اچانک اسے خبر ملی کہ لائبہ واپس آرہی ہے۔ وہ دل ہی دل میں خوش تھا۔ لیکن سوچتاتھا کہ لائبہ کے ساتھ تھوڑی سی رنجش کیوں پیدا ہوگئی، وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ؂
’’تعلق اس طرح سے توڑا نہیں کرتے
کہ پھر سے جوڑنا دشوار ہو جائے‘‘
بات کچھ بھی نہیں تھی۔ بس ضد تھی۔ چونکہ لائبہ نے میلز
(mails)
کے جوابات دیر سے اور بعد میں بالکل ہی کم کردیئے تھے۔ ان باتوں سے مستنیر کا دل کھَٹا ہوگیا تھا۔ وہ اس طرح کا نہیں تھا کہ ؂
قطع نہ کیجئے تعلق ہم سے
کچھ نہیں تو عداوت ہی سہی غالبؔ
اپنے وقار، پریسٹیج
(prestige)
کو گرانا پسند نہیں کرتا تھا۔ اس لیے اس نے بھی کج ادائی اور بے رُخی کا جواب اسی انداز سے دیا جس طرح لائبہ کا رویہ تھا۔ حتیٰ کہ وہ اسے ایئر پورٹ پر ریسیو
(recieve)
کرنے بھی نہ گیا۔ بڑی مشکل سے دل پر پتھر رکھ کے اس نے لائبہ کو فون کیا۔ اس نے بڑی بے تکلّفانہ انداز میں جواب دیا۔ مستنیر سے بات چیت کی۔ اگلے دن وہ یونیورسٹی میں موجود تھی۔ اب مستنیر ایک طالب علم نہیں بلکہ پروفیسر تھا۔ لائبہ کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ خوبصورتی ماند پڑچکی تھی۔ صحت پہلے سے بہت بری۔ پہلے تو وہ اسے پہچان ہی نہ سکا لیکن آواز سے اس نے پہچان لیا۔ بڑی یاسیت سے دیکھ کر کہنے لگا، ’’لائبہ یہ کیا‘‘
’’تمہاری جدائی برداشت نہ کرسکی اس لیے ایسی ہوگئی ہوں‘‘
’’امریکہ کی یاترا کیسی رہی‘‘
’’اچھی، لیکن جلد ہی جرمنی جارہی ہوں۔ تھوڑی سی زندگی جو باقی بچی ہے وہاں گزاروں گی‘‘
’’کیا مطلب‘‘
’’مجھے بلڈ کینسر
(blood cancer)
ہے‘‘
’’لائبہ تم انتہائی ذلیل اور کمینی ہو۔ تم نے مجھے بتایا تک نہیں۔ تم نے مجھے اتنا گھٹیا سمجھ رکھا تھا کہ تمہاری خوبصورتی یا دولت پر مرتا ہوں‘‘
’کاش تم اس طرح کے ہوتے تو میں تمہیں بتا بھی دیتی۔ لیکن افسوس تو اس بات کا ہے کہ تم اس طرح کے نہیں ہو‘‘
’’اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ میرا مطلب ہے امریکہ یا جرمنی میں‘‘
’’اگر ہوتا تو میرے والد صاحب اتنے مایوس نہ ہوتے۔ ویسے میں چند دنوں میں جرمنی جارہی ہوں۔ ابو میرے ساتھ جائیں گے‘‘
’’تو پاکستان آنے کی کیا ضرورت تھی۔ امریکہ سے جرمنی چلی جاتیں‘‘
’’مجھے نہ جانے کیا چیز کھینچ لائی۔ مرنے سے پہلے تمہیں دیکھنا چاہتی تھی‘‘
’’اس کا مطلب ہے جینیٹیکلی
(geneticaly)
تم اب بھی ایشیئن
(asian)
ہو‘‘
’’اگر میں پوری نہیں، آدھی تو بائیلوجیکلی ایشیئن
(biologicaly asian)
ہوں‘‘
’’کاش لائبہ میں تمہارے ساتھ امریکہ چلا جاتا۔ ہوسکتا ہے تمہیں بلڈ کینسر
(blood cancer)
نہ ہوتا۔ میں بھی کتنا بیوقوف ہوں، میں خود اپنے اصولوں کے بلند و بالا قلعے میں مقید ہوگیا‘‘
’’مستنیر جو ہونا ہوتا ہے وہ ہوکے رہتا ہے۔ تم سناؤ، تمہاری پروفیسری کیسی جارہی ہے‘‘
’’ابھی تو لیکچرر ہوں‘‘
’’تمہاری ٹوکنے کی عادت ابھی تک نہیں گئی‘‘
’’اور تمہاری بھی غلط اُردو بولنے کی عادت ابھی تک نہیں گئی‘‘ دونوں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔۔۔
زہاب ہنجرال اور لائبہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر کھڑے اپنی فلائٹ کا انتظار کررہے تھے۔ ہنجرال صاحب بار بار اپنی جیب سے نکا ل کر اپنا پاسپورٹ دیکھتے۔ شاید سوچ رہے تھے، اس لال پاسپورٹ نے انہیں کتنا دکھ دیااور اب کہ وہ اپنی اکلوتی بیٹی کو یورپ دفن کرنے جارہے تھے۔ کیونکہ جرمنی میں اُس کی ماں بھی تھی۔
جہاز میں بیٹھتے ہی ہنجرال صاحب کو ایسا لگا جیسے پہلی دفعہ اپنا ملک چھوڑ رہے ہوں۔ اُن کی حالت ایسی تھی نہ زندہ تھے نہ مردہ۔ بار بار اپنی بیٹی کو دیکھتے۔ اب تو لائبہ کے خوبصورت بال بھی جھڑنے شروع ہوگئے تھے۔ اگر غور سے دیکھیں تو گنجی لگتی تھی۔
فرینکفرٹ ایئر پورٹ
(Frankfurt airport)
پے پہنچتے ہی انھوں نے لائبہکے لیے تمام حفاظتی اقدامات کئے اور لائبہ کو جلدی ہی ہسپتال داخل کردیا۔ اب سبرینا اور زہاب زیادہ سے زیادہ وقت لائبہ کے پاس ہی گزارتے۔ دن گزرتے جارہے تھے اور لائبہ کی موت قریب آتی جارہی تھی۔ زہاب ہنجرال اور سبرینا مارینی
(Sabrini Marini)
اتنی دولت کما چکے تھے اور کما رہے تھے کہ ان کی سات نسلیں آرام سے کھا سکتی تھیں۔ لیکن وہ اپنی بیٹی کو نہیں بچا سکتے تھے۔ آہستہ آہستہ لائبہ کی حالت اور صحت بہت خراب ہونے لگی۔
ہنجرال صاحب، جن کا سر اور گردن ہر وقت تکبر سے اکڑی رہتی تھی، اب عاجزی و انکساری سے جھک گئی تھی۔ لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے والے، غریبوں کا مال کھانے والے، مزدوروں کا خون نچوڑنے والے ہنجرال صاحب اپنے کریڈٹ کارڈز اور پاسپورٹ کو دیکھتے اور احساس کرتے کہ یہ میں نے کیاکیا۔ جیسے جیسے دن قریب آرہے تھے ہنجرال صاحب کی حالت غیر ہوتی جارہی تھی۔ جب چند دن رہ گئے تو ہنجرال صاحب دیواروں سے ٹکریں مارنے لگے، رونے لگے، پیٹنے لگے۔ حالت تو سبرینا (
Sabrina)
کی بھی خراب تھی لیکن وہ خود کو سنبھالے ہوئے تھی اور وہ ذہنی طور پر مصروف بھی تھی۔ کیونکہ ہسپتال میں بھی وہ لَیپ ٹوپ
(laptop)
اور موبائیل
(mobile)
کے ذریعے اپنے کاروبار کی پل پل کی خبر لے رہی تھی۔
آخری دن ہنجرال صاحب نے اپنے پاسپورٹ اور کریڈٹ کارڈز
(credit cards)
کو آگ لگا دی اور منہ میں کچھ بڑبڑاتے ہسپتال سے باہر نکل گئے۔ زہاب ہنجرال صاحب ذہنی توازن کھو بیٹھے تھے اور سبرینا مارینی
(Sabrina Marini)
پِتسا میلان
(Pizza Milan)
کے نئے پارٹنر
(partner)
کے ساتھ رہنے لگی تھی۔

سرفراز بیگ، اریزو، اٹلی


عبدل حمید مانگھڑ، میرے افسانوی مجموعے کلندستینی سے ایک افسانہ



عبدل حمید مانگھڑ

عبدل حمید مانگھڑ بہتریں اٹالین کوٹ پتلون اور ٹائی باندھے ایک سر کاری تقریب میں بالکل شہزادہ لگ رہا تھا۔اور ساتھ ساتھ اس کا سیکرٹری جسے وہ منشی کہتا تھا۔ چند ہی ماہ پہلے عبدل حمید مانگھڑ ایم این اے کا الیکشن جیتا تھا۔اس نے الیکشن کیمپین
(CAMPAIGN)
میں پیسہ پانی کی طرح بہایا تھا۔ ویسے بھی سرگودھے کے جس گاؤں سے وہ تعلق رکھتا تھا، وہاں اْس سے زیادہ زمین کسی کی نہ تھی۔ لیکن وہ ’’مارے‘‘(اطالوی زبان میں مارے سمندر کو کہتے ہیں) لگانے والی بات کبھی نہ بھولتا۔ تقریب میں رنگ رنگ کے لوگ جمع تھے۔ ایک نہایت ہی خوبصورت عورت کے پاس جاتے ہی مانگھڑ نے گپ شپ لگانی شروع کردی۔مانگھڑ کا اردو بولنے کا انداز بڑا دلنشیں تھا لیکن ابھی وہ چند باتیں ہی کرپایا تو اس کے منہ سے غیرارادی طور پہ نکل گیا، ’’جدوں اسی ول مارے لاندے ساں‘‘ (یعنی جب ہم سمندر یا دریا کے کنارے سامان بیچا کرتے تھے۔اطالوی زبان میں ’’مارے‘‘ سمندر یا دریاء کو کہتے ہیں) سیکریٹری (بقول مانگھڑ کے منشی) نے ٹھوکا لگایا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ’’مارے لگانا‘‘ کیا ہوتا ہے۔ مانگھڑ میں بس یہی ایک نقص تھا اور دوسرا نقص جسے آپ نقص تصور نہیں کرسکتے کیوں کہ جس کلاس میں وہ داخل ہوچکا تھا اْس کلاس میں اسے نقص نہیں تصور کیا جاتا، وہ تھاشراب پینا۔مانگھڑ کے لیئے یہ نقص اور نقصان اس لیئے تھا کیونکہ وہ نشے میں اْول فْول بکتا تھا اور اس کے سیکریٹری کو ڈر تھا کہ کسی کو مانگھڑ کی اوقات نہ پتا چل جائے۔ اِس کے علاوہ مانگھڑ بے شمار خوبیوں کا مالک تھا۔ معلومات عامہ میں اس کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ اس نے اپنی زندگی میں کئی سال فارغ اوقات میں ڈائجسٹ پڑھ پڑھ کر گزارے تھے۔ اردو لکھنا نہیں جانتا تھا لیکن پڑھنا ور بولنا وہ جانتا تھا۔اطالوی زبان کا تلفظ و لب و لہجہ اتنا اچھا کہ اگر آپ اس کا چہرہ نہ دیکھ رہے ہوں تو ایسا لگے گا جیسے کوئی اطالوی آپ سے مخاطب ہے۔مانگھڑ کو ادب پے اچھا خاصہ ملکہ حاصل تھا۔ کئی شعراء کرام کے اشعار بلکہ پوری پوری غزلیں اور نظمیں اسے زبانی یاد تھیں۔ مانگھڑ کے ماضی کے بارے میں بڑے کم لوگ جانتے تھے لیکن جب سے وہ سیاست میں داخل ہوا تھا اس کے ماضی کے بارے میں جاننے کا کئی لوگوں تجسس تھا۔ اس کے بارے میں لوگ صرف اتنا جانتے تھے کہ وہ ہیروں کا کاروبار کرتا تھا اور کرتا ہے۔ اب تک اس کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ اس کا سیکریٹری تھا۔ وہ سائے کی طرح اس کے ساتھ رہتا کیونکہ مانگھڑ جب پیتا تو آپے سے باہر ہوجاتا۔اس صورت حال پے قابو پانے کے لیئے اس کا سیکریٹری تھا۔
مانگھڑ قومی اسمبلی میں بڑی جلدی مقبول ہوگیا اس کی ایک وجہ تو اس کی خوش لباسی اور اچھے پرفیومز(perfumes) کا استعمال اور دوسرا اس کی خوش اخلاقی۔ مانگھڑ کی زبان ہی اتنی شیریں اور میٹھی تھی کہ لوگ اس کی طرف کِھچے چلے آتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مائلہ خان کو صحافت کی دنیا میں قدم رکھے ابھی تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ اس کی شہرت آسمان کو چھونے لگی تھی۔ وہ اپنی خوبصورتی اور صنفِ نازک ہونے کا بھرپور فائدہ اٹھاتی۔ ایک تو صحافی کو ویسے بھی کہیں آنے جانے پے پابندی نہیں ہوتی اور دوسرا مائلہ عورت تھی۔
مائلہ نے کئی چونکا دینے والی کہانیاں لکھی تھیں۔ بڑے بڑے شاطر اور کائیاں لوگ اس کے سامنے گھبرا جاتے ۔خدا نے اس کی آنکھوں میں ایسی چمک پیدا کی تھی کہ لوگ اس کی آنکھوں کی چمک دمک میں ہی کھو جاتے۔ جیسے کسی پر اسمِ اعظم پھونک دیا گیا ہو۔آجکل وہ عبدل حمید مانگھڑ کے بارے میں لکھنے کا سوچ رہی تھی۔ چند ایک سیاسی شخصیات نے اسے رشوت بھی پیش کی کہ مانگھڑ کو بے نقاب کرو لیکن اس نے رشوت ٹھکرادی کیونکہ وہ اپنے تجسس کے لیئے مانگھڑ کے بارے میں جاننا چاہتی تھی۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ اتنا سمارٹ، بااخلاق اور خوش لباس ایم این اے الیکٹ
(elect)
ہوا تھا۔ دوسرے ایم این اے ز
(M.N.A'S)
کی طرح مانگھڑ کا پیٹ بالکل نہیں نکلا ہوا تھا۔مائلہ بھی مانگھڑ کی شخصیت سے مرعوب تھی۔ لیکن وہ اس طرح جھمیلوں میں نہیں پڑنا چاہتی تھی۔اس کے سر پے پورے گھر کی ذمہ داری تھی۔ اس کا کوئی بھائی نہیں تھا۔ باپ نشے کا عادی تھا۔ ایک مائلہ تھی جس نے اپنی چھوٹی بہنوں کی شادیاں کرنا تھیں اور گھر کا خرچہ بھی اٹھایا ہوا تھا۔ حتیٰ کہ باپ کے نشے کا ذمہ بھی اسی کے سر تھا۔ ویسے بھی مانگھڑ کی اور اس کی عمر میں بیس سال کا فرق تھا۔
مائلہ نے بڑی مشکلوں سے مانگھڑ کے سیکریٹری سے انٹرویو کا وقت لیا لیکن سیکریٹری نے ایک شرط رکھی کہ انٹرویو اْس کی موجودگی میں ہوگا۔مائلہ مان گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مائلہ جلدی جلدی اپنا پرس ،بال ، کپڑے ساری چیزیں سنوارتی میریوٹ
(MARRIOTT)
کی کافی شاپ میں داخل ہوئی۔ لیکن وہ زیادہ پریشان اس لیئے نہیں تھی کیونکہ سیاسی اور فلمی شخصیات وقت کی پابند نہیں ہوا کرتیں۔ مانگھڑ صاحب اس کے برعکس نکلے۔ وہ وقت مقررہ پے وہاں موجود تھے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مانگھڑ صاحب کو مائلہ کے انتظار میں آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا۔ یعنی مائلہ آدھا گھنٹہ لیٹ تھی۔ ساتھ میں ان کا سیکریٹری دل ہی دل میں مائلہ کو کوس رہا تھا۔ مائلہ نے آتے ہی معذرت کی۔ مانگھڑ ، مائلہ کے احترام میں کھڑا ہوگیا۔مائلہ حیرت و استعجاب سے دیکھنے لگی۔ مائلہ نے گھبراہٹ اور تحیر کے ملے جلے جذبات میں کہا، ’’بیٹھئے مانگھڑ صاحب‘‘۔ مانگھڑ صاحب نے نہایت عاجزی و انکساری سے کہا، ’’پہلے آپ‘‘۔ مائلہ اپنے کپڑے اور پرس سمیٹتے ہوئے بیٹھ گئی۔ اس نے انٹرویو شروع کرنے سے پہلے اپنا سازوسامان دیکھا۔منی ٹیپ ریکورڈر
،پین،کاغذ سب کچھ تھا، بس ایک چیز کی کمی تھی ’’فوٹوگرافر‘‘ وہ ابھی پہنچا نہیں تھا۔ مائلہ نے احتیاطً اپنا موبائیل فون بھی سامنے رکھ دیا کیونکہ کسی لمحے بھی فون آسکتا تھا۔ مانگھڑصاحب نہایت سکون سے یہ ساری سرگرمیاں دیکھتے رہے۔مائلہ نے منی ٹیپ ریکورڈر(mini tape
recorder)
آن
(on)
کرکے سامنے رکھا اور پہلا سوال کیا،
’’آپ کا مکمل نام‘‘
’’عبدل حمید مانگھڑ‘‘
ابھی وہ بمشکل جواب دے ہی پایا تھا کہ سیکریٹری کا موبائیل فون بجنا شروع ہوگیا۔ وہ ہاتھ کے اشارے سے انٹرویو روکنے کا کہہ کر ایک کونے میں فون سننے چلا گیا۔ جلدی سے فون بند کیا۔چہرہ لٹکا کے مانگھڑ صاحب سے مخاطب ہوا،
’’سر میری والدہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ،مجھے جانا ہوگاآپ اس بی بی سے کہیں انٹرویو پھر کبھی سہی‘‘ ۔
’’اچھا باباٹھیک ہے کہہ دونگا ۔ تم جاؤ ،اگر میری ضرورت ہے تو میں بھی چلتا ہوں‘‘۔
’’نہیں نہیں میں سچوئیشن ہینڈل
(situation handle)
کرلوں گا‘‘۔
وہ اتنا کہہ کر چلا گیا۔ مائلہ نے جس ترتیب سے میز پے چیزیں رکھی تھیں دوبارہ سنبھالنے لگی۔ مانگھڑ صاحب بولے، ’’بی بی یہ کیا کر رہی ہیں‘‘۔ مائلہ نے مایوسی اورآزردگی سے کہا،
’’اب انٹرویو نہیں ہوگا‘‘
’’ٹھیک ہے بی بی لیکن کافی تو پیتی جائیں‘‘
’’جی میں کافی نہیں پیتی‘‘
’’ٹھنڈا وغیرہ‘‘
مائلہ کے دماغ میں نہ جانے کیا آیا وہ بیٹھ گئی
’’ٹھیک ہے ٹھنڈا پی لیتی ہوں‘‘
مانگھڑ صاحب نے اپنی علاقائی زبان میں اپنے بوڈی گارڈ
(body guard)
کو پرے جانے کو کہا اور ویٹر کو اپنا سپیشل اوڈر
(special order)
دیا۔
مائلہ دل ہی دل میں سوچنے لگی۔ مانگھڑ صاحب نے یقیناًمیریوٹ
(marriott)
میں کمرہ ریزرو
(reserve)
کروا رکھا ہوگا اور ہوسکتا ہے مجھے کمرے تک جانے کو کہیں اور اس کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔مائلہ کے دماغ میں ہزار قسم کے خیالات اور سوسے جنم لینے لگے۔تھوڑی دیر میں ویٹر نے میز پر مطلوبہ چیزیں سجا دیں اور چلا گیا۔ مائلہ سوچ رہی تھی سوفٹ ڈرنک
(soft drink)
پی کے چلتی بنے گی۔ مانگھڑ صاحب نے سکوت توڑا،
’’بی بی آپ سنا ہے بڑی اچھی صحافی ہیں۔لوگوں کے بارے میں سچ سچ لکھتی ہیں۔ کیا آپ افسانے بھی لکھتی ہیں‘‘
مائلہ کا ہاتھ گلاس کی طرف جاتے جاتے رک گیا۔
’’جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ کبھی کوشش نہیں کی ۔ کبھی فرصت ہی نہیں ملی اور کبھی اس طرف دھیان ہی نہیں گیا۔مانگھڑ صاحب آپ افسانے پڑھتے ہیں‘‘
’’جی میں تو بڑے شوق سے پڑھتا تھا۔ اب فرصت ہی نہیں ملتی‘‘
’’پسندیدہ افسانہ نگار‘‘
منٹو اور جووانی بوکاچو
(GIOVANNI BOCCACCIO) ‘‘
مائلہ پے انگشت بدنداں والی کیفیت تھی ۔اپنی حیرت کو چھپاتے ہوئے کہنے لگی،
’’شاعری بھی پڑھتے ہیں آپ‘‘
’’جی پہلے بہت پڑھا کرتا تھا اب سیاست میں آنے کے بعد بالکل فرصت نہیں ملتی‘‘
’’سیاست میں آنے کی وجہ‘‘
’’گاؤں کے لوگوں کا اسرار اور پیسہ‘‘
’’شوق بالکل نہیں تھا‘‘
’’بالکل نہیں تھا‘‘
مائلہ نے دیکھا مانگھڑ صاحب کی گفتگو اور آواز میں لہر پیدا ہورہی ہے۔ وہ یہ راز سمجھ نہ پائی لیکن ایک بات اچمبھے والی تھی کہ ویٹر تھوڑی دیر بعد ان کے لیئے سوفٹ ڈرنک لاتا۔
’’آپ سیاست میں آنے سے پہلے کیا کرتے تھے‘‘
’’جی میں شروع سے کاروبار کرتا آیا ہوں اور اب بھی کاروبار ہی کرتا ہوں‘‘
’’کیا کاروبار کرتے ہیں ۔۔۔۔آپ‘‘
’’جی ہیروں کا بیوپاری ہوں‘‘
’’شروع سے ہیروں کا کام کرتے ہیں‘‘
’’جی پہلے تو نقلی ہیرے بیچا کرتا تھا۔ اب اصلی‘‘
’’کیا مطلب۔۔۔پہلے نقلی ۔۔۔اور اب اصلی‘‘
’’ول جندوں اسی مارے لاندے ساں(جب ہم دریا یا سمندر کے کنارے چیزیں بیچا کرتے تھے)۔اس وقت میں نقلی ہیرے بیچا کرتا تھانقلی موتیوں کے ہار‘‘
’’میں کچھ سمجھی نہیں۔کہاں بیچا کرتے تھے‘‘
’’شیشیلۂ
(SICILIA) ‘‘
یہ شیشیلیۂ کہاں ہے‘‘
’’بی بی آپ نہیں جانتیں۔اٹلی کا جزیرہ ہے‘‘
’’او! سسلی ۔۔۔۔۔کب؟‘‘
’’بڑی پرانی بات ہے‘‘
’’کتنی پرانی‘‘
’’تیس یا پینتیس سال پرانی‘‘
’’مانگھڑ صاحب ذرا تفصیل سے بتائیں‘‘
’’میں چھوٹا تھا۔ عمر یہی کوئی سولہ یا سترہ سال تھی۔ گھر سے بھاگ گیا۔ مختلف جگہوں سے ہوتا ہوا شیشیلۂ (سسلی) پہنچ گیا۔ وہاں نہ سر چھپانے کی جگہ تھی نہ کھانے کو کچھ تھا۔ ایک آدمی نے سرکنڈوں کے کھلونے بنانے سکھائے۔وہ بنا بنا کے اپنا پیٹ پالنے لگا۔ کبھی اچھی کمائی ہوجاتی کبھی سارا ہفتہ خالی جاتا۔ وہاں میرا نام تیلیوں والا پڑگیا۔ کیونکہ سرکنڈوں کو ہماری زبان میں تیلا بھی کہتے ہیں۔ رفتہ رفتہ اور لوگ بھی آنے لگے اور ہم لوگوں کا بھی گروپ بن گیا۔جسے لوگ تیلی گروپ کہنے لگے۔ زیادہ تر لوگوں کا تعلق میرے پنڈ سے تھا جہاں سے میں تعلق رکھتا ہوں۔ہم نے بڑا مشکل وقت دیکھا ہے۔ وہیں شراپ پینے کی عادت پڑی۔ پہلے ہم شراب کو پیتے تھے۔ اب شراب ہمیں پیتی ہے۔‘‘
’’شراب شروع کرنے کی وجہ‘‘
’’ بی بی چھوٹی عمر تھی۔ ناسمجھی تھی اور سب سے بڑی وجہ لوگوں کے سامنے تیلیوں کے یعنی سرکنڈوں کے کھلونے جاکر بیچنے کا حوصلہ ہی نہیں ہوتا تھا۔ شراب پی کر ہمت بندھ جاتی اور تھوڑی سی شرم بھی کم آتی۔ ورنہ ہوش میں تو ادھ ننگے مرد ، عورتوں کے سامنے جانے کا حوصلہ ہی نہیں ہوتا۔ سرکنڈوں کے کھلونے بیچتے بیچتے میں یعنی ہم نے نقلی موتیوں کے ہار بیچنے شروع کردیئے۔ پھر تو اتنی ٹریننگ
(training)
ہوگئی تھی کہ مٹی بھی بیچ لیا کرتے ۔ دس سال تک یہی کام کرتا رہا۔ پھر اپنے وطن واپس آگیا۔ پکے مکان بنائے۔کچھ رقم بھی پس انداز کرلی۔ زمین بھی خرید لی تھی۔ پھر اچانک دل میں آئی اور ایجنٹ کو پیسے دیئے اور دوبارہ چلا گیا۔ پھر وہیں شیشیلۂ (سسلی) جاکے پھو ل ، ہار، چاندی کی چیزیں بیچنی شروع کردیں۔ ۱۹۸۷ میں اٹلی نے پہلی دفعہ امیگریشن کھولی۔ ہم لوگ لیگل
(legal)
ہوگئے۔ اس کی وجہ سے ہم آ جاسکتے تھے۔ ایجنٹ والے چکر سے جان چھوٹ گئی تھی۔ اس دوران اطالوی زبان پے کافی عبور حاصل ہوچکا تھا۔ ‘‘
’’ادب سے لگاؤ اسی وجہ سے ہے‘‘
’’بی بی ا س کی خاص وجہ ڈائجسٹ ہیں۔ میں تمام قسم کے ڈائجسٹ بڑے شوق سے پڑھتا تھا۔ اٹلی میں ٹرین کا لمبا سفر میں ڈائجسٹ پڑھ کر ہی گزارتا تھا۔ اس کے علاوہ جن دنوں کام کم ہوتا۔ ہماری دو تفریحات ہوتیں۔ڈائجسٹ اور شراب‘‘
’’ہیروں کے کاروبار کی طرف کیسے آئے‘‘
’’آپ کو بتایاہے کہ میں اتنا اچھا سیلز میں بن چکا تھا کہ مٹی بھی بیچ لیا کرتا ۔ اسی دوران میں نے نقلی موتی اصلی کرکے بیچنے شروع کردیئے۔ جب کافی سرمایہ اکھٹا ہوگیا تو میں نے ہیروں کے کاروبار میں قدم رکھا۔ اس دوران میری ملاقات بیلجیئم کے ایک یہودی سے ہوئی جو ہیروں کی تجارت کرتا تھا ۔بس خدا نے میرے دن بدلنے تھے۔ اس نے کہا تم میرے نقلی ہیرے اصلی کرکے بیچا کرو۔ دنیا میں بڑے کم لوگ پتھروں کی جانچ رکھتے ہیں۔ کئی دفعہ ہیرا جانچنے والی مشین دھوکا کھا جاتی ہے۔ لیکن وہ یہودی دھوکا نہیں کھاتا تھا۔ اس کے ساتھ کام کرتے کرتے نہ صرف میری دنیا بدل گئی بلکہ میرے پہناوے میں بھی فرق آنے لگا۔ اْسی نے مجھے بڑے بڑے لوگوں سے متعارف کروایا اور اچھے لباس اور پرفیومز سے لگاؤ پیدا کرنے والا بھی وہی ہے۔ لیکن یہ کامیابی دو دن کی نہیں بلکہ میری تیس سے پینتیس سالہ محنت کا نتیجہ ہے۔
میرے پاس جتنا بھی پیسہ ہے میں نے بڑی محنت سے کمایا ہے۔ کبھی کسی کا حق نہیں مارا،جھوٹ بولا ہے لیکن کسی کا مال کبھی نہیں چھینا۔ میرے باپ دادا جاگیردار نہیں تھے۔ نہ ہی سرکار نے کوئی زمینیں اور جائیدادیں الاٹ کیں۔ سب اپنے زورِ بازو اور دماغ سے کمایا ہے۔ جب سے سیاست میں آیاہوں۔ میں نے دیکھا ہے سیاست دان کس طرح غریبوں کا خون نچوڑتے ہیں۔ مجبور اور مظلوم عورتوں کی عزت سے کھیلتے ہیں۔ کیونکہ اسمبلی میں کوئی امیدوار ایسا نہیں جس نے اپنی عقل یا محنت سے پیسہ کمایا ہو۔ سب نے اپنے باپ دادا کی چھوڑی ہوئی زمینوں اور جائیدادوں کے بل بوتے پے یہ مقام حاصل کیا ہے۔ بھلے وہ آکسفورڈ
(oxford)
اور ہاورڈز
(howards)
میں پڑھ آئیں۔ رہتے وہی وڈیرے اور جاگیردار ہی ہیں‘‘
’’تعلیم کہاں تک حاصل کی‘‘
’’بی بی ان پڑھ ہوں۔چند جماعتیں پڑھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اردو پڑھنی اور بولنی جانتا ہوں۔اطالوی زبان باقاعدہ سیکھی ہے‘‘
’’آخری سوال اگر اجازت دیں۔بڑا ذاتی سوال ہے‘‘
’’کیوں نہیں‘‘
’’آپ نے اب تک شادی کیوں نہیں کی‘‘
’’بی بی آج تک مجھے میری من پسند لڑکی ملی ہی نہیں۔ اور کچھ زندگی کے جھمیلوں سے فرصت ہی نہیں ملی۔ میرے دوسرے بہن بھائی سب شادی شدہ ہیں۔والدصاحب کے فوت ہوجانے کے بعد میری ماں اکیلی رہ گئی۔ اب میں اپنی ماں کا خیال رکھتا ہوں‘‘
’’اگر آپ اب شادی کرلیں تو آپ کی ماں کا خیال آپ کی بیوی رکھے گی‘‘
’’آپ کی بات درست ہے۔ لیکن میں اپنی ماں سے بہت زیادہ پیار کرتا ہوں۔ میں اپنی بیوی اور ماں میں پیار کی تقسیم میں برابری نہ کرسکوں گا۔ آخر میں بھی انسان ہوں۔بیویاں تو کئی مل جاتی ہیں۔ لیکن ماں تو ماں ہوتی ہے‘‘۔
مائلہ نے بڑی مشکل سے اپنے آپ پے قابو پایا۔ اگر وہ اکیلی ہوتی تو چیخ چیخ کر روتی۔ وہ جسے بے نقاب کرنے چلی تھی۔کتنا نفیس انسان نکلا۔ مائلہ نے منی ٹیپ ریکورڈر
(mini tape recorder)
سے منی ٹیپ
(mini tape)
نکال کر توڑ دی اور لکھے ہوئے تمام پوائنٹز
(points)
پھاڑ دیئے۔
ابھی وہ اسی ذہنی توڑ پھوڑ میں مصروف تھی اور وہ کاغذجن پے اہم نقاط لکھے تھے پھاڑ رہی تھی کہ اس کا فوٹو گرافروارد ہوا اور آتے ہی کہنے لگا،
’’سوری مائلہ دیر ہوگئی۔وہ اڈیٹر صاحب کا فون آگیا تھا۔ ایک بہت ضروری ایونٹ
(event)
تھا۔ وہاں کی تصاویر کھینچنی تھیں۔ اس لیئے دیر ہوگئی۔ معذرت خواہ ہوں‘‘
’’میگنم
(magnum)
تم ہمیشہ دیر سے آتے ہو۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ویسے بھی میں اپنا کام مکمل کرچکی ہوں‘‘

سرفراز بیگ ۲۰۰۴؍۰۸؍۱۱ تا ۲۰۰۴؍۰۸؍۱۳ اریزو ،اٹلی
SARFRAZ BAIG (EMAIL:baigsarfraz@hotmail.com)
11/08/2004 to 13/08/2004

سیر ،میرے افسانوی مجموعے کلندستینی سےایک افسانہ



سیر


آج خلافِ توقع لندن کا موسم بہت اچھا تھا۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ لندن میں ایک دو دن کے لیے دھوپ نکلے اور بارش نہ ہو۔ ورنہ لندن کے موسم کے لیے مشہور ہے کہ اسے سلیٹی موسم کہتے ہیں۔ یعنی گرے ویدھر۔ آج موسم اچھا ہونے کے ساتھ ساتھ لندن میں بینک ہالیڈے بھی تھا۔ عطا ء سخی کالے رنگ کے چمڑے کے صوفے پر بیٹھے بیٹھے اچھل پڑے۔ وہ ابھی ابھی کام سے واپس آئے تھے۔ انہوں نے جرابیں اتار کے اپنے جوتوں میں گھسیڑدی تھیں۔ ان کی جرابوں کی بدبو کے بھبھوکے ان کی ناک میں گھُس رہے تھے۔ اس کی وجہ ان کا جرابوں کا نہ دھونا تھا۔ ان کے خیال میں جرابیں دھونے کے لیے واشنگ مشین چلانی پڑتی ہے جو کہ بجلی سے چلتی ہے اور اس طرح بجلی کا بل زیادہ آتا ہے۔ پانی کا استعمال ہوتا ہے اور اس کا بل بھی آتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کپڑے دھونے والا پاؤڈر بھی استعمال ہوتا ہے جو کہ ان کی مرضی کے بغیر کوئی نہیں استعمال کرسکتا تھا۔ انہوں نے ایک خاص قسم کا چمچہ رکھا ہوا تھا جس سے واشنگ مشین کے اس خاص ڈبے میں پاؤڈر ڈالنے سے باہر نہیں گرتا تھا۔ عطا سخی کنجوسوں کے امام تھے۔ انہیں لندن میں رہتے ہوئے چالیس سال ہوچلے تھے۔ ان کے دو مکان تھے جو کہ خاص انگلستان میں بسے پاکستانیوں کی زبان میں فری ہولڈ تھے۔ یعنی ان کی مورگیج ادا کی جاچکی تھی۔ انہوں نے مالیت بھی لگا رکھی تھی۔ پاکستانی روپوں میں دونوں مکانوں کی قیمت تقریباً پندرہ کروڑ تھی۔ اس کے علاوہ ان کیپاس کئی دوکانیں اور پاکستان میں بھی بے شمار جائیداد تھی۔ جس کا حساب کرنے کو آئیں تو سات نسلیں بیٹھ کے کھاسکتی ہیں لیکن نہ جانے انہیں کنجوسی کرنے میں کیا مزہ آتا تھا۔ دو جگہوں سے پنشن بھی آتی تھی۔ اس کے علاوہ سوشل سیکورٹی (بیروزگاری الاؤنس) بھی وصول کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک دوکان پر غیرقانونی طور پر کام بھی کرتے تھے۔ وہ وہاں سے ہزار سے لے کر پندرہ سو پاؤنڈ تک کما لیا کرتے۔ پیسے سے وہ اتنا پیا ر کرتے تھے جتنا کسی شخص کو زندگی سے پیار ہوتا ہے۔ اس کے باوجود وہ جرابوں کی تعفن زدہ بو برداشت کرسکتے تھے کیونکہ تعفن زدہ بو سے انہیں بچت کی بھینی بھینی خوشبو آتی تھی، یعنی پونڈوں کی۔ وہ ہفتے میں ایک دفعہ نہاتے کیونکہ صابن، پانی، گیزراور بجلی کا نقصان وہ کبھی بھی برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ میں کہانی کہاں سے کہا ں لے گیا۔ صوفے پر بیٹھے بیٹھے وہ اس لیے اچھل پڑے تھے کیونکہ انہیں بھی ایک عدد چھٹی تھی اور موسم کا حال سنتے اور دیکھتے ہی وہ اچھل پڑے تھے کیونکہ کل پورا دن سورج نکلنا تھا۔ موسم تو آج بھی اچھا تھا اور بینک ہالیڈے بھی تھا لیکن انہیں دُگنی دِھاڑی کا لالچ تھا اس لیے کام پر چلے گئے تھے۔ انہوں نے صوفے پر بیٹھے بیٹھے اپنی بیگم کو آواز دی،
’’بیگم صاحبہ کل ہم سیر کو چلیں گے‘‘۔
بیگم کو بڑی حیرت ہوئی کہ ان کے شوہرِ نامدار نے خرچے کی بات کی ہے۔ انہوں نے اپنی بیگم سے کہا، ’’کھانا کھا کر میں اپنی اسی پٹرول پمپ پر جاؤں گا کیونکہ وہاں پٹرول بنا ملاوٹ کے ملتا ہے اور بازار سے پانچ پینی سستا بھی ملتا ہے‘‘۔
بیگم نے باورچی خانے سے ہی جواب دیا،
’’لیکن وہ پٹرول پمپ تو پینتیس کلومیٹر دور ہے۔ آپ کا پٹرول بھی خرچ ہوگا‘‘۔
انہوں نے جواب دیا،
’’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ خالص پٹرول سے گاڑی خراب نہیں ہوتی‘‘۔
بیگم نے مزید پوچھا،
’’لیکن اس پٹرول پمپ میں ایسی کون سی خاص بات ہے‘‘۔
تو انہوں نے کہا،
’’بیگم! وہاں سے اسمبلی کے ممبران پٹرول بھرواتے ہیں۔ اس لیے وہاں پر ملاوٹ کی گنجائش نہیں‘‘۔ ’’لیکن یہاں لندن میں کون ملاوٹ کرتا ہے‘‘۔ بیگم نے مستعجب ہوکر پوچھا۔ سخی صاحب نے مزید پکا کرنے کے لیے کہا،
’’دنیا میں ہر جگہ ملاوٹ ہوتی ہے۔ لندن کوئی زیادہ نرالا نہیں‘‘۔
اس کے بعد میز پر کھانا چن دیا گیا۔ سخی صاحب سرسری سے ہاتھ دھو کر کھانا کھانے میں مصروف ہوگئے۔ جب کھانے کی میز پر ان کی نظر کوکا کولا پر پڑی تو بیوی پر برس پڑے،
’’بیگم اتنی مہنگی کوکا کولا لانے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ ڈیڑھ پاؤنڈ کی دو لیٹر والی بوتل۔ تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے وہ سستی والی کوکا کولا لایا کرو۔ وہ دو لیٹر کی کوکا کولا سترہ پینی کی آتی ہے اور اب تو انہوں نے سپیشل آفر بھی لگا دی ہے، تیرہ پینی‘‘۔
بیگم نے کہا،
’’میں گئی تھی لیکن دوکاندار کہنے لگا، پورا کنٹینر منگوایا تھا۔ آج ہی ختم ہوا ہے‘‘۔
’’سٹور میں بھی تو پڑی ہوئی ہے۔ وہ نکال لیتیں‘‘۔
’’وہ تو کب کی خراب ہوچکی ہے۔ اس کی تہہ میں چینی صاف نظر آتی ہے اور اوپر کالا کالا پانی۔‘‘
’’اری بیوقوف ! اس کو شیک کرکے پیا جاسکتا ہے۔ یہ چیزیں جب تک کھلیں نہ، خراب نہیں ہوتیں۔ ارے ہاں یاد آیا۔ حاتم کدھر ہے اور باطن بھی نظر نہیں آرہا‘‘۔
’’وہ دونوں عشاء کی نماز پڑھنے گئے ہوئے ہیں‘‘۔
’’وہ کھانا کب کھائیں گے‘‘۔
’’وہ دونوں کہہ رہے تھے، ہم لوگ یا تو ڈونر کھا لیں گے یا فش اینڈ چپس‘‘
(fish and chips)۔
’’بیگم تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے ان باتوں کا خیال رکھا کرو۔ یہ فضول خرچی ہے۔ گھر میں ہر چیز موجود ہے۔ آٹا، چینی حتیٰ کہ کوک بھی‘‘۔
’’اچھا اب چھوڑیں بھی، اتنی بھی کیا بچت کرنی‘‘۔
’’بیگم تم نہیں جانتی۔ اس طرح فضول خرچی کرنے لگے تو قارون کا خزانہ بھی ختم ہوجائے گا‘‘۔
’’آپ تو خواہ مخواہ بچوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ اب تو وہ دونوں شادی شدہ ہیں‘‘۔
’’اچھا خیر، جب وہ آئیں تو انہیں کہہ دینا کہ کل ہم لوگ سیر کو جائیں گے‘‘۔
سخی صاحب نے جلدی جلدی کھانا کھایا اور باہر جاکے گاڑی کی حالت دیکھنے لگے۔ اچانک ان کے کانوں کو بیوی کی بلند و بالا آواز سنائی دی،
’’آپ کا ٹیلی فون آیا ہے‘‘۔
انہوں نے باہر سے ہی جواب دیا،
’’کہہ دو گھر پر نہیں ہوں‘‘۔
’’آپ کے بڑے بھائی صاحب کا فون ہے‘‘۔
سخی صاحب جھٹ سے گھر میں داخل ہوئے اور رسیور ہاتھ میں لے کر بات چیت کرنے لگے۔ ان کی عادت تھی اگر کوئی دوسرا شخص فون کرے تو لمبی بات کیا کرتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کا بل نہیں آئے گا۔ بات ختم کر کے رسیور چونگے پر رکھتے ہی کہنے لگے، ’’ارے بھئی کل بھائی جان بھی اپنے بچوں کے ساتھ سیر کو چلیں گے۔ انہوں نے اسی لیے فون کیا تھا۔ اور ہاں وہ پکوڑے، سموسے اور روٹیاں بنارہے ہیں۔ تم بھی ایسا کرو، پراٹھے اور اس کے ساتھ کوئی چیز بنا لو۔ فنگر چپس اور شامی کباب ضرور بنانا۔ اتنا کچھ ہو کہ اگر دوپہر میں ہم لوگوں کو بھوک لگے تو پیٹ بھر کے کھا سکیں۔ جو بچ جائے گا وہ ہم لوگ شام کو کھا لیں گے۔ تمہیں تو پتا ہے راستے میں کھانے پینے کی چیزیں کتنی مہنگی ہوتی ہیں۔ ایک بڑا کارٹن دو لیٹر والی پانی کی بوتلوں کا بھی رکھ لینا۔ ہاں یاد آیا، ساتھ تین چار تینتیس لیٹر (چھوٹی پانی کی بوتل) والی خالی پانی کی بوتلیں بھی رکھ لینا۔ اب ہر جگہ بندہ بڑی بوتل تو اٹھاکے نہیں جاسکتا نا۔ اب میں چلتا ہوں۔ باطن اور حاتم جب آئیں انہیں کہنا تیار رہیں۔ ان سے کہناایسے کپڑے پہن کر جائیں جو استری نہ کرنے پڑیں۔ تمہیں تو پتا ہے استری سے بجلی کا کتنا نقصان ہوتا ہے۔ میٹر بہت تیز گھومتا ہے۔ خواہ مخواہ بل میں اضافہ ہوتا ہے‘‘۔
’’اب جائیں گے بھی یا باتیں ہی بناتے رہیں گے‘‘۔
’’اچھا بھئی جاتا ہوں۔ پہلے تم مجھ سے بات کرنے کو ترسا کرتی تھی اب جان چھڑاتی ہو‘‘۔
’’پہلے کی بات اور تھی‘‘۔
’’اور اب‘‘۔
’’اب خدا حافظ‘‘۔
دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔
ژ
صبح سویرے عطا سخی صاحب کے باورچی خانے میں کھڑ کھڑ شروع ہوگئی۔ سیر پر جانے کے لیے چند چیزیں تو تیار ہوچکی تھیں اور باقی ان کی بیگم تیار کررہی تھیں۔ عطا سخی صاحب کوکا کولا کی سستی بوتلیں لینے گئے ہوئے تھے۔ وہ دوکان پر کنٹینر کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جس دوکان سے یہ سستی تیرہ پینی والی دو لیٹر کی کوکا کولا ملتی تھی نہ وہ دوکان کھلی تھی نہ ہی کنٹینر آیا تھا۔ سخی صاحب کو چار گھنٹے کے انتظار کے بعد ان کی مطلوبہ کوکا کولا ملی۔ اب تک دس بج چکے تھے اور سارے گھر والے ان کا انتظار کررہے تھے۔ ان کے بیٹے، بہوئیں، ان کے بچے۔ سخی صاحب کی گاڑی کے انجن کے بند ہونے کی آواز آئی۔ جیسے ہی سخی صاحب وارد ہوئے سب نے جلدی جلدی اشیائے خورد و نوش گاڑی میں رکھنی شروع کردیں۔ گھر سے ان کے قافلے کو نکلتے نکلتے گیارہ بج چکے تھے۔ اب تک کوئی نہیں جانتا تھا کہاں جانا ہے۔ اس لیے سخی صاحب نے نکلنے سے پہلے سب کو بتا دیا تھا کہ ہم لوگ برائیٹن
(Brighton)
جارہے ہیں۔ اس لیے جانے کے لیے ایک ایسا راستہ اختیار کرنا ہوگا جہاں روڈ ٹیکس نہیں دینا پڑے گا۔ راستہ تھوڑا لمبا ہے لیکن چار گاڑیوں کا روڈ ٹیکس، آنے جانے کا قریباً چالیس پاؤنڈ بنتا ہے۔ اس لیے جو راستہ میں اختیار کروں تم مجھے فالو کرتیجانا۔ لندن سے برائیٹن جانے کے لیے ایک گھنٹہ لگتا ہے لیکن جو راستہ انہوں نے اختیار کیا تھا وہ لمبا بھی تھا اور یہاں بہت زیادہ ٹریفک بھی تھی۔ برائیٹن پہنچتے پہنچتے انہیں تین بج چکے تھے۔ جب یہ لوگ برائیٹن پہنچے تو سب کا تھکن سے برا حال تھا۔ لیکن سخی صاحب نے ایک فضیحتا اور کھڑا کردیا کہ وہ ایک ایسی جگہ جانتے ہیں جہاں فری پارکنگ کی جاتی ہے۔ اب سب نے گاڑیاں سٹارٹ کیں اور لگے فری پارکنگ ڈھونڈنے۔ قریباً ڈیڑھ گھنٹے کی تگ و دو کے بعد انہیں فری پارکنگ مل گئی۔ اب انہیں یہاں
سے پیدل چل کے بیچ (سمندر کا کنارہ) کی طرف آنا تھا۔ تقریباً دو کلومیٹر کا راستہ تھا۔ سب لوگ پانی کی بوتلیں، پکوڑے، سموسے، جو کچھ بھی کھانے کو تھا اور چٹائیاں، ان ساری چیزوں کے ساتھ لدے پھندے چلتے رہے۔ ٹھیک ایک گھنٹہ یہ لوگ اس تکلیف دہ حالت میں چلتے رہے اور بالآخر بیچ پر پہنچ گئے۔ چٹائیاں بچھائیں اور روٹیاں، پراٹھے، سستی کوکا کولا، ان ساری چیزوں کو دسترخوان پر چن دیا گیا۔ روٹیاں اور پراٹھے ہاٹ پوٹ میں پڑے پڑے نمی کی وجہ سے گیلے ہوچکے تھے۔ فنگر چپس، شامی کباب، سموسے اور پکوڑے بھی خراب ہوچکے تھے۔ کوکا کولا شکر کولا بن چکی تھی۔ سب کو بھوک اتنی سخت لگی ہوئی تھی، دسترخوان پر کوئی چیز نہ بچی۔ جیسے ہی سب نے کھانے سے فراغت حاصل کی سخی صاحب نے فرمان جاری کیا، واپس چلنا ہوگا، کیونکہ گاڑیں دور کھڑی کی ہیں اور ان تک پہنچتے پہنچتے ایک گھنٹہ لگے گا۔ طوحاً وکرحاً سب نے اس نادر شاہی حکم پر عمل کیا اور خالی کاغذ، بوتلیں، ڈبے انہوں نے بِن کی نظر کئے اور چٹائیاں لپیٹ کے انہوں نے بغل میں داب لیں۔ اس طرح یہ قافلہ دوبارہ گاڑیوں کی طرف روانہ ہوا۔ جیسے ہی گاڑیوں کے پاس پہنچے، سب نے خدا کا شکر ادا کیا کیونکہ اب یہ لوگ ڈیڑھ گھنٹے میں پہنچے تھے۔ گاڑیاں سٹارٹ کیں اور گھر کی راہ لی۔ جب گھر پہنچے تو رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ باطن اور حاتم اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اپنے گھر کو ہولیے اور عطا سخی کے بھائی جان بھی اپنے بچوں کے ہمراہ اپنے گھر کو روانہ ہوئے۔

سرفراز بیگ ، اریزو، اٹلی

پیپر میرج ، میرے افسانویمجموعے کلندستینی سے ایک افسانہ




پیپر میرج


وہ بہت تیز بھاگ رہا تھا، اتنا تیز جتنا کہ وہ بھاگ سکتا تھا۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے بھاگ رہا تھا۔ اب وہ تھک چکا تھا۔ اس کی حالت بہت خراب تھی۔ اس کی سانسیں اُکھڑ رہی تھیں۔ اب اگر وہ مزید ایک قدم بھی بڑھاتا تو اس کی جان نکل جاتی۔ اس کے پھیپھڑے کام کرنا چھوڑ دیتے۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا۔ جب بھی وہ پکڑے جانے کے بارے میں سوچتا ماضی کے نہاں خانوں میں چلا جاتا۔ ابھی وہ اسی اُدھیڑ بُن میں تھا کہ فرینچ پولیس کے ترچھی ٹوپیوں والے اس کے قریب پہنچ گئے۔ ان میں سے ایک نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے پوچھا، ’’خبردار !محترم، مہربانی فرما کر اپنے کاغذات دکھائیں‘‘۔ وہ اس جملے سے نابلد تھا لیکن جیسے ہی اس نے فرانس میں قدم رکھا، تو وہ اس طرح کے جملوں سے واقف ہوگیا تھا۔ ان فرنگیوں کے ملک میں آپ تین چیزوں پر اعتبار نہیں کرسکتے، ’’کام، عورت اور موسم‘‘۔ حالانکہ جہاں وہ پیدا ہوا تھا وہاں کی زمین بھی برابر نہیں۔ وہ سطح مرتفع پوٹھوہار کا رہنے والا تھا۔ وہاں کے موسم کا بھی اعتبار نہیں۔ جہاں تک عورت کی بات ہے تو وہاں عورت پر اعتبارکیا جاسکتا ہے کیونکہ وہاں کی عورت کے پاس اپنے خاوند کے ساتھ رہنے کے علاوہ اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔ میں بھی بات کو کہاں سے کہاں لے گیا۔ تو جیسے ہی وہ پکڑا گیا، اس سے سوال کیا گیا اور وہ کوئی جواب نہ دے پایا۔ وہ اسے تھانے لے گئے۔ وہاں انہوں نے اسے تھوڑی دیر بٹھائے رکھا پھر اسے چھوڑ دیا۔ نہ تو وہ اس کی انگریزی سمجھ سکتے تھے نہ ہیوہ ان کی فرنچ سمجھ سکتا تھا۔
ژ
اس نے خدا کا شکر ادا کیا کہ وہ بچ گیا، وگرنہ تو وہ اسے پاکستان بھیج دیتے۔ وہ میٹرو نمبر ایک پر بیٹھا اور شتلے لے
(Chatlet les Halles)
ہال آگیا۔ یہ اس کی پسندیدہ جگہ تھی۔ وہ یوغج پومپیڈو سنٹر
(George Pompidou Centre)
کی آخری منزل پر چلا آیا۔ اس نے وہاں سے پیرس کا نظارہ کرنا شروع کردیا۔ اسے پیرس سے پیار ہوگیا تھا لیکن بِنا کاغذوں کے اسے پیرس جیل کی طرح لگتا تھا۔ اسے ایسا لگتا تھا جیسے تنہائی کی سزا کاٹ رہا ہو۔ آپ لاکھوں لوگوں کے درمیان رہتے ہیں اور آپ اکیلے ہوتے ہیں۔ اسے بہت ساری چیزوں کا ڈر اور خوف تھا۔ غربت کا ڈر تھا۔ پاکستان واپس جانے کا خوف تھا۔ وہ گزشتہ کئی سالوں سے پیرس میں تھا لیکن اس کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ تبدیلی سے مراد بینک بیلنس۔ ایک لگا بندھا ایشیائی فلسفہ کہ آپ یورپ میں پیسہ کماکے اپنے ملک میں کاروبار کریں۔ وہ اس دوران کوئی بھی ہنر نہ سیکھ سکا۔ جیسے کہ بجلی کا کام، رنگ کا کام یا کھانا پکانے کا کام۔ اس نے اس طرح کے کام کبھی پسند ہی نہ کئے حالانکہ وہ جن دنوں سکول پڑھا کرتا تھا، وہ محنت کی عظمت کا قائل تھا۔ سکول کالج کے علاوہ اس کا مذہب اسلام بھی ا س بات پر زور دیتا ہے کہ، ’’محنتی خدا کا دوست ہے‘‘۔ اس کے لیے یہ باتیں کتابوں تک ہی محدودتھیں۔ پاکستان میں جب وہ بی اے کررہا تھا، اس نے اس قسم کے حالات کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ اس کے والد صاحب ایک سرکاری محکمے میں کلرک تھے۔ بڑی مشکل سے گزراوقات ہوتی تھی۔ سارے اس کی پڑھائی کے لیے قربانی دے رہے تھے۔ یہی ان کا آخری سرمایہ تھا یا یوں کہنا چاہیے کہ کل اثاثہ تھا۔ معتصم باقی باللہ، یہی اس کا نا م تھا۔ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں کئی خواب بُنا کرتا تھا۔ وہ امتحان پاس کرے گا پھر جلد ہی اسے کوئی سرکاری نوکری مل جائے گی۔ وہ اپنا ماسٹرز پرائیویٹ طور پر کر لے گا۔ اس طرح وہ کام بھی کرے گا اور اپنی پڑھائی بھی جاری رکھے گا۔ وہ اپنے ماں باپ کا ہاتھ بھی بٹائے گا۔ اس کا ایک خوبصورت صاف ستھرا دفتر ہوگا۔ گھومنے والی کرسی ہوگی، سامنے ایک بہتبڑی میز ہوگی، جس پر تمام ضروری اشیاء ہوں گی اور ایک طرف کمپیوٹر ہوگا۔ ایک عدد گھنٹی بھی میز پر رکھی ہوئی ہوگی جو اُس کے کمرے کے باہر بیٹھے ہوئے پیئن کو بلانے کے کام آئے گی۔ اس کے کمرے میں داخل ہونے کے لیے ہر کسی کو اجازت لینی پڑے گی۔ پھر پیئن اندر آکے پوچھا کرے گا، ’’صاحب کوئی آپ سے ملنے آیا ہے۔ اگر آپ کی اجازت ہو تو اندر آنے دوں‘‘۔
ژ
لیکن جیسے ہی ا س نے بی اے پاس کیا، اس نے کئی جگہوں پر نوکری کی درخواست دی لیکن کہیں سے جواب نہ آیا۔ نہ اس کی کہیں واقفیت تھی نہ ہی اس کے پاس رشوت دینے کے لیے رقم تھی۔ اس کے والد صاحب اور گھر والے اس سے ناخوش رہنے لگے۔ اس طرح کی حالت میں رہنے والا بی اے پاس یہ نوجوان اکیلا نہیں تھا بلکہ پورا پاکستان ایسے نوجوانوں سے بھرا پڑا ہے۔ کئی تو اس سے بھی زیادہ لائق اور ذہین تھے لیکن بنا نوکری کے۔ ہمارا تعلیمی نظام سارا کا سارا لکھنے پڑھنے والا ہے۔ اس میں عملی زندگی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جاتا۔ جس کی وجہ سے نوجوان ڈگری کرنے کے بعد معذور ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک طرح کا میٹھا زہر ہے جو آپ کی رگوں میں بڑی آہستگی سے اتارا جاتا ہے۔ جیسے ہی یہ زہر آپ کی رگوں میں سرایت کرتا ہے تو آپ خود کو عام انسان نہیں سمجھتے بلکہ خود کو مافوق الفطرت شے سمجھنے لگتے ہیں۔ اس میں معتصم کا بھی کوئی قصور نہیں تھا۔ وہ دہائی ہی عجیب و غریب تھی۔ کوئی بھی حالات کو سمجھ نہیں پارہا تھا۔ خود معتصم اپنا زیادہ تر وقت سنوکر کلب میں گزارا کرتا، جہاں اس جیسے تمام نوجوان اکھٹے ہوا کرتے۔ سنوکر کھیلنا اس کے لیے عیاشی تھی۔ اس لیے وہ کم ہی کھیلا کرتا۔ اس کا اصل مقصد وقت کو گزارنا ہوتا۔ یا اپنے جیسے ستائے ہوئے لڑکوں سے ملنا، جن کو بی اے، ایم اے کرنے کے بعد بھی نوکری نہیں مل رہی تھی۔ اس کے علاوہ معتصم چائے کے ریستورانوں پر بھی بیٹھا کرتا۔ ان دنوں معتصم کو ڈھونڈنا زیادہ مشکل نہیں تھا۔ یا تو وہ کسی ریستوران میں ہوتا یا کسی سنوکر کلب میں۔ وہ قریباً آوارہ گرد بن چکا تھا۔ گلیوں میں آوارہ پھرنا، ریستورانوں پر بیٹھنا، سنوکر کلب میں وقت گزارنا اور رات کو گھر دیر سے آنا یہیاس کا کام تھا۔
اچانک ویٹرس نے اس کو خیالوں اور یادوں کی دنیا سے واپس بلا لیا۔ یہ ویٹرس یا ویٹر کا ہنر ہوتا ہے کہ وہ گاہک کو ٹیبل پر زیادہ دیر بیٹھنے نہیں دیتا۔ گو کہ یوغج پومپیڈو سنٹر بہت بڑا ہے جہاں پر یہ ریستوران ہے، یہ سنٹر کی آخری منزل ہے، اس کا ٹیرس بھی بہت بڑا ہے لیکن یہ لوگوں سے ہر وقت کھچا کھچ بھرا رہتا ہے۔ اس لیے آپ یہاں پائے جانے والے اس چھوٹے سے ریستوران یا آپ کافی شاپ کہہ لیجئے میں زیادہ وقت گزار دیں تو ویٹر آپ کو کسی نا کسی بہانے سے اٹھا دے گا۔ ویٹر یا ویٹرس آپ کے ٹیبل پر آکے بل رکھ دے اور فرنچ میں کہہ دے کہ آپ کافی پی چکے ہیں تو اس کامطلب ہوتا ہے کہ بل ادا کیجئے اور چلتے بنئے کیونکہ ہمیں اور بھی کام ہیں۔ معتصم چونکہ کافی ختم کرچکا تھا اس لیے اس نے بل ادا کیا اور ٹیبل چھوڑ دیا۔
ژ
سب جانتے تھے اس کا نام معتصم باقی باللہ ہے لیکن کسی نے اس کو اس کے نام سے نہیں پکارا۔ سب اسے باؤ کہتے (بابو جی) اور کچھ اسے بلا کہہ کربلاتے۔ حالانکہ بلا، بِلا ہوتا ہے اور باللہ، باللہ ہوتا ہے۔ یعنی باللہ اپنی جگہ ایک علیحدہ لفظ ہے۔ سارے یہی سوچتے تھے کہ معتصم کی آنکھیں تو بلوری نہیں ہیں تو پھر اس کانام بلا کیوں ہے۔ وہ انہیں کئی دفعہ سمجھا چکا تھا کہ میرا نام معتصم باقی باللہ ہے نہ کہ معتصم باقی بلا۔ چونکہ یہاں زیادہ تعداد دیہاتوں سے آئے ہوئے لڑکوں کی تھی ا س لیے کسی کواس کی بات سمجھ نہیں آتی تھی۔ ان میں سے ایک نے معتصم کو کہا، ’’یار باؤ! تمہارے لیے ایک لڑکی ڈھونڈی ہے، پیپر میرج کے لیے۔ پچاس ہزار فرانک خرچہ آئے گا۔ تقریباً پانچ لاکھ روپیہ پاکستانی بنتا تھا۔ اس رقم سے آپ دو کمروں کا گھر خرید سکتے ہیں یا چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرسکتے ہیں۔
ژ
اسے دوبارہ ویٹر کی نوکری مل گئی۔ معتصم پڑھا لکھا تھا، شکل و صورت کا بھی اچھا تھا لیکن اس کی عادتیں بڑی عجیب تھیں۔ اس کی زندگی میں سکون اور قرار نہیں تھا۔ یا یوں کہہلیجئے کہ اس کی اپنی طبیعت میں ٹھہراؤ نہیں تھا۔ اس نے جہاں بھی کام کیا چھ یا سات ماہ سے زیادہ نہ کیا۔ وہ ویٹری کے دوران سوچا کرتا کہ وہ کیا کررہا ہے۔ کبھی کبھی اسے یوں لگتا جیسے کسی نے اسے ہزاروں منزلہ عمارت سے نیچے گرا دیا ہے۔ جب کبھی بھی اسے کوئی برے طریقے سے پیش آتا تو اِسے ایسا لگتا جیسے اُس کے الفاظ اِس کے جسم کو تیز دھار بلیڈ کی طرح کاٹ رہے ہیں۔ یا کسی نے لال انگارہ اس کے جسم پر رکھ دیا ہے۔ یا کوئی قطرہ قطرہ زہر اس کے جسم میں داخل کررہا ہے اور یہ زہر اس کی رگ و پر میں سرایت کرگیا ہے۔ وہ کسی کو کیا کہہ سکتا تھا۔ اس کے پا س پیپر نہیں تھے۔ یورپ میں پیپر نہ ہونا ایسا ہی ہے جیسے آپ حرامی ہیں یا کسی کی ناجائز اولاد ہیں۔ لیکن یہ راز اگر کسی کو پتا چل گیا تو آپ کسی کو منہ دکھانے لائق نہ رہیں گے۔ ہوتا کچھ یوں کہ وہ کام کے دوران جب بھی کسی لڑکی سے بات چیت کرنے کی کوشش کرتا اس کا مالک یعنی ریستوران کا مالک وہاں پہنچ جاتا۔ اُس کی سب پر نظر ہوتی۔ اس نے جب بھی کسی لڑکی سے تعلقات بنانے چاہے اس کے مالک نے گڑبڑ کردی۔ معتصم کو ویسے بھی ویٹر کی نوکری پسند نہیں تھی، لیکن وہ کیا کرتا اس کے پاس اور کوئی دوسرا راستہ بھی تو نہیں تھا۔ وہ عام سا ویٹر تھا لیکن ا س کا حوصلہ بہت بلند تھا۔ اس کو خود پر بہت زیادہ اعتماد تھا، اتنا کہ وہ ایک ٹھوکر میں پوری دنیا کو ہلا دے گا۔ اس نے کئی چھوٹی موٹی نوکریاں کیں لیکن اپنی ذات کی نفی نہ ہونے دی۔ اس نے کبھی ایسی حرکت نہ کی جس سے ملک اور قوم کی بدنامی ہو۔ اس کے لیے پیار ایک جبلت اور عیاشی سے زیادہ نہیں تھا۔ اس کے علاوہ وہ جب سے یورپ آیا تھا اس نے اپنے بہن بھائیوں، اور ماں باپ کی طرف ایک ٹکا بھی نہ بھیجا تھا کیونکہ وہ جب سے یہاں آیا تھا مسائل کا شکار تھا۔ شاید نکما تھا یا شاید بدقسمت۔ اسے کبھی بھی پتا نہ چلا کہ زندگی کا مقصد کیا ہے۔ اسے جب بھی اندھیرے میں روشنی کی کوئی کرن دکھائی دیتی اس کے ساتھ کوئی نا کوئی حادثہ پیش آجاتا۔ وہ اس امید کی کرن کو بھول کر اس مسئلے کا حل ڈھونڈنے نکل کھڑا ہوتا۔
ژ
صبح صبح یہ ریستوران کھولنے کی تیاریاں کررہے تھے۔ ابھی بمشکل انہوں نیکرسیاں سجائی ہی تھیں۔ صبح کے وقت چونکہ گاہک کم ہوتے تھے اس لیے دوپہر کے کھانے تک یہ لوگ تقریباً فارغ ہوتے۔ اس دوران یہ ریستوران کے دیگر کاموں میں مصروف رہتے۔ معتصم باہر میز اور کرسیاں سجاکے میزوں کے میز پوش ٹھیک کررہا تھا۔ یہ سب کرنے کے بعد اس نے ان پر گلاس سجادیئے۔
وہ میز نمبر تین پر بیٹھی تھی۔ یہ کوئی اتنی خاص بات نہیں تھی۔ اس نے اسے نظر انداز کردیا لیکن پھر اِس نے اُس کو مینوکارڈ پکڑا دیا۔ اس نے کہا، مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ مجھے ایک کپوچینو (
Cappuccino)
اور دو عدد سموسے لادو۔ وہ دِکھنے میں اتنی بری نہیں تھی۔ اس نے آرڈر شیف کو بھیج دیا اور اس لڑکی پر اُچٹتی نظر ڈالی۔ معتصم کے دماغ میں اچانک ایک خیال آیا لیکن اس نے اس خیال کو وہیں ختم کردیا۔ دماغ کے نہاں خانوں میں محو کردیا۔
اس نے کپوچینو میز پر رکھی، اس کے بعد گرما گرم سموسے رکھے اور اس کے ساتھ اپنے ریستوران کی تین مخصوص چٹنیاں بھی رکھیں۔ وہ دور کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ اس نے کپوچینو ختم کی اور سموسے بھی کھالیے۔ معتصم نے بڑے مہذب انداز میں پوچھا، ’’کیا آپ کھا چکی ہیں‘‘۔ اس نے کہا، ’’ہاں‘‘۔ معتصم نے بل پیش کیا۔ وہ یہی سوچ رہی تھی کہ بھاگ جائے گی لیکن یہ کام بہت مشکل تھاکیونکہ آس پاس بہت سے لوگ دیکھ رہے تھے۔ گو کہ وہ اسے نہیں دیکھ رہے تھے لیکن اگر پکڑی جاتی تو تماشہ ضرور بن جاتی۔ معتصم اس کی دلی کیفیت جان گیا تھاکہ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اس کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ اس نے کہا، ’’دیکھو میرے پاس پیسے نہیں ہیں لیکن تم میرا پاسپورٹ رکھ لویا میرا شناختی کارڈ رکھ لو۔ جب میں تمہیں پیسے دینے آؤں گی تو مجھے واپس کردینا‘‘۔ معتصم نے غصے میں کہا، ’’میں ان چیزوں کا کیا کروں گا‘‘۔ معتصم کا غصہ جائز تھا لیکن آپ اس طرح کی صورت حال میں کیا کرسکتے ہیں۔ آپ کو فوراً فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ پیسے بھی زیادہ نہیں تھے لیکن گھوڑاگھاس سے دوستی کرلے تو کھائے گا کیا۔ اچانک معتصم کے دماغ میں ایک عجیب خیال آیا۔ معتصم نے کہا، ’’سنو تم مجھے اپنا فون نمبر دے دو‘‘۔ اس نے جھٹ سے اپنا فون نمبر کاغذ پر لکھ کے معتصمکو تھمادیا اور ساتھ ساتھ یہ کہا کہ یقینامیں تمہارے پیسے لوٹا دوں گی۔ اس نے اتنا کہا اور چلتی بنی۔ یہ تمام واقعہ معتصم کے لیے کوئی نئی بات نہ تھی۔ یہ ایک عام سی بات تھی۔ فون نمبر پر اس نے ترچھی نظر ڈالی اور ڈائری پر لکھ لیا۔
ژ
آج سوموار تھا۔ ویسے تو زیادہ تر ریستوران خواہ وہ فرینچ ہوں یا دیگر ممالک کے اس دن بند ہی ہوتے ہیں۔ پیرس میں بھی انڈین اور پاکستانی ریستورانوں کی ایک بڑی تعداد سوموار کو بند ہوتی ہے اس لیے آج معتصم کی چھٹی تھی۔ وہ لانڈری پر کپڑے دھونے چلا گیا۔ مشین میں مطلوبہ سکے ڈالے اور اس میں سارے میلے کپڑے ڈال دیئے۔ جب پوری مشین چل چکی تو اس نے سارے کپڑے نکال کے سکھانے والی مشین میں ڈال دیئے۔ ا س کے بعد سارے کپڑے تہہ کرکے گھر لے آیا۔ اس نے کھانا تیار کیا۔ آج اس کی باری تھی۔ سارے کاموں سے فراغت حاصل کرنے کے بعد اس نے عشق و محبت سے بھرپور ایک انڈین فلم دیکھی۔ شام کو وہ شانزے لیزے نکل کھڑا ہوا۔ وہ دوکانوں کی بڑی بڑی شیشے کی کھڑکیوں میں پڑی خوبصورت چیزیں دیکھتا رہا۔ یہاں اس نے میوزک سٹورز اور کتابوں کی دوکان کے چکر لگائے۔ فائن آرٹ کا دلدادہ تھا۔ وہ بڑی بڑی دوکانوں میں خوبصورتی سے سجے دنیا کے مشہور ڈیزائنرز کے بنے کپڑے دیکھتا رہا۔ جو کہ ا س کی استطاعت سے باہر تھے۔ چلتے چلتے وہ پیرس کے مشہور ہال لیڈو
(Lido)
کے سامنے سے گزرا۔ یہ بہت بڑا ہال ہے جہاں موسیقی کے مقابلے ہوتے ہیں اور کبھی کبھی تھیٹر بھی دکھائے جاتے ہیں۔ چلتے چلتے وہ سوچنے لگا، کیا نام تھا اس کا، یاد آیا شانتل۔ اس نے سوچا فون کروں کہ نہ کروں۔ وہ خود کلامی کے سے انداز میں باتیں کررہا تھا۔ اس کے پاس فرینچ ٹیلی کام کا ایک ٹیلی فون کارڈ تھا جس میں چند یونٹ بچے تھے۔ اس نے جلدی سے فون کیبن ڈھونڈااور کارڈ ڈال کے اس کا نمبر ملایا۔ دوسری طرف سے فرینچ انداز میں آواز آئی، ’’آلو‘‘ (ہیلو)۔ معتصم نے ہیلو کہا اور پھر پوچھا کہ کیا میں شانتل سے بات کرسکتا ہوں۔ دوسری طرف سے جواب آیا، ہاں کیوں نہیں۔ میں شانتل ہی بول رہی ہوں۔ معتصم نے جواب میں کہا، ’’میں وہی پاکستانیبول رہا ہوں۔ ریستوران والا‘‘۔ ’’او معاف کرنا میں پیسے دینے نہ آسکی۔ میں بہت شرمندہ ہوں‘‘۔ معتصم نے کہا، ’’ایسی کوئی بات نہیں۔ میں نے پیسوں کے لیے فون نہیں کیا۔ ویسے آج تم کیا کررہی ہو‘‘۔ اس نے کہا، ’’کچھ نہیں‘‘۔ ’’اور آنے والے سوموار کو‘‘۔ ’’میں کچھ نہیں جانتی۔ لیکن وجہ‘‘۔ ’’میرا خیال ہے ہم لوگ ملیں۔ اگر تمہیں اعتراض نہ ہو تو ہم اگلے سوموار کو مل سکتے ہیں‘‘۔ شانتل نے کہا، ’’ہاں مل سکتے ہیں لیکن آنے سے پہلے فون ضرور کرنا‘‘۔ معتصم نے کہا، ’’ٹھیک ہے میں آنے سے پہلے فون کروں گا‘‘۔ اس نے یہ کہہ کر فون بند کردیا۔
ژ
آج معتصم بڑا اچھا لگ رہا تھا۔اپنے طور پر وہ پورا بنا ٹھنا ہوا تھا۔ اس نے ملاقات کی جگہ یوغج پومپیڈ
(George Pompidou)
ہی رکھی۔ اس نے فون کیا اور شانتل نے کہا کہ وہ آرہی ہے۔ وہ وقت مقررہ پر وہاں پہنچ گیا۔ ایک دو منٹ کے توقف سے شانتل بھی وہاں پہنچ گئی۔ اس نے سب سے پہلے معتصم کو سموسوں اور کافی کے پیسے ادا کئے لیکن معتصم نے لینے سے انکار کردیا۔ یہ بڑی معمولی رقم تھی۔ نہ ہی ا س نے شانتل کو پیسے وصول کرنے کے لیے بلایا تھا۔ گفت و شنید سے پتا چلا کہ شانتل ایک اچھے خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ یہ لوگ زیادہ امیر تو نہیں تھے لیکن اتنے برے حالات بھی نہیں تھے۔ وہ فائن آرٹ کے آخری سال میں تھی۔ اس کے بعد اس کو فائن آرٹ کی ڈگری مل جاتی لیکن یونیورسٹی میں اسے نشے کی لت لگ گئی۔ اس طرح اس کی پڑھائی ادھوری رہ گئی۔ اس وقت شانتل صرف یہی بات سوچ رہی تھی کہ معتصم نے ساتھ سونے کو کہا تو اسے مزید کچھ رقم مل جائے گی اور وہ اس سے اپنے نشے کا انتظا م کرلے گی۔ دوسری طرف معتصم کسی اور اُدھیڑ بُن میں تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ بات کیسے شروع کرے۔ اس کا ضمیر اسے اجازت نہیں دے رہا تھا۔ لیکن وہ ایک عرصے سے پولیس کے ڈر سے بھاگ رہا تھا، چھپ رہا تھا۔ اس نے بڑی ہمت کرکے شانتل کو اپنا مدعا بیان کیا اور بتایا کہ اس کا کیا طریقۂ کار ہوگا۔ شانتل نے معتصم کی بات بڑے غور سے سنی اور سوچا اس طرح تو اچھی خاصی رقم مل جائے گی۔ معتصم نے کہا، ’’میں تمہیں چالیس ہزار فرینچ فرانک دوں گا لیکن تین اقساط کی صورت میں۔ پہلی قسط تمہیں رجسٹریشن کے وقت دوں گا، دوسری قسط اس وقت دوں گا جب مجھے کاخت سیوغ مل جائے گااور آخری قسط میں تمہیں اس وقت دوں گا جب ہمارے درمیان طلاق ہوگی۔ اس نے کہا، ’’ٹھیک ہے۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں‘‘۔
ژ
معتصم کی شادی ہوگئی اور اسے جلد ہی کاخت سیوغ
(Carte Sejour)
مل گیا۔ وہ بھی دس سال کا رہنے کا اجازت نامہ۔ وہ بہت خوش ہوا۔ اس دوران شانتل اور معتصم ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے۔ معتصم کو ادب سے جنون کی حد تک لگاؤ تھا اور شانتل کو فنونِ لطیفہ سے۔ شانتل کے ساتھ رہتے رہتے معتصم کے اندر مستقل مزاجی آگئی تھی۔ اس نے کافی عرصے سے کام نہیں بدلا تھا۔ شانتل نے نشہ کرنا کم کردیا تھا۔ اس سے پہلے معتصم آزاد پرندے کی طرح گھومتا تھا۔ اس نے زندگی کو کبھی بھی اتنی سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔ وہ اب تندہی سے کام کرتا اور شانتل کو اقساط ادا کرتا، اس کے لیے پیسے اکھٹے کرنا ایک مشن بن گیا تھا۔ کبھی کبھی اس کا ضمیر ملامت کیا کرتا کہ اُس نے اِس لڑکی کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیاہے۔ وہ خود کو اپنی نظروں میں گرتا ہوا دیکھتا۔ دوسری طرف شانتل کو بھی اچھا نہ لگتا کہ اس نے ایک مجبور انسان سے اپنے نشے کی خاطر کتنا پیسہ بٹورا ہے۔ ان کی شادی کو دوسال گزر چکے تھے۔ طلاق کے دن قریب آرہے تھے، ابھی ایک قسط باقی تھی۔ ایسا پہلی دفعہ ہوا کہ معتصم ایک جگہ پر دوسال سے کام کررہا تھا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ وہ لیگل کام کررہا تھا اور دوسری وجہ شانتل تھی کیونکہ اس سے پہلے ا س نے کسی جگہ دوسال سے زیادہ کام نہیں کیا تھا۔ شانتل مصوری کوخیر باد کہہ چکی تھی لیکن جب سے اس کی
شادی (گو کہ پیپر میرج تھی) معتصم سے ہوئی تھی اس نے دوبارہ مصوری شروع کردی تھی۔ اس نے آرٹ گیلریز میں جانا شروع کردیا تھا۔ اب وہ مصوری کی کوئی نمائش ضائع نہ ہونے دیتی۔ یہ بہت بڑی بات تھی۔ اس کا اصل کام سوریل ازم تھا لیکن وہ ریل ازم، فریسکوز، کیوب ازم اور تجریدی آرٹ کی طرف زیا دہ مائل تھی۔ اب اس کی مائلیت اور توجہ کیوب ازم کی طرفبڑھ رہی تھی۔ آجکل وہ ایک تصویر پر کام کررہی تھی۔ نہ تو معتصم جانتا تھا کہ شانتل کے اندر یہ تبدیلی آچکی ہے اور نہ ہی شانتل جانتی تھی کہ معتصم بھی اب کافی تبدیل ہوچکا ہے۔ یہ دونوں اس بات سے ناواقف تھے۔
ژ
آج معتصم جب کام سے واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ شانتل ایک نوجوان سے گفتگو کرنے میں محو ہے۔ وہ دونوں گفتگو کے دوران ایک دوسرے میں گم تھے۔ معتصم نے دونوں کو سلام کیا اور واش روم میں چلا گیا۔ یہ بات ایک کڑوا سچ تھی کہ دونوں میاں بیوی نہیں تھے صرف اور صرف اپنی اپنی ضرورت کے تحت ایک دوسرے سے بندھے ہوئے تھے۔ اس کے باوجود معتصم کو یہ بالکل اچھا نہ لگا کہ وہ ایک نوجوان سے گفتگو کررہی ہے۔
بالکل اسی طرح چند ہفتوں بعد معتصم اپنے ساتھ کام کرنے والی ایک لڑکی کے ساتھ فلم دیکھنے چلا گیا۔ آنا خوبصورت تھی یہ بات شانتل بھی جانتی تھی اس لیے شانتل کو بالکل اچھا نہ لگا۔ اسے ایسا لگا جیسے اس کا شوہر کسی نے چھین لیا ہو۔ وہ بہت دُکھی ہوئی لیکن وہ کیا کرتی دونوں کی شادی ضرورت کے تحت ہوئی تھی۔
جیسے جیسے طلاق کے دن قریب آتے گئے دونوں کی حالت غیر ہوتی گئی۔ دونوں ایک دوسرے کے عادی ہوچکے تھے۔ انہیں علیحدہ ہونے سے ڈر لگتا تھا۔ اس بات کا ذکر دونوں ایک دوسرے سے نہ کرسکے۔ وہ گو کہ تسلسل کے ساتھ اکھٹے کبھی نہ رہے تھے لیکن قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے انہیں اسی طرح رہنا پڑتا تھا جیسے وہ صحیح معنوں میں میاں بیوی ہوں۔ اگر وہ اس طرح نہ کرتے تو طلاق دینے کی صورت نہ بنتی۔
ژ
معتصم نے شانتل کو طلاق کے کاغذات دیئے اور اس نے ان پر دستخط کردیئے۔ تھوڑی سی سرکاری اور عدالتی موشگافیوں کے بعد عدالت نے دونوں کی طلاق تسلیم کرلی۔ اب یہ دونوں آزاد تھے۔ معتصم تو اسی وقت آزاد ہوچکا تھا جب اسے کاخت سیوغ ملا تھا لیکن اسے کئی ان جانے خوف تھے اس لیے اس نے طلاق تک انتظار کیا۔ جب یہ دونوں عدالت سے باہر آرہے تھے تو معتصم نے بڑی ہمت کرکے شانتل کو یوغج پومپیڈو جانے کے لیے کہا، جہاں وہ پہلی بار ملے تھے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ دوسری بار ملے تھے۔ اس نے کہا، ہم وہاں کچھ پئیں گے اور میں تمہیں آخری قسط بھی ادا کروں گا۔ شانتل کو معتصم کی تجویز پسند آئی۔ آج دن اچھا تھا۔ سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ یہ دونوں بہت جلد ہی یوغج پومپیڈو سنٹر پہنچ گئے۔ وہاں انہوں نے کافی کا آرڈر دیا۔ شانتل معتصم سے مخاطب ہوئی، ’’معتصم اب کیا کرو گے‘‘۔ معتصم نے کہا، ’’پاکستان جاؤں گا۔ اپنے ماں باپ سے ملوں گا۔ بہن بھائیوں سے ملوں گا۔ بہت عرصہ ہوگیا ہے اپنے ملک کو دیکھے ہوئے اور اپنے گھر والوں کو۔ وہاں جاکے شادی کروں گا اور تم شانتل‘‘۔ شانتل نے کہا، ’’میرا خیال ہے بلکہ میں نے سوچا ہے کہ میں فائن آرٹ کالج میں دوبارہ داخلہ لوں گی اور اپنی تعلیم مکمل کروں گی‘‘۔ معتصم نے کہا، ’’اگر تم چاہو تو میرے پاس ایک آفر ہے۔ میں ایک پاکستانی کو جانتا ہوں۔ اس کے پا س کاغذ نہیں۔ تمہیں مزید پیسے مل جائیں گے اور اس کو کاغذات۔ وہ
اچھا انسان ہے‘‘۔
شانتل نے کہا، ’’نہیں معتصم، میں یہ نہیں کرسکتی۔ تم اندازہ نہیں کرسکتے میں نے اپنی زندگی کے یہ سال کیسے گزارے ہیں۔ یہ صرف اور صرف میں ہی جانتی ہوں کہ میں کس کرب سے گزری ہوں۔ پیپر میرج تو کومن لاء میرج
(Common law marriage)
(کومن لاء میرج ایک ایسی شادی ہوتی ہے جو باقاعدہ شادی نہیں ہوتی بلکہ کوئی بھی لڑکا لڑکی بنا شادی کے اکھٹے رہتے ہیں اور جب دل چاہے یا جی اکتا جائے تو علیحدہ ہوجاتے ہیں۔ ان کے قانونی حقوق اتنے ہی ہوتے ہیں جتنے شادی شدہ جوڑے کے ہوتے ہیں) سے بھی زیادہ بری ہوتی ہے‘‘۔ معتصم نے کہا، ’’ٹھیک ہے۔ یہ صرف ایک آفر تھی۔ یہ رہی تمہاری باقی ماندہ رقم‘‘۔ شانتل نے رقم پرس میں رکھ لی اور کہا، ’’چلو چلیں‘‘۔
ژ
معتصم کی حالت ایسی تھی جیسے، ’’نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن‘‘۔ وہ بہت اداس اور پریشان تھا۔ وہ بڑا عجیب و غریب محسوس کررہا تھا۔ اُسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس نے بہتقیمتی چیز کھو دی ہو۔ دوسری طرف شانتل بھی پریشان تھی۔ دونوں اپنے اپنے گھر ٹیلی فون کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ معتصم نے ساری کالیں دیکھیں۔ دوسری طرف شانتل بھی ٹیلی فون کے ریکارڈ شدہ پیغامات سن رہی تھی لیکن معتصم کا کوئی پیغام نہیں تھا۔ اس طرح دن گزرتے گئے اور ایک دن شانتل کو کسی نے پیغام دیا کہ معتصم فلاں فلاں دن فلاں فلائٹ سے پاکستان جارہا ہے۔ وہ وہاں جاکے شادی کرے گا۔ یہ پیغام سنتے ہی اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے معتصم کا نمبر ملایا۔ معتصم نے فون اٹھایا اور ملنے والے پیغام کی تصدیق کردی کہ وہ پاکستان جارہا ہے اور وہاں جاکے شادی کرے گا۔ شانتل نے کہا، ’’میں جانتی ہوں کہ ہم دونوں میاں بیوی نہ تھے لیکن ہمارے درمیان ایک رشتہ تو تھا۔ اگر تمہیں ناگوار نہ گزرے تو کیا ہم مل سکتے ہیں‘‘۔ معتصم نے کہا، ’’ہاں کیوں نہیں۔ تم آج رات کھانا میرے ساتھ کھاؤ‘‘۔ شانتل نے کہا، ’’ٹھیک ہے‘‘۔
ژ
ہمیشہ کی طرح یہ دونوں وقتِ مقررہ پر ریستوران پر موجود تھے۔ انہوں نے ایک کونے والی ٹیبل پسند کی اور وہاں جاکے بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر میں ویٹر مینو لے آیااور انہوں نے کھانے کا آرڈر دیا۔ دونوں بالکل خاموش تھے۔ آخرکار شانتل نے سکوت توڑا، اور کہا، ’’معتصم تم پاکستان میں کسی کو پسند کرتے ہویا لیکن، کیا، کیسے، کیا خدا تمہارے لیے اوپر سے کوئی لڑکی بھیج رہا ہے‘‘ ۔ معتصم، شانتل کی اس بدحواسی پر بڑاحیران ہوا۔ خیر اُس نے کہا، ’’ایسا کچھ نہیں ہے۔ میرے ماں باپ میرے لیے لڑکی ڈھونڈیں گے اور میں ایک تابعدار بیٹے کی طرح ہاں کردوں گا۔ خواہ وہ میں نے دیکھی ہو یا نہ دیکھی ہو‘‘۔ اگر لڑکی کسی دوسرے مذہب یا ملک کی ہو تو‘‘، شانتل نے رندھے ہوئی آواز میں کہا۔ معتصم نے انتہائی تحمل سے جواب دیا، ’’پھر اس لڑکی کو اپنا مذہب بدلنا ہوگا۔ ہماری تہذیب و تمدن کو اپنانا ہوگا۔ ہماری اخلاقی اقدار کی قدر کرنی ہوگی‘‘۔ شانتل نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا، ’’معتصم کیا میں تمہیں ایک بات بتاؤں‘‘۔ معتصم نے کہا، ’’ہاں بتاؤ‘‘۔ شانتل بولی، ’’جب تم آنا کے ساتھ فلم دیکھنے گئے تھے۔ مجھے بالکل اچھا نہ لگا‘‘۔ ’’اور شانتل‘‘ معتصم نے اس کی بات کاٹتیہوئے کہا، ’’جب تم اس فرنچ لڑکے کے ساتھ گپ شپ لگارہی تھیں تو مجھے بھی اچھا نہ لگا‘‘۔ ’’اچھا وہ، وہ تو فائن آرٹس کالج میں میرا کلاس فیلو تھا۔ اسے تو یہ بھی نہیں پتا تھا کہ ہماری پیپر میرج ہوئی ہے۔ وہ تو ہمیں میاں بیوی ہی سمجھتا تھا‘‘۔ ’’اور آنامیرے ساتھ کام کرتی ہے۔ اُس دن اُس کا بوائے فرینڈ سے جھگڑا ہوا تھا، بیچاری بڑی پریشان تھی۔ میں اس کی دل بستگی کے لیے اس کے ساتھ چلا گیا تھا‘‘۔ شانتل نے موضوع بدلتے ہوئے کہا، ’’چھوڑو ان باتوں کو، میرے
پاس تمہارے لیے کچھ ہے۔ اس نے کاغذ میں لپٹی ہوئی کوئی چیز کھولی اور معتصم کو دکھاتے ہوئے کہا۔ یہ تصویر میں نے تمہارے لیے بنائی ہے۔ جب سے تمہارے قریب آئی ہوں میں نے دوبارہ مصوری شروع کردی ہے اور ہاں میں نے نشہ کرنا بھی چھوڑ دیا ہے‘‘۔ ’’اور تمہیں پتا ہے شانتل، میں نے زندگی میں کبھی دل لگا کے کام نہیں کیا تھا۔ جب سے اپنا ملک چھوڑا ہے یہ ثابت قدمی اور مستقل مزاجی میرے اندر پہلی دفعہ آئی ہے۔ تمہیں پتا ہے جب سے ہمارے درمیان طلاق ہوئی ہے میں سرد مہری اختیار کئے ہوئے ہوں۔ میں تمہیں آزاد دیکھنا چاہتا ہوں اور خود کو بھی ان تمام باتوں سے آزاد کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ ’’معتصم تم پاکستان جارہے ہو تمہیں یقیناپیسوں کی ضرورت ہوگی‘‘۔ معتصم نے کہا، ’’ہاں ضرورت تو پڑے گی اور ضرورت ہے بھی، لیکن تم اس بات کی فکر نہ کرو۔ میں نے کام والی جگہ سے ایڈوانس لیا ہوا ہے اور کچھ میرے پاکستانی دوستوں نے مدد کی ہے‘‘۔ شانتل نے مزید استفسار کیا، ’’معتصم کتنا عرصہ رکو گے‘‘۔ معتصم نے کہا، ’’عین ممکن ہے دو مہینے یا اس سے بھی کم‘‘۔ ’’کیا میں ایئر پورٹ پر تمہیں الوداع کرنے آسکتی ہوں‘‘۔ معتصم نے کہا، ’’ہاں کیوں نہیں‘‘۔ دونوں اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے اور دونوں جو بات کہنا چاہتے تھے وہ نہ کہہ سکے۔
ژ
چارلس ڈیگال
(Charles de Gaule)
ایئرپورٹ مسافروں سے کھچا کھچ بھرا تھا۔ معتصم انتظار گاہ میں بیٹھا انتظار کررہا تھا۔ وہ کسی کا انتظار کررہا تھا۔ اس نے ابھی تک بورڈنگ پاس نہیں لیا تھا۔ اس کے دوست اُسے مسلسل کہہ رہے تھے، تم خواہ مخواہ اس چٹیچمڑی والی کا انتظارکررہے ہو۔ یہ سب ایک جیسی ہوتی ہے۔ تم نے اپنا اُلو سیدھا کرلیا ہے۔ تم نے کون سا یہ کام مفت کیا ہے، اُسے رقم ادا کی ہے۔ اس نے بھی تم سے فائدہ اٹھایا ہے۔ اب تم اپنے ملک اور مذہب کی لڑکی سے شادی کرنا۔ ابھی اس کے دوست اس طرح کی باتوں سے اس کے کان بھر رہے تھے کہ دور سے معتصم کو شانتل آتی دکھائی دی۔ اسے تھوڑی دیر ہوگئی تھی۔ وہ اس کی طرف بھاگتی ہوئی آرہی تھی۔ وہ ا س کے پاس پہنچی اور اسے گلے سے لگا لیا۔ زور زور سے رونے لگی حتیٰ کہ اس کی ہچکی بندھ گئی۔ وہ ساتھ ساتھ رک رک کے بول بھی رہی تھی، ’’تم کتنے کمینے ہو۔ تمہیں ذرا بھی احساس نہیں ہوا کہ تم کسی کا دل توڑ کے جارہے ہو۔ صرف اپنے مطلب سے غرض تھی تمہیں۔ مطلب نکلا تو چل دیئے‘‘۔ اس نے پرس سے چالیس ہزار فرانک نکال کے دیئے۔ ’’یہ لو تمہارے چالیس ہزار فرانک اور مجھے میرے ضمیر کی عدالت سے نجات دلاؤ۔ تم سوچ نہیں سکتے میں نے یہ وقت کیسے گزارا۔ میں کبھی بھی ٹھیک طرح سو نہیں سکی۔ میرا ضمیر مجھے ہمیشہ ملامت کرتا رہا‘‘۔ ’’نہیں شانتل یہ پیسے تم رکھ لو۔ میری وجہ سے تمہیں بیروزگاری الاؤنس نہیں ملا‘‘۔ معتصم کے تمام دوست بڑی حیرت سے یہ تماشہ دیکھ رہے تھے، جیسے کوئی تھیٹر ہو۔
شانتل چلائی، ’’تم پاکستان چلے جاؤ۔ مجھے بھول جاؤ۔ وہاں شادی کرلو اور یہ بات ہمیشہ کے لیے بھول جانا کہ تم شانتل نام کی کسی لڑکی سے ملے تھے‘‘۔ ’’شانتل تم یہ کیا کہہ رہی ہو۔ ہم اچھے دوست رہیں گے‘‘۔ ’’تم اپنے پیسے رکھ لو۔ مجھے نہیں چاہیے تمہاری دوستی کیونکہ میں تم سے پیار کرتی ہوں۔ میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔ ایک دفعہ تم نے مجھ سے شادی کا کہا تھا، آج میں تم سے شادی کرنے کے لیے کہتی ہوں۔ اپنے مستقبل کے لیے‘‘۔ ’’لیکن شانتل میں مسلمان ہوں اور تم کرسچین‘‘۔ ’’میں اپنامذہب بدل لوں گی۔ ویسے بھی پیار میں مذہب کبھی حائل نہیں ہوا کرتا‘‘۔ معتصم نے کہا، ’’یہ میرے لیے کوئی اتنا بڑامسئلہ نہیں لیکن میرے ماں باپ بڑے مذہبی خیالات کے مالک ہیں۔ خیر جو بھی ہو اب ہم دونوں پاکستان جائیں گے کیونکہ میں بھی تم سے پیار کرتا ہوں۔ میں تمہیں کافی پہلے بتانا چاہتا تھالیکن پیپر میرج
کرکے میں خود کو بڑا گھٹیا محسوس کرتا تھا۔ بلکہ میں اپنی نظروں میں گرگیا تھا۔ کبھی کبھی مجھے ایسا لگتا تھا جیسے پوری پاکستانی قوم، فرانس کے لوگوں کے آگے جھک گئی ہو۔ لیکن پکڑے جانے اور ملک بدر کئے جانے سے میں اتنا ڈر گیا تھا کہ مجھے مجبوراً یہ قدم اٹھانا پڑا۔ میرے خوف نے میرے ضمیر کو شکست دے دی‘‘۔ ’’معتصم کیا تم جانتے ہو جب میں نے تمہاری آفر تسلیم کی، تم سے پیسے لیے تو مجھے ایسے لگا جیسے میں نے چند ٹکوں کی خاطر فرانس کی عظمت اور عزت کا سودا پاکستان کے ہاتھوں کردیا ہو۔ لیکن پھر پیار نے میرے دل کے دروازے پر دستک دی۔ تمہاری انسانیت اور ایمانداری نے مجھے متاثر کیا۔ میں کبھی ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچ سکتی تھی کہ پاکستانی کسی طرح بھی فرانس کے لوگوں سے کم تر ہوتے ہیں‘‘۔ ’’شانتل تمہیں پتا ہے میں بھی تمہارے پیار کی آگ میں جلتا رہا ہوں لیکن اظہار نہ کرسکا۔ میں یہی سوچتا رہا کہ اگر میں پیار کا اظہار کروں گا تو تم یہ سوچو گی کہ شاید میں پیسے بچانے کے چکر میں ہوں۔ اب شانتل ہمارے درمیان کوئی لالچ نہیں کوئی خود غرضی نہیں۔ ہم دوبارہ شادی کریں گے۔ شادی کاغذات پر لکھی جائے گی لیکن اس پیپر میرج کو ہم نام دیں گے۔ ان کاغذات کا تقدس ہوگا۔ اس لیے کہ ہم دونوں نے ضمیر کی عدالت میں فتح پائی ہے۔

بڑا گھر، میرے افسانوی مجموعے کلندستینی سے ایک افسانہ




بڑا گھر

چھوٹا سا کمرہ فائلوں سے اَٹا پڑا تھا۔ میز پر دو تین فون پڑے ہوئے تھے۔ ایک طرف پلاسٹک
(plastic)
کی ٹرے
(tray)
پڑی ہوئی تھی۔ جس پر ’’ان‘‘
(in)
لکھا ہوا تھا اور دوسری ٹرے
(tray)
الماری کے اوپر پڑی ہوئی تھی جس پر ’’آؤٹ‘‘
(out)
لکھا ہوا تھا۔ جمیل اور ارشد دونوں کمرے کا معائنہ اس طرح کررہے تھے جس طرح سپیشل پولیس
(special police)
والے کسی مشتبہ جگہ کا معائنہ کرتے ہیں۔ وہ اچھے اور بے تکلّف دوست تھے لیکن وہ وکیل کے کمرے میں اس طرح خاموش بیٹھے تھے جس طرح کسی میت یا فوتگی پر بچوں کو شرارت کرنے سے منع کردیا گیا ہو۔
ابھی دونوں انھی خیالات میں غلطاں و پنہاں تھے کہ دروازے کے ہینڈل
(handle)
کا کسی نے کان مروڑا اور کوئی صاحب اندر داخل ہوئے۔ مٹیالے رنگ کے بہت ہی نفیس ڈبل بریسٹ سوٹ
(double bressed suit)
میں ملبوس اور انتہائی عمدہ انداز میں ٹائی باندھے ہوئے تھے۔ مردانہ وجاہت سے بھرپور لیکن مونچھوں کے بغیر اس میں کمی واقع ہوگئی تھی۔ یہ جمیل اور ارشد کا اپنا خیال تھا۔ جیسے ہی وہ محترم یعنی بھٹی صاحب کرسی پر براجمان ہوئے، جمیل نے اپنا مدعا بیان کیا۔
’’بھٹی صاحب! یہ میرے عزیز ہیں، ارشد۔ معاشی بدحالی سے تنگ آکر اپنے ملک سے بھاگنے پر مجبور ہوگئے ہیں اور یہاں پر سیاسی پناہ کی درخواست دینا چاہتے ہیں‘‘۔ بھٹیصاحب نے چند ایک سوالات کئے اور ارشد صاحب کی علمی قابلیت سے متاثر ہوئے اور جمعرات کے دن کا وقت دیا۔ دونوں دوست جمیل اور ارشد سیڑھیوں سے اترتے ہوئے نیچے آگئے اور اس دوران دونوں اپنے اپنے خواب بُنتے رہے۔ آخر میں اپنے اپنے گھر کی راہ لی۔
ژ
جمعرات کو ارشد اکیلا ہی بھٹی صاحب کے کمرے میں حاضر ہوا اور جملہ کاغذات، جو سیاسی پناہ سے متعلق تھے، ان کے حوالے کئے۔ بھٹی صاحب نے کاغذات کو اُلٹ پلٹ کے دیکھا، جن میں گھر کا پتہ، ایک عدد بجلی کا بِل (جو کہ یہ ثابت کرتا تھا جس شخص نے گھر کا پتہ دیا ہے وہی شخص اس گھر میں رہ رہا ہے یا کوئی اور)، اس کے علاوہ چند صفحات کا بیان قلمبند کیا ہوا تھا، جو کہ فرنگیوں کی زبان میں یعنی انگریزی میں تھا۔ اسی اثناء بھٹی صاحب نے اپنی سیکرٹری کو بلوایا، جوجاتی بہار کے چند لمحات کی طرح خوبصورت تھی۔ ہندوستانی، پاکستانی اور انگریزی کے میلان سے وجود میں آنے والی اس نئی کریؤل
(creole)
یا پجن
(pidgin)
کہہ لیجئے، میں بولتی ہوئی اندر داخل ہوئی اور ٹرین سٹرائک
(train strike)
کے بارے میں بتانے لگی۔ اسی لیے وہ کسی کی گاڑی لے کر آئی تھی۔ بھٹی صاحب اِس محترمہ کو اپنے کلائنٹ
(client)
ارشد کی تفاصیل بتانے لگے کہ موصوف پڑھے لکھے آدمی ہیں اور بعض مجبوریوں کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے سیاسی پناہ لینا چاہتے ہیں اور فیس بھی ادا نہیں کرسکتے، اس لیے گرین فارم
(green form)
(گرین فارم ایک ایسا فارم ہے جس پر دستخط کرنے سے آپ کو انگلستان میں وکیل کی سہولت مفت فراہم کی جاتی ہے۔ وکیل کو اور جو بھی ہوم آفس تک آپ کے ہمراہ جاتا ہے یا جتنی دفعہ بھی ہوم آفس جانا پڑتا ہے انگلستان کی گورنمنٹ اس وکیل کو ایک ایک پائی ادا کرتی ہے) پر ان کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔
جس انداز سے وہ محترمہ اندر داخل ہوئی تھیں اسی انداز سے جھومتی ہوئی ارشد کو اپنے کمرے میں لے گئیں۔ ارشد کے کاغذات الٹ پلٹ کر دیکھنے لگیں اور پھر گرین فارم
(green form)
پر دستخط کروائے اور اس کے بعد اپنے ادارے کا فارم سائنکروایا۔ اسی دوران ایک فربہ اندام محترم اندر داخل ہوئے جو انگریزی چبا چبا کر بول رہے تھے یا شاید ان کا انداز ہی اس طرح کا تھا۔ کپڑوں کی میچنگ
(matching)
اتنی عجیب تھی کہ بیان سے باہر۔ انتہائی پرانے انداز کی ٹائی اور قمیص خانے دار یعنی چیک
(check)
والی، پتلون اس انداز سے باندھے ہوئے تھے جیسے کوئی ہاتھی کے پیٹ پر سختی سے بیلٹ باندھ دے۔ اور اس طرح سختی سے بیلٹ باندھنے کی وجہ سے اِن موصوف کا پیٹ دو حصوں میں تقسیم ہوگیا تھااور اس طرح لگتا تھا جیسے ان کے دو پیٹ ہیں۔ ان کی باتوں سے اس بات کا اندازہ ہوتا تھا جیسے سارے لندن کا بوجھ ان ہی کے کاندھوں پرہے اور پورے لندن میں ان سے ذمہ دار آدمی کوئی نہیں۔ وہ ارشد کے ضروری کاغذات کی فوٹو کاپی
(foto copy)
کرنے لگے اور اسی دوران ان محترمہ سے گفت و شنید بھی کرتے رہے۔ ارشد کسی ماہر ڈیٹیکٹو (

detective)
کی طرح کمرے کا معائنہ کررہا تھا۔ ایک الماری تھی جس میں ایک ہی طرح کی بیس یا تیس کتابیں پڑی ہوئی تھیں جن پر صرف سالوں کا فرق تھا۔ اور چند ایک کتابیں ادب پر بھی تھیں جن میں پکاسو
(Picasso)
، شیکسپیئر
(Shakespear)
، جین آسٹن
(Jane Austin)
کے چند ناول تھے۔ ایک طرف فوٹو کوپیئر
(foto copier)
تھا۔ چند عدد کرسیاں اور ٹیلی فون۔
اسی دوران ان محترمہ کا موبائل فون بجنے لگا اور وہ محترمہ محوِ گفتگو ہوگئیں۔ یہ سارا وقت ارشد پر اضطراری کیفیت طاری رہی۔ وہ اپنی مترنم آواز کا جادو جگارہی تھیں جیسے جلترنگ بج رہا ہو۔ موبائل فون پر گفتگو کا سلسلہ منقطع کرنے کے بعد وہ دوسرا فون گھمانے لگیں۔ اس دوران کمرے میں لوگ آتے رہے جاتے رہے اور وہ محترمہ دوسرے یعنی آنے والے دن کی بڑے گھر کی یعنی یونائیٹڈ کنگڈم آف گریٹ برٹن
(United Kingdom of Great Britian)
کے ہوم آفس
(Home Office)
کی اپوائنٹمنٹ
(appointment)
طے کرنے لگیں۔ ایک محترمہ، جن کا نام ماہ لقا تھا، وہ ایک بجے بروز جمعہ کے لیے تیار ہوگئیں اور دفتر کے پتے پر ملاقات کا طے کرکے خدا حافظ کہہدیا۔
ژ
ارشد پونے ایک بجے بھٹی لاء سنٹر میں موجود تھا۔ جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا اس کی نظر ایک منحنی سی محترمہ پر پڑی جو اُردو اس انداز سے بول رہی تھیں جس طرح آپ ٹرانسلٹریشن (
transliteration)
کریں تو لفظ لکھیں تو انگریزی میں بولے جائیں لیکن مطالب اُردو میں ہوں گے۔ اسی طرح وہ محترمہ وربل ٹرانسلٹریشن
(verbal transliteration)
کئے جارہی تھیں۔ جیسے ’’کریں گے‘‘ کو ’’کرین گے‘‘ انگلش فونیٹیکل انپمریشن
(English pheonetical impression)
اُردو پر چھایا ہوا تھا۔ خیر انہوں نے، جن کا نام ماہ لقا تھا، ارشد کا سرتا پا جائزہ لیا اور کچھ اس طرح شکل بنائی جیسے منہ میں کڑوا بادام آگیا ہو۔ اور سیڑھیاں اترتے اترتے ارشد کو سمجھانے لگیں کہ وہاں بڑے گھر یعنی ہوم آفس
(Home Office)
میں کیا ہوگا۔ وہ محترمہ دورانِ سفر بھی اس طرح لیے دیئے رہیں جس طرح کوئی براہمن، اچھوت کے ساتھ کسی مجبوری کے تحت سفر کررہا ہو۔ خدا خدا کرکے دونوں کروئیڈن
(Croydon)
پہنچے اور ٹیوب سٹیشن
(tube station)
سے نکلنے کے بعد دونوں مختلف گلیوں اور شاہراہوں سے گزرتے ایک بڑی بلڈنگ کے اندر داخل ہوئے۔ محترمہ بڑے گھر یعنی ہوم آفس
(Home Office)
کے تمام عملے سے بخوبی واقف تھیں۔ اسی دوران ان محترمہ کی ملاقات ایک انگریز سے ہوگئی اور وہ اس سے گفتگو میں مصروف ہوگئیں اور ارشد کو اپنے کمتر ہونے کا احساس بڑی شدت سے ہونے لگا۔ وہ سوچنے لگا، یہاں بھی گوری چمڑی والا کالی چمڑی والے کو مات دے گیا۔ خیر یہ لوگ دوسری منزل پر پہنچے اور اس لائن
(line)
میں کھڑے ہوگئے جس میں مطلوبہ کاغذات جمع کروانے تھے۔ ارشد، محترمہ کی بتائی ہوئی قطار میں کھڑا ہوگیا اور اپنی باری کا انتظار کرنے لگا۔ محترمہ نے ارشد کی پریشانی کو بھانپتے ہوئے قریب آکر اپنے خاص انداز کے اُردو تلفظ میں کہا، ’’جب تمھاڑی باڑی آئے گی مین پاش آجاؤن گی‘‘ (جب تمہاری باری آئے گی میں تمہارے پاس آجاؤں گی)۔
ارشد متعلقہ آدمی یا شاید افسر کے سامنے تھا۔ وہ محترمہ بھی حاضر ہوئیں۔ اس گورے کو کیس کی تفصیل بتانے لگیں اور ارشد اپنی ٹپیکل
(typical)
پاکستانی انگریزی میں بلکہ انگریزی کے پاکستانی تلفظ میں اپنی تفصیل بتانے لگا، جو انگریز کے پلے نہ پڑی اور وہ محترمہ انٹرپریٹر
(interpreter)
کے فرائض انجام دینے لگیں، جس مقصد کے لیے وہ ساتھ آئی تھیں اور ان کو اسی کام کے پیسے بھی ملے تھے۔ تمام تفاصیل سننے اور نوٹ کرنے کے بعد گورے نے کہا کہ ابھی آپ کو بلاتے ہیں۔ آپ کے فنگر پرنٹس
(finger prints)
لیے جائیں گے۔
ارشد اپنی باری کا انتظار کرنے لگا۔ لال رنگ کے سائن بورڈ
(sign board)
یا آپ اسے الیکٹرانک ڈسپلے مشین
(electronic display machine)
کہہ لیں، پر نمبر آرہے تھے۔ ارشد اپنے خیالوں میں محو تھا اور وہ محترمہ اس گورے سے گفت و شنید میں مصروف تھیں۔ پھر سحر ٹوٹا اورارشد کی باری آئی۔ پہلے ہاتھ دھونے کے لیے کہا گیا، اس کے بعد دونوں
ہاتھوں کی انگلیوں اور انگوٹھو ں کے پرنٹس
(prints)
لیے گئے۔ اس کے بعد ارشد کو دوبارہ ہاتھ دھونے کے لیے کہا گیا۔ ارشد سمجھا شاید پھر سے فنگر پرنٹس (
finger prints)
لیے جائیں گے لیکن ہاتھوں کی اس دوبارہ دھلوائی کے بعد اس سے کہا گیا کہ تم اس مرحلے سے بخوبی گزر گئے۔ اس کے ہاتھ میں نیلے رنگ کی ایک پرچی تھمادی گئی۔ کچھ لوگوں کے ہاتھ میں گلابی رنگ کی پرچی تھی۔ نیلی پرچی والے، کیس جمع کروانے آئے تھے اور گلابی پرچی والے یا تو پاسپورٹ واپس لینے آئے تھے یا کوئی بھی ٹریول ڈاکومنٹس
(travel documents)
واپس لینے آئے تھے۔ مختلف کاؤنٹر
(counter)
بنے ہوئے تھے۔ ایک ایک کر کے لوگوں کو بلایا جارہا تھا۔ اسی طرح لال رنگ کے سائن بورڈ
(sign board)
پر مختلف نمبر چل رہے تھے۔ ارشد حسبِ معمول اس طائرانہ مشاہدے میں مصروف تھا کہ ارشد کا نمبر آگیا۔ وہ محترمہ بھی ساتھ ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔ نمبر دیکھتے ہی ارشد کو ساتھ لیا اور متعلقہ کاؤنٹر پر پہنچ گئیں۔ ارشد نے اپنے سارے ڈاکومنٹس، تصاویر اور متعلقہ کاغذات کاؤنٹر پر بیٹھے شخص کو پیش کئے اور ان صاحب نے اس کے تمامکاغذات پاس رکھ لیے اور اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ کا ٹکڑا پکڑا دیا جس پر انٹر ویو
(interview)
کی تاریخ لکھی ہوئی تھی اور وقت بھی درج تھا۔ تین دن بعد کی تاریخ تھی۔ وہ محترمہ، ارشد اور گورا تینوں نے واپسی کا سفر باندھا اور یہ تینوں تیز تیز ڈگ بھرتے ہوئے ٹیوب سٹیشن
(tube station)
کی طرف قدم بڑھانے لگے۔ جیسے ہی ٹرین میں سوار ہوئے ارشد کو پتا چلا جسے وہ رقیبِ رو سیاہ سمجھ رہا تھا، یعنی گورا، وہ محترم بھی انگریزی انداز کی اُردو بول رہے ہیں اور گفتگو پرتوجہ دینے کے بعد پتا چلا کہ محترم گورے نہیں بلکہ ان کی رگوں میں کسی ایشیائی کا خون دوڑ رہا ہے۔
بلیک فرائر پہنچنے
(Black Friar)
پر ان محترمہ نے ارشد کو خدا حافظ کہا اور بڑے گھر یعنی ہوم آفس
(home office)
پر درج شدہ وقت اور تاریخ پر انہیں ملنے کو کہا اور بھٹی لاء والوں کو بھی اطلاع کرنے کو کہا۔ اس کے بعد وہ گورے کے ساتھ، میرا مطلب ہے، ایشیائی گورے کے ساتھ روانہ ہوگئیں۔ ارشد غلطاں و پنہاں انسانوں کے ہجوم میں گم ہوگیا۔
ژ
ارشد نے سب سے پہلے بھٹی لاء کے دفتر میں قدم رنجہ فرمائے اور تفاصیل جاننے کے بعد بڑے گھر یعنی ہوم آفس
(home office)
کی طرف روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچنے پر پتا چلا کہ وہ محترمہ، ماہ لقا تو ابھی پہنچی ہی نہیں۔ وہ دوسری منزل پر اپنے کاغذات لیے کھڑا تھا اور ساتھ ساتھ ’’کلنگ می سوفٹلی‘‘
(killing me softly, a song by fugees)
گائے چلا جارہا تھا، لیکن انتہائی دھیمی آواز میں کہ کوئی سن نہ لے۔ ویسے بھی چند شعروں کے علاوہ اسے آج تک سمجھ ہی نہ آئی اور نہ ہی وہ گانے میں ماہر تھا اور آواز بھی کوئی خاص نہ تھی۔ جس محترمہ نے اس کی درخواست کا اندراج کرنا تھا اس کے کانوں میں جب اس گانے کی دھن سنائی دی تو وہ بھی ارشد کے ساتھ گنگنانے لگی۔ اس نے شایدلپسنگ
(lipsing)
سے سمجھ لیا تھا کہ ارشد کیا گارہا تھا۔ وہ محترمہ بھی شاید اس گانے سے لگاؤ رکھتی تھیں۔ ارشد کو بتانے لگیں کہ یہ گانا ساٹھ کی دھائی میں بلکہ ستّر کے اوائل میں روبرتا فلیک
(Roberta Flac)
نے گایا تھا اور اب فیوجیز
(Fugees)
نے اس گانے کودوبارہ گا کر دوبارہ زندہ کردیا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے روبرتا فلیک
(Roberta Flac)
نے اس کو زیادہ اچھے انداز میں گایا تھا۔
اس محترمہ نے ارشد کو تیسری منزل پر بھیج دیا۔ جب ارشد وہاں پہنچا تو اسے ایک کمرے میں جانے کو کہا گیا۔ اس نے اپنا نام پتہ لکھوایا اور متعلقہ کاغذات بھی کاؤنٹر پر دکھائے۔ کاؤنٹر
(counter)
پر موجود خاتون نے ارشد کو بیٹھنے کو کہا اور باری آنے پر بلانے کوکہا اورانٹرپریٹر
(interpreter)
کا پوچھنے لگیں، سولیسٹر
(solicitor)
کا بھی پوچھا۔ ارشد کنفیوشن
(confussion)
میں اس کے سوالوں کے جواب دینے لگا۔ پھر آکرکے پلاسٹک کی کرسیوں پر بیٹھ گیا اور اپنی باری اور وکیل، میرا مطلب ہے، وکیلنی کا انتظار کرنے لگا۔ جس ہال میں وہ بیٹھا ہوا تھا اس کاحسبِ عادت معائنہ بھی کرنے لگا۔ ایک تو وہ جگہ تھی جہاں ارشد بیٹھا ہوا تھا اور اس ہال کے ارد گرد چھوٹے چھوٹے کئی کمرے بنائے گئے تھے۔ کمرے اس نوعیت اور ساخت کے تھے کہ صاف دکھائی دیتا تھا کہ کس کمرے میں کیا ہورہا ہے اور کون بیٹھا ہے۔ ارشد کے اس معائنے کا تسلسل اس وقت ٹوٹا جب وہ محترمہ تشریف لائیں، یعنی ماہ لقا، اس کی وکیلنی۔ اور آتے ہی ارشد کو سمجھانے لگیں، اپنے دیر سے آنے کے لیے معذرت کرنے لگیں، ’’سوری
(sorry)
میں ذرا لیٹ
(late)
ہوگئی‘‘۔ پھر ارشد کا نام پکارا گیا اور گوری چٹی محترمہ اسے اپنے ساتھ کمرے میں لی گئیں۔ جس کے سینے پر کسی اسلامی نام کی چھوٹی سی پلیٹ
(name plate)
لگی ہوئی تھی۔ کس ملک کی رہنے والی تھیں پتا نہ چلا۔
اب کمرے میں مترجم، وکیلنی، امیگریشن
(immigration)
آفیسر اور ارشد یہ چار لوگ تھے۔ یعنی تین خواتین اور ایک مرد۔ ان گوری چٹی محترمہ نے ارشد سے سوالات پوچھنے شروع کئے جو کہ تینتیس (۳۳) کے قریب تھے۔ مترجمہ، ان گوری چٹی محترمہ کے انگریزی الفاظ و تراکیب کا اس طرح ترجمہ کرتیں جس طرح کیڈبری
(Cadbury)
کی مشین میں پیسے ڈالیں تو پیسوں کے بدلے چوکلیٹ
(choclate)
نکل آئے۔ اسمترجمہ کے منہ سے اُردو و پنجابی کے الفاظ و جملے اس طرح نکلتے جیسے کوئی پرنٹنگ مشین
(printing machine)
بڑے سلیقے سے چھپائی کررہی ہو۔ ارشد اپنے دماغ کی پٹاری سے سوالات کے جوابات بناتا جاتا اور نکالتا جاتا جو کہ سرا سر تمام کے تمام جھوٹ پر مبنی تھے۔ ان کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہ تھا۔
اپنے علمی و ادبی تجربے کی بنا پر وہ تمام سوالات کے جوابات دیتا جارہا تھا۔ اس کے بعد ان سوالات کے متعلق مزید سوالات کرنے کے بعد ارشد کی خلاصی ہوئی۔ اس کے بعد ارشد کو اس کی وکیلنی نے یعنی جن کا نام ماہ لقا تھا، ساتھ لیااور ایک اور جگہ لے آئیں۔ ارشد چونکہ اس عمارت کی بھول بھلیوں سے نابلد تھا اس لیے وہ نہ جان سکا کہ وہ کن کن راہوں اور بھول بھلیوں سے گزر کر یہاں تک آیا تھا۔ اب یہ دونوں جس جگہ وارد ہوئے تھے اس کمرے میں ایک انگریز اور کوئی دوسری محترمہ بطور مترجمہ موجود تھیں۔ اب کمرے کو بند کردیا گیا۔ ایک مختصر سا انٹرویو ریکورڈ
(interview record)
کیا گیا۔ ارشد کو وہ انٹرویو
(interview)
سنوایا گیا۔ اس کے بعد وہ کیسٹ
(casette)
ٹیپ ریکارڈر
(tape recorder)
سے نکال کر ارشد کے کیس یعنی اس کے کاغذات کے ساتھ نتھی کردی گئی۔ ارشد کے ہاتھ میں ایک خاکی لفافہ تھمادیا گیا۔ جس پر اس کی فوٹو، فنگر پرنٹس
(finger prints)
اور درخواست جمع کروانے کی تفاصیل لکھی ہوئی تھیں۔ وہ کتنے عرصے تک اس ملک میں رہ سکتا ہے یہ کیس کی نوعیت پر منحصر تھا۔ اور ہے لیکن سب سے زیادہ جس بات نے ارشد کو دھچکا دیا وہ یہ کہ اس کاغذ
کے اوپر چند سطور لکھیں تھیں۔ وہ یہ کہ چھ مہینے تک کام کی اجازت نہیں۔ یہ سارے پاپڑ اس لیے بیلے گئے تھے کہ اسے انشورنس نمبر مل جائے گا اور وہ کوئی اچھا کام ڈھونڈ لے گا یا کم از کم سوشل سیکیورٹی ملے گی۔ وہ بھی وہ کلیم نہیں کرسکتا تھا۔

بچت میرے افسانوی مجموعے کلندستینی سےایک افسانہ


بچت


احمد ندیم کاظمی اپنے دوست کے ساتھ بڑی دیر سے بحث کررہا تھا کہ وہ بی ایس سی میں تین دفعہ فیل ہو چکا ہے اور اب وہ ٹیکنیکل کالج کی خاک چھان رہا ہے۔ وہاں کے چکر لگا رہا ہے۔ اگر کبھی غلطی سے ڈپلومہ کر بھی لے گا تو کیا کرے گا۔ لیکن جاوید احمد صدیقی اس بات پر مُصر تھا کہ وہ ڈپلومہ کرکے کوئی اچھی نوکری ڈھونڈلے گا۔ بی ایس سی نہ سہی ڈپلومہ ہی سہی۔ ان کی بحث کسی نتیجے پر نہ پہنچی سکی۔
ژ
جاوید احمد صدیقی کو اچانک نہ جانے کیا سوجھی، اس نے انگلینڈ جانے کا فیصلہ کرلیا۔ بی ایس سی، ٹیکنیکل ڈپلومہ دونوں وہیں دھرے رہ گئے۔ کاظمی نے بہت سمجھایا کہ نہ جاؤ لیکن صدیقی جس کام کو کرنے کی ٹھان لیتا تو کرکے ہی رہتا۔ جیسے تیسے کرکے صدیقی نے انگلینڈ کا وزٹ ویزہ حاصل کرلیا۔ اب وہ انگلینڈ جانے کی تیاریاں کرنے لگا۔ کاظمی ایم ایس سی کرچکا تھا اور اب وہ نوکری کی تلاش میں تھا۔ لیکن صدیقی اپنی ادھوری تعلیم کے ساتھ انگلینڈ جارہا تھا۔ دونوں نے اپنے بہتر مستقبل کے لیے بے شمار منصوبے بنائے تھے۔ کئی خواب بُن رکھے تھے۔ کاظمی کے خواب پورے ہونے والے تھے کیونکہ وہ تعلیم مکمل کرچکا تھا۔ اس کے خواب بڑے عام سے تھے، جیسا کہ ایک تعلیم یافتہ نوجوان کے ہوا کرتے ہیں۔ یعنی تعلیم، نوکری، گھر، شادی، بچے۔ لیکن صدیقی اس کے برعکس بہت زیادہ دولت کمانا چاہتا تھا، اسلیے وہ دولت کمانے کے آسان طریقے سوچتا رہتا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ جی لگا کر نہ پڑھ سکا، نہ ہی بی ایس سی کرسکا اور نہ ہی ٹیکنیکل ڈپلومہ کرسکا۔ اب وہ انگلینڈ جارہا تھا۔
ژ
صدیقی کے تمام گھر والے اسے ایئر پورٹ پر چھوڑنے آئے حتیٰ کہ اس کی منگیتر بھی۔ گھر والوں کے علاوہ کاظمی بھی ایئر پورٹ پر آیا ہوا تھا۔ صدیقی بڑی مشکل سے گھر والوں اور اپنے جگری دوست کاظمی سے جدا ہوکے پردیس جارہا تھا۔ لیکن اسے انگلینڈ پہنچنے کی بھی بہت جلدی تھی۔ اس نے اپنی ماں کو بہت بہت تسلیاں دیں کہ وہ جیسے ہی تھوڑا سا مالی طور پر مستحکم ہوجائے گا تو تسنیم کو بھی بلالے گا۔ سب نے دکھ اور خوشی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ جاوید کو خدا حافظ کہا۔
ژ
جاوید احمد صدیقی کے دور کے چچا لندن میں رہتے تھے۔ اس نے ہیتھرو ایئرپورٹ پر اترتے ہی اپنے دور کے چچا کو فون کیا اور اس کے دور کے چچا نے دور سے ہی کہہ دیا کہ فلاں فلاں ٹرین پر بیٹھ کے گھر آجاؤ۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ گھر پہنچا تو رات کے کھانے کا وقت تھا۔ سب نے مل بیٹھ کے کھانا کھایا اور اس کے بعد اس کے دور کے چچا نے اسے گاڑی میں بٹھایا اور ایک مکان کے سامنے گاڑی روک دی اور اس سے کہا کہ اب تم یہیں رہو گے، جب تک تمہارے رہنے کا ارادہ ہو۔ جاوید اپنے اس دور کے چچا کی اس دور اندیشی سے بڑا متاثر ہوا۔
ژ
ابھی اسے یہاں رہتے ہوئے تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ اسے کام مل گیا اور کام ملتے ہی اس نے ان لوگوں کو، جہاں یہ رہتا تھا، کھانے پینے کا خرچہ اور کرایہ ادا کرنا شروع کردیا۔ جاوید تو یہاں مستقل طور پر رہنے آیا تھا لیکن ا س نے اپنے دور کے چچا پر اپنا ارادہ اس لیے نہ ظاہر کیا کیونکہ ایئر پورٹ سے گھر تک آنے میں وہ تمام حقائق سے آشناء ہوچکا تھا۔ آپ اسے جاوید کی قسمت کہہ لیجئے یا چالاکی کہ اسے ایک ایسی لڑکی مل گئی جو اس کے ساتھ شادیکرنے کو تیار ہوگئی۔ اس نے لڑکی کے باپ دادا کے ساتھ اپنا ڈاکخانہ ملایا۔ لڑکی والے بھی انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے (اس کے بعد یہ لوگ ہجرت کرکے انگلستان آ گئے تھے) اور جاوید کے بزرگ بھی ہندوستان سے ہجرت کرکے آئے تھے۔ جاوید کی قسمت اچھی تھی کہ شادی ویزے کی مدت میں ہوگئی ورنہ اسے واپس جانا پڑتا اور اس کے ساتھ ایک لمبا سلسلہ شروع ہوجاتا۔ وہ مرزا غالبؔ نے کیا خوب کہا ہے،
’’کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘
جاوید نے شادی کے بعد اس لڑکی کے ہاں ہی رہنا شروع کردیا۔ لڑکی کا اپنا مکان تھااور کسی بینک میں کام کرتی تھی۔ دونوں کی اچھی گزر بسر ہونے لگی۔ جاوید کے لیے راحیلہ دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی تھی۔ وہ کیوں نہ ہوتی، جاوید کے لیے انگلینڈ میں مستقل رہنے کی وجہ تھی۔ جیسے ہی جاوید کے پاسپورٹ پر انڈیفینٹ سٹے (indefinite stay) کی مہر لگی، جاوید تو خوشی کے مارے پاگل ہوگیا۔ راحیلہ امید سے تھی اس لیے پاکستان جانے کا کوئی خاص پروگرام نہ بن سکا۔ اس دوران جاوید کے دور کے چچا کو کہیں سے پتا چل گیا کہ جاوید کو انگلینڈ میں رہنے کا اجازت نامہ مل گیا ہے جسے انڈیفینٹ سٹے (indefinite stay)کہتے ہیں تو وہ اس کے نزدیک کے چچا بن گئے اور گاہے بگاہے جاوید کے ہاں آنے لگے۔ جاوید نے اس دوران چھوٹا موٹا کاروبار شروع کردیااور ڈرائیونگ ٹیسٹ بھی پاس کرلیا۔ ایک سستی سی گاڑی بھی خرید لی۔ بظاہر تو ایسا لگتا تھا کہ جاوید، راحیلہ سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے، لیکن یہ خدا جانتا تھا یا وہ خو د جانتا تھا۔ جیسے ریاضی میں پرائم نمبر ہوتے ہیں جو ایک پر تقسیم ہوتے ہیں یا اپنے آپ پے۔ جاوید کو خدا نے بیٹی جیسی نعمت سے نوازاتھا۔ وہ بظاہر تو بڑا خوش تھا، مگر حقیقت میں وہ خوش نہیں تھا۔ راحیلہ کے لیے جاوید سے شادی کرنا جنت میں رہنے سے کم نہیں تھا۔ اس اثناء راحیلہ کو بینک سے چھٹیاں ملیں اور جاوید بھی کاروبار کرتے کرتے تھک گیا تھا، اس لیے انہوں نے پاکستان جانے کا پروگرام بنایا۔
ژ
لاہور ایئرپورٹ پر کاظمی اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ صدیقی کو رسیو کرنے آیا ہوا تھا۔جاوید کے گھر والے توآئے لیکن اس کی منگیتر نہ آئی۔ اب یہ منگنی تقریباً ٹوٹ چکی تھی اور راحیلہ کو اس بات کا قطعاً علم نہیں تھا کہ جاوید کی پاکستان میں منگنی ہوچکی تھی۔ سب نے ان دونوں میاں بیوی اور ننھی جنین کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ گھر پہنچنے تک جاوید، احمد ندیم کاظمی کو تمام کہانی سنا چکا تھا۔
ژ
جاوید، راحیلہ اور جنین ایک ماہ تک لاہور میں مختلف رشتہ داروں کے ہاں دعوتیں اڑاتے رہے اور وقت کا پتا ہی نہ چلا۔ اس طرح واپسی کا دن آگیا۔ سب نے جاوید، راحیلہ اور جنین کو دکھی دل کے ساتھ رخصت کیا لیکن جاوید نے جلد واپس آنے کا وعدہ کیا۔ خدا خدا کرکے جہاز کا تکلیف دہ سفر ختم ہوا اور ان کے جہاز کے پہیوں نے ہیتھرو ایئرپورٹ کے رن وے کو چھوا تو ننھی سی جنین کی آنکھ کُھل گئی۔ امیگریشن اور سامان کے تمام مراحل سے گزرنے کے بعد جب یہ لوگ گیٹ سے باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ جاوید کے دور کے چچا (جو اب نزدیک کے چچا ہوگئے تھے۔ انہوں نے پاکستان فون کرکے ان کے آنے کی خبر حاصل کرلی تھی اس لیے وہ) انہیں لینے آئے ہوئے تھے۔ جاوید نے خدا کا شکر ادا کیا اور گھر کی راہ لی لیکن راستے میں جاوید کے دور کے چچا کہنے لگے، کھانا ہمارے ہاں کھا کے پھر چلے جانا، تم لوگ بہت تھکے ہوئے ہو گے۔ جاوید کو کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔ ان کے گھر سے کھانا کھا کر جب فراغت حاصل کرچکے تو جاوید کے دور کے چچا انہیں گھر تک چھوڑنے آئے۔
ژ
جاوید کو برٹش پاسپورٹ مل گیا۔ وہ بہت خوش تھا۔ اسے ایسا لگتا تھا جیسے اس نے بی ایس سی کرلی ہو یا ٹیکنیکل ڈپلومہ حاصل کرلیا ہو۔ جاوید کو جیسے ہی پاسپورٹ ملا، پاکستان میں اس کے والد صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی اور جاوید کو اکیلے پاکستان جانا پڑگیا۔ راحیلہ، جاوید کو پاگلوں کی طرح چاہتی تھی اور اسے اس پر مکمل اعتماد تھا۔ اس کے دل کے نہاں خانے میں کبھی بھو ل کر بھی یہ خیال نہ آیا کہ جاوید کو اس کے ساتھ شادی کرکے برٹش پاسپورٹ ملا ہے۔ ان کی چونکہ ایک عدد بیٹی بھی تھی اس لیے شک کی گنجائش ہی نہیں تھی۔ اس نے خوشیخوشی جاوید کو رخصت کیا اور اسے تسلی دی کہ تمہارے والد صاحب میرے والد صاحب کی طرح ہیں، انہیں کچھ نہیں ہوگا۔
ژ
جاوید نے بڑی تگ و دو کے بعد اپنی منگیتر کے ماں باپ کو راضی کیا اور انہیں سمجھایا کہ اس نے انگلینڈ میں مستقل سکونت اختیار کرنے کے لیے شادی کی ہے۔ اگر وہ بچہ پیدا کرنے میں کوئی حیل وحجت کرتا تو اس کی بیوی کو شک ہوجاتا، اس لیے اس نے کبھی بھی اپنے دل کی کیفیت اپنی بیوی کو بھانپنے نہیں دی۔ خیر جاوید کی شادی اس کی منگیتر کے ساتھ کردی گئی اور جاوید کے والد صاحب کی طبیعت بھی ٹھیک ہوگئی۔ اس طرح ایک ماہ کی مدت گزرتے ہی جاوید نے رختِ سفر باندھا۔ اس دفعہ ایئر پورٹ پر راحیلہ اور جنین آئی تھیں۔ راحیلہ بہت روئی لیکن اب کیا ہوسکتا تھا۔ جاوید نے کہا کہ میں بہت مجبور تھا۔ میری منگیتر کے والد صاحب کو دل کا دورہ پڑا۔ اگر میں شادی نہ کرتا تو وہ اس دنیا سے رخصت ہوجاتے اور ان کی موت کا ذمہ دار میں ہوتا، لیکن یہ بات سچ ہے کہ میں پیار تمہی سے کرتا ہوں۔ راحیلہ اسے بت بنی دیکھتی رہی۔ جاوید پھر کام پر جانے لگا اور راحیلہ نے بینک کی نوکری چھوڑ دی۔ اب وہ بہت اداس رہنے لگی تھی۔ اسے جاوید کی بات کا یقین آگیا اور جاوید کے پیار میں بھی کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔ ویسے بھی جاوید تو اس کے پاس تھا۔ ایک دن جاوید نے راحیلہ سے کہا، ’’اگر میں تمہیں طلاق دے دوں اور تم سنگل پیرنٹ بینیفٹ کلیم (single parent benifite claim) کرنا شروع کر دو۔ جس مکان میں ہم رہتے ہیں اس کا کرایہ بھی کلیم کرنا شروع کردو، ہم لوگ مفت میں رہیں گے اور جو بچت ہوگی وہ جنین کے مستقبل کے لیے رکھ چھوڑیں گے۔ راحیلہ نے جاوید کی بات مان لی کیونکہ جس طرح پیپر میرج ہوتی ہے اس طرح پیپر ڈیوورس (کاغذی طلاق) بھی ہوتی ہے، یعنی جعلی طلاق۔ ہوتی تو وہ حقیقت میں طلاق ہی ہے لیکن طلاق یافتہ میاں بیوی اکھٹے رہتے ہیں (میں یہاں اسلامی قانون کی بات نہیں کررہا بلکہ برٹش لاء کی بات کررہا ہوں) لیکن کاغذات میں وہ شادی شدہ نہیں ہوتے۔ اس طرح بیوی اور بچوں کو علیحدہ بینیفٹ ملتا رہتا ہے اور اگر خاوند کے پاس کام نہ ہوتو اسے بھی بینیفٹ ملتا رہتا ہے اور سنگل پیرنٹ کو کونسل کا گھر ملنے کے زیادہ چانسس (امکانات) ہوتے ہیں۔ یہ سارے اقدامات کرنے کے بعد جاوید نے پاکستان کے زیادہ چکر لگانا شروع کردیئے۔ برٹش سرکار کے کاغذات میں وہ بیروزگار تھا۔ اس نے اپنا کاروبار دوبئی میں پھیلانا شروع کردیا تھا۔ اب تک جاوید کافی امیر آدمی بن چکا تھا۔ وہ پاکستانی حساب سے کروڑ پتی بن چکا تھا۔ اس کے علاوہ دو دفعہ پتی بھی بن چکا تھا۔ راحیلہ ان تمام باتوں سے نابلد و ناواقف تھی کیونکہ اسے تو یہی فکر کھائے جارہی تھی کہ اس کا اور اس کی بیٹی کا مستقبل کیا ہوگا۔ کئی دفعہ جاوید نے راحیلہ کو باور کرایا کہ وہ پاکستان والی بیوی کو طلاق دے دے گا۔ لیکن اس دوران اس کی پاکستانی بیوی کے ہاں بھی دو بچیاں پیدا ہوچکی تھیں۔
ژ
جنین اب بڑی ہوچکی تھی اور اچھے برے کی تمیز کرسکتی تھی۔ اس کے باپ نے جنین کے نام مکان بھی خرید لیا تھا کہ جب اس کی شادی ہوگی تو یہ اور اس کا میاں دونوں وہیں رہیں گے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں جو بیٹیاں تھیں ان کے نام بھی ایک ایک مکان تھا جن کی مالیت پچاس پچاس لاکھ تھی۔ گو وہ دونوں بھی اب برٹش نیشنل تھیں لیکن انہوں نے ابھی تک انگلستان کا سفر نہیں کیا تھا، کیونکہ جاوید نہیں چاہتا تھا کہ انگلستان کے برے ماحول کا ان پر اثر پڑے۔ اس کے نزدیک اس نے جو شادی انگلینڈ میں کی تھی، یعنی راحیلہ اور جنین تو نیشنیلٹی حاصل کرنے کا ایک طریقہ تھا۔ آپ اسے ایک طرح کی انویسٹمنٹ کہہ لیجئے۔ لیکن وہ کبھی بھی اپنے احساسات و جذبات اور اپنے کسی بھی عمل سے یہ بات ظاہر نہ ہونے دیتا کہ وہ ان کے بارے میں کیا محسوس کرتا ہے۔ جاوید کے لیے وقت بڑی تیزی سے گزر رہا تھا اور راحیلہ کے لیے وقت رینگ رہا تھا۔ وہ زندگی کو کسی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹ رہی تھی۔
ژ
جاوید نے بڑی کوشش کی کہ جنین شادی کرلے لیکن برٹش قانون کے مطابق وہ اپنی بیٹی کو مجبور نہیں کرسکتا تھا۔ جنین کی شادی نہ کرنے کی وجہ صرف اتنی تھی کہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ جوکچھ اس کی ماں کے ساتھ ہوا، اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو۔ وہی کہانی ایک دفعہ پھر دہرائیجائے۔ ا س کے برعکس پاکستان میں دونوں بیٹیوں کی شادیاں کردیں۔ اس کے دونوں داماد جانتے تھے کہ یہ دونوں بہنیں برٹش نیشنل ہیں اس لیے انہوں نے دونوں بہنوں پر دباؤ ڈالا کہ انگلستان جانا چاہیے، یہاں کچھ نہیں رکھا۔ اور آخرکار ایک ایک کرکے دونوں بہنیں انگلستان چلی آئیں۔
ژ
جنین اپنی سوتیلی بہنوں کی وجہ سے بڑی پریشان تھی کیونکہ دونوں کے خاوندوں کو برٹش پاسپورٹ مل چکے تھے اور دونوں کو طلاق بھی ہوچکی تھی۔ جس کی وجہ سے ایک تو ایک جمیکن کے ساتھ رہنے لگی تھی اور دوسری کا مرد ذات سے اعتبار اٹھ چکا تھا اس لیے وہ ایک لڑکی کے ساتھ رہنے لگی تھی۔ جنین کو بڑی حیرت ہوئی کہ میں انگلینڈ میں پیدا ہوئی ہوں اور میں نے اس ملک میں آنکھ کھولی ہے جہاں کا ماحول پاکستان سے یکسر مختلف ہے، مجھ پر اس ملک کے ماحول کا رنگ نہیں چڑھا۔ لیکن اس کے برعکس اس کی سوتیلی بہنیں کتنی جلدی اس رنگ میں رنگی گئیں۔ گو کہ یہ سب کچھ ہونے میں سات سال لگے پھر بھی یہ سب کچھ بہت جلدی ہوا۔
ژ
جاوید پر فالج کا حملہ ہوا اور مستقل طور پر ہسپتال کا مہمان بن گیا۔ اس کی پاکستانی بیوی سے جو بیٹیاں تھیں وہ کبھی بھول کر بھی اپنے باپ کو دیکھنے نہ آئیں لیکن جنین کبھی کبھی آجایا کرتی۔ ہسپتال میں اسے ہر طرح کا آرام تھا لیکن اس کی آنکھیں اپنے بچوں کو دیکھتی تھیں۔ جنین کی بات الگ تھی، وہ کئی دفعہ ہسپتال آتی اور اپنے باپ کی دیکھ بھال کرتی۔ جاوید کے فالج کی وجہ سے دونوں ہاتھ نہ جڑ سکتے تھے لیکن اس کی آنکھیں بتاتی تھیں کہ وہ معافی کا خواستگار ہے، اپنی بیوی راحیلہ سے اور اپنی بیٹی جنین سے۔ اس کی تمام دولت نہ تو راحیلہ کی جوانی واپس لاسکتی تھی، نہ جنین کے لیے باپ کی شفقت جس سے جنین محروم رہی۔ اور سب سے بڑھ کے یہ کہ اس کی دولت اسے صحت یاب بھی نہیں کرسکتی تھی۔ یہ تمام دولت، اس کی تمام پلیننگز اور چالاکیاں یہ چیزیں فراہم نہیں کرسکتی تھی۔ آخرکار ایک دن جاوید کو جبجنین سوپ پلانے لگی تو سارا سوپ منہ سے باہر گر گیا ااور اس کا سر ایک طرف ڈھلک گیا۔ اس کی بیوی راحیلہ کے منہ سے صرف اتنے الفاظ نکلے،
’’جاوید تم ساری زندگی دولت بچاتے رہے، کاش تم بچوں کی تربیت کی صورت میں بچت کرتے نہ کہ دولت کی صورت میں، تو آج تمہاری تینوں بیٹیاں تمہارے پاس ہوتیں‘‘۔

بادانتے، میرے افسانوی مجموعے کلندستینی سے ایک افسانہ



بادانتے

میں شانتی کو گزشتہ چھ سال سے جانتا ہوں۔ مجھے اریزو شہر میں رہتے ہوئے بھی چھ سال ہوچلے ہیں اس لیے میں شانتی کو چھ سال سے جانتا ہوں۔ شانتی ایک سری لنکن عورت ہے جو مذہب کے اعتبار سے ہندو ہے۔ مجھے جب پتا چلا کہ شانتی کو دل کا دورہ پڑا ہے تو میں بڑا حیران ہوا کیونکہ میں نے جب بھی اسے دیکھا وہ تیز تیز چل رہی ہوتی۔ یعنی وہ ہر وقت چاک و چوبند رہتی تھی۔ شانتی اس وقت اریزو شہر کے ہسپتال سان دوناتو
(SAN DONATO)
میں زیرِ علاج ہے۔ عین ممکن ہے کہ اُسے مزید علاج کے لیے سینا
(Siena)
یا میلانو
(Milano) بھیج دیا جائے۔ میری یہ دعا ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہوجائے۔
پہلے میں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ بادانتے
(BADANTE)
یا کولف
(COLF)
کیا ہوتا ہے۔ اٹلی میں کسی بھی معذورشخص، بوڑھے شخص یا ذہنی مریض کی دیکھ بھال کرنے والے کو بادانتے کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈومیسٹک جاب
(domestic job)
یا بے بی سٹنگ
(baby sitting)
کا کام بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ یہاں کتوں کی دیکھ بھال کا کام بھی اسی شعبے کا ایک حصہ ہے۔ اب آتے ہیں شانتی کی طرف۔ آج سے کئی سال پہلے شانتی نہ جانے کس طرح یورپ پہنچی اور اس نے آکر کے ڈیرہ اٹلی میں جمایا۔ جب آئی تو زبان سے ناواقف تھی، گھر نہیں تھا، کام نہیں تھا، کاغذ نہیں تھے۔ اتنے سارے مسائل کاسامنااسے ایک ساتھ ہی کرنا پڑا۔ یہ اکیلی نہیں تھی بلکہ پورے یورپ میں ایسے کئی لوگ ہیں جن کے پاس کاغذات نہیں ہوتے اور اپنی زندگی کے کئی قیمتی سال کاغذات کے حصول کے لیے صَرف کردیتے ہیں۔ میں یہاں پر ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں ان لوگوں کے لیے جو یہ سمجھتے ہیں کہ پانچ لاکھ روپے ادا کرکے وہ یورپ آتے ہیں تو کوئی بہت بڑا معرکۃالآراء کام کرتے ہیں۔ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ یورپ آنے سے پہلے انسان کو ذہن میں ایک بات بٹھا لینی چاہیے کہ یہاں کاغذات کا طریقہ رائج ہے۔ ہمارے ملکوں کی طرح نہیں کہ آپ جب چاہیں جس وقت چاہیں جہاں چاہیں کام کرلیں۔ یہاں جب آپ سیر کے ویزے پر آتے ہیں، یا پڑھنے کے لیے آتے ہیں یا کاروبار کے لیے تو آپ کی قانونی نوعیت اور ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر غیر قانونی طریقے سے داخل ہوتے ہیں تو آپ کی قانونی حیثیت اور ہوتی ہے۔ اگر آپ یورپ کے کسی بھی ملک میں غیرقانونی طور پر داخل ہوتے ہیں تو آپ ان ملکوں کے قانون کے مطابق بنا کاغذات کے ہوتے ہیں۔ یورپ کے ہر ملک کا اپنا قانون ہے لیکن غیرقانونی کا لفظ ہر اس شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کے پاس رہنے کا اجازت نامہ نہیں ہوتا۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ کسی بھی یورپین ملک میں داخل ہوں تو آپ کو آتے ہی کام مل جائے گایا کاغذات مل جائیں۔ سب سے پہلے تو سر چھپانے کی جگہ چاہیے ہوتی ہے، پھر کام اور اس کے بعد کاغذات کی تگ و دو۔ جس کے کئی طریقے ہیں۔ سیاسی پناہ، شادی کرنا، یا وہ ملک جہاں آپ رہ رہے ہیں اس کی امیگریشن کھل جائے۔
بات ہورہی تھی شانتی کی۔ شانتی کو ان تمام مسائل کا سامنا کرنا پڑا جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔ شانتی کی عمر پچاس سال ہوگی۔ جسامت، دبلی پتلی، شکل واجبی، رنگ کالا، قد چھوٹا، آنکھیں چھوٹی چھوٹی جو بمشکل کھلتی تھیں۔ آنکھوں کے گرد سیاہ کالے نشان، (حلقے) اس کی وجہ شاید نیند کا پورا نہ ہونا، تھکن اور ذہنی تناؤ۔ تیز تیز چلتی ہے اور باتوں میں ایک عجیب قسم کا کرب۔
شانتی جب اٹلی وارد ہوئی تو اس کی کوئی ہم وطن اریزو شہر میں رہتی تھی۔ قسمت کیماری اس کے پاس چلی آئی۔ چونکہ انگلینڈ کے علاوہ یورپ کے تمام ملکوں میں پولیس کو کاغذات چیک کر نے کی اجازت ہے اس لیے اس کی سہیلی نے اسے بہت ڈرایا دھمکایا تھا کہ یہاں پولیس کاغذات چیک کرتی ہے، اس لیے اِدھر اُدھر آوارہ نہ گھوما کرو۔ شانتی ڈرپوک تھی اس لیے اس نے اپنی سہیلی کی بات پر عمل کرتے ہوئے کبھی کسی سے زیادہ بات نہیں کی اور نہ ہی کہیں آتی جاتی۔ وہ گھر کا سارا کام کرتی، کھانا بناتی اور گھر میں چاندی کی چھوٹی چھوٹی زنجیروں کو جوڑ جوڑ کے اپنے اخراجات پورے کرتی۔ اس دوران شانتی کی ہم وطن نے اس کے لیے ایک گھر میں کام ڈھونڈ لیا۔ یہاں ایک بوڑھا آدمی اور اس کی بیوی رہتے تھے۔ شانتی یہاں رہنے لگی۔ انہوں نے شانتی کو ایک کمرہ دیا۔ وہ تمام گھر کی صفائی کرتی، ان بوڑھوں کے لیے کھانا بناتی۔ اس کے بدلے شانتی کو کھانے کوملتا اور سر چھپانے کی جگہ۔ شانتی کو یہاں کام کرتے ہوئے پورا سال گزر گیا اور اسے پتا ہی نہ چلا کہ اس کی سہیلی اس کی تنخواہ ایک سال سے ان بوڑھوں سے وصول کررہی ہے۔ شانتی یہی سمجھتی رہی کہ چونکہ وہ یہاں اِللیگل ہے اس لیے اسے تنخواہ نہیں مل سکتی۔ اس دوران اس بوڑھی عورت کا میاں چل بسا۔ اب شانتی کا کام بھی کم ہوگیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کی تنخواہ بھی آدھی ہوگئی۔ اب شانتی تھوڑی تھوڑی اٹالین بولنے لگی تھی۔ اس نے آہستہ آہستہ باہر کی دنیا میں قدم رکھا اور لوگوں سے جان پہچان بڑھائی۔ شانتی بہت کم گو اور محنتی تھی۔ اس لیے اِسے ایک اور جگہ بے بی سٹنگ کا کام مل گیا۔ اس بوڑھی عورت کے پاس اس نے اپنی ایک ہم وطن کو چھوڑا۔ لیکن اس نے اس کے ساتھ اپنی سہیلی کی طرح نہ کیا۔ یعنی اس کی تنخواہ کبھی وصول نہ کی۔
اب جہاں شانتی کام کرتی تھی یہ لوگ بہت امیر تھے۔ ان کا بہت بڑا گھر تھا۔ انہوں نے اریزو میں بطور مشغلہ ایک دوکان کھول رکھی تھی۔ حالانکہ ان کو لوگوں اس کی ضرورت نہیں تھی۔ شانتی کو اچھا کھانے کو ملتا اور اچھا پہننے کو ملتا۔ اس کے علاوہ معقول تنخواہ بھی۔ شانتی یہاں زیادہ عرصہ کام نہ کرسکی۔ اس کی وجہ بچے تھے جن کی وہ دیکھ بھال کرتی تھی۔ بچوں کو گورے رنگ والی بے بی سٹر چاہیے تھی۔ اس لیے انہوں نے ایک انٹرنیشنل ایجنسی کیذریعے ایک پولش لڑکی کا انتظام کرلیا اور شانتی کی چھٹی کردی۔ شانتی نے پہلے سے ہی کام ڈھونڈا ہوا تھا۔ اسے ایک ریٹائرڈ فوجی کے ہاں کام مل گیا جس نے شادی نہیں کی تھی۔ وہ جوڑوں کے مرض میں مبتلا تھا۔ چل پھر نہیں سکتا تھا۔ زیادہ وقت وہیل چیئر پر ہی گزارا کرتا۔ رات کو شانتی اسے بستر پر لٹا دیا کرتی۔ یہاں بھی شانتی کو چوبیس گھنٹے اس کے پاس رہنا پڑتا۔ رات کو وہ سوجاتا لیکن کبھی پانی پینا ہو یا پیشاب کرنا ہو تو شانتی کو گھنٹی بجا کے بلا لیا کرتا۔ شانتی خوش تھی کیونکہ وہ اس سے زیادہ
تکلیف دیکھ چکی تھی۔ شانتی کو اٹلی آئے ہوئے ابھی بمشکل دو سال ہوئے ہوں گے کہ اٹلی کی امیگریشن کھل گئی۔ یہ ریٹائرڈ فوجی اچھا آدمی تھا، اس نے شانتی کے کاغذات جمع کروادیئے۔ حتیٰ کہ ٹیکس بھی ادا کیا۔ جسے اطالوی زبان میں کونتریبیوتی
(contributi)
کہتے ہیں۔ وہ کیوں نہ اس کی مدد کرتا، شانتی تھی ہی اتنی اچھی۔ وہ کبھی کبھی اسے خوش بھی کردیا کرتی۔ شانتی کو یہی ڈر تھا کہ اگر اس کی بات نہ مانی تو جمع کروائے ہوئے کاغذات واپس لے لے گا۔ حالانکہ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اگر مالک اس کے کاغذات واپس لے لے تو وہ مالک پر کیس کرسکتی ہے۔ اس طرح اسے چھ ماہ کی پرمیسو دی سجورنو
(permesso di soggiorno)
مل جائے گی اور اس دوران اسے نیا کام ڈھونڈنا ہوگا۔ شانتی نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ ٹھیک سال بعد پرفیتورا دی اریزو
(prefettura di arezzo)
نے شانتی کو پرمیسو دی سجورنو
(permesso di soggiorno)
جاری کردی۔ وہ بڑی خوش ہوئی۔ اس نے کئی خواب بُن رکھے تھے۔ سری لنکا جائے گی۔ اپنے بچوں سے ملے گی۔ اپنے خاوند کا علاج کروائے گی۔ یہ باتیں وہ دن میں کئی بار سوچتی۔ اب ایسا ممکن تھا۔ اس نے اس فوجی سے بات کی۔ وہ کہنے لگا، مجھے کوئی اعتراض نہیں، لیکن تمہیں صرف ایک ماہ کی اجازت ہوگی۔ کیونکہ مجھے تمہاری وجہ سے کافی آرام ہے۔ اور ہاں، اپنی جگہ کسی اچھی سی لڑکی کو چھوڑ جانا۔ شانتی نے کہا، میں ایسا ہی کروں گی۔ ابھی شانتی کے جانے میں کافی دن باقی تھے۔
وہ روز کی طرح آج صبح بھی اس بوڑھے فوجی کی وہیل چیئر کو دھکیلتی ہوتی جوتو پارک
(Giotto)
پہنچی۔ اس نے وہیل چیئر اس چھوٹے سے حوض کے پاس روکی جہاں سفید رنگ کی دو خوبصورت سوانز
(swans)
بھی ہوتی ہیں۔ اس نے انگلی کے اشارے سے سوانز کو بلایا۔ ایک لحظے میں شانتی نے اپنا ہاتھ واپس کھینچا اور دل پر رکھ لیا۔ وہ دھڑام سے زمین پر آگری۔ وہ بوڑھا فوجی سوچنے لگا کہ وہ شانتی کی مدد کیسے کرے وہ تو خود معذور ہے۔ وہاں سے گزرتے کچھ لوگوں نے یہ منظر دیکھا تو فوراً ایمبولنس کو بلایا۔ وہ لوگ شانتی کو ہسپتال لے گئے۔ اس بوڑھے فوجی کو اس کے گھر چھوڑ آئے۔ ایک عدد نرس بھی اس کے پاس رکی جب تک کوئی دوسرا انتظام نہیں ہوجاتا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ شانتی کو آئی این پی ایس (انپس
"INPS",
اٹلی میں یہ ایک ایسا ادارہ ہے اگر آپ بیمار پڑجائیں تو یہ ادارہ جب تک آپ ٹھیک نہ ہوجائیں آپ کو چھ ماہ تک تنخواہ دیتا رہتا ہے) والے پیسے دیں گے یا آئی این اے آئی ایل (اننائیل،
"INAIL"
یہ ایک ایسا اطالوی ادارہ ہے جو کام کے دوران اگر آپ کو چوٹ لگ جائے یا آپ کے ساتھ کام
کے دوران کوئی حادثہ پیش آجائے تو آپ کی مدد کرتا ہے۔ لیکن یہ دونوں اس صورت میں آپ کی مدد کرتے ہیں جب آپ کا مالک ایمانداری سے آپ کا ٹیکس ادا کررہا ہو) والے۔ ویسے تو یہ انفورتونی (کام کے دوران حادثہ پیش آنا یا چوٹ لگنا اطالوی زبان میں انفورتونی کہلاتا ہے) ہے لیکن اطالوی قانون کے بارے میں کچھ کہنا ذرا مشکل ہے۔ میری تو یہ دعا ہے کہ شانتی جلدی ٹھیک ہوجائے۔ انسان کے ہاتھ پاؤں سلامت ہوں تو بندا دوبارہ کام کرسکتا ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ شانتی اب بادانتے کا کام نہیں کرے گی۔ کیونکہ دل کا مریض تو خود دوسروں کی مدد کا محتاج ہوتا ہے، وہ کسی کی دیکھ بھال کیا کرے گا۔