Wednesday, June 15, 2011

pase ayena 3rd chapter

3




سوموار کو شام سات بجے ہمارے گھر کی گھٹی بجی۔ میں نے نیائش سے کہا، ’’اس وقت کون آگیا‘‘۔
نیائش کہنے لگا، ’’مالک مکان تو نہیں آگیا۔ اسے کئی دفعہ نیچے سٹور سے چیزیں نکالنی ہوتی ہے‘‘۔
میں نے کہا، ’’ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ تھوڑے دیر بعد ان کے کھانے کا وقت ہوجائے گا‘‘۔
خیرنیائش نے انٹرکام پے پوچھا ، ’’کی اے ، یعنی کون ہے‘‘۔ جواب سن کے اس نے دروازہ کھول دیا۔
کوئی جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھ کے اوپر آرہا تھا۔ جب وہ دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا تو میں دیکھ کے حیران رہ گیا۔ میرے سامنے ثقلین کھڑا تھا۔ میں نے پوچھا، ’’ثقلین آ پ کیسے، اس وقت‘‘۔
اس نے جواب دیا، ’’سارا قصور آپ کا ہے‘‘۔
میں کہا، ’’میرا‘‘
’’جی آپ کا ۔ میں آپ کا دوسرا باب لے آیا ہوں۔ اگر ہوسکے تو اگلا باب دے دیں‘‘۔
میں نے کہا، ’’اس کا مطلب ہے آپ نے دلچسپی سے پڑھاہے‘‘۔
’’آپ دلچسپی کی بات کرتے ہیں۔ میں رات کو سو نہیں سکتا۔ ہر وقت یہی سوچتا رہتا ہوں کہ آگے کیا ہوگا‘‘۔
اگر یہ بات ہے تو میں آپ کو اگلا باب بھی دے دیتا ہوں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ آپ کو سارے باب پڑھنے پڑیں گے‘‘۔
’’مجھے آپ کی شرط منظور ہے۔ ویسے میں نے اس کے بارے میں کچھ اور سوچ رکھا ہے‘‘۔
نیائش ہم دونوں کی گفتگو بڑے غور سے سن رہا تھا۔ کہنے لگا، ’’ارے پری پیکر، میرے دوست نے تم پے کیا جادو کردیا ہے۔ کل تک تو تم اس سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتے تھے‘‘۔
’’نیائش بھائی انسان کتابوں کی طرح ہوتے ہیں۔ جب تک ان کو کھول کے پڑھو نہ ان کے بارے میں کچھ پتا نہیں چلتا۔ میں غلطی پر تھا۔ حالانکہ میں جس شعبے سے تعلق رکھتا ہوں اس میں ہم کئی قسم کے لوگوں سے ملتے ہیں۔ بھانت بھانت کی بولیاں سنتے ہیں لیکن میں نے یہ کتاب عنوان دیکھ کر ہی رکھ دی تھی‘‘۔
فرشتہ پاس کھڑا سن رہا تھا کہنے لگا، ’’ثقلین صاحب اب بھی وقت ہے۔ میرے بارے میں کوئی آخری رائے قائم کرنے سے پہلے سوچ لیں۔ میرے لکھے ہوئے پے مت جائیں ۔یہ چھوٹ کا پلندہ بھی ہوسکتا ہے‘‘۔
’’فرشتہ صاحب جھوٹ کا پلندہ اتنا دلچسپ نہیں ہوسکتا‘‘۔
’’آپ کی ذرہ نوازی ہے‘‘
اتنا کہہ کر فرشتہ کمرے سے تیسرا باب لینے چلا گیا۔
دوسراباب اس کے ہاتھ لیا اور تیسرا اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ ثقلین نے تیسرا باب لیتے ہوئے کہا، ’’میں چلتا ہوں‘‘
نیائش اور میں نے یک زبان ہوکر کہا، ’’ثقلین صاحب کھانے کھا کے جائیے گا‘‘۔
ثقلین کہنے لگا، ’’میں سوچ رہا تھا کہ ابھی نہ جاؤں لیکن میرا تجسس میرے آڑے آگیا، ورنہ میں کھانے کے وقت کبھی نہ حاضر ہوتا‘‘۔
میں نے کہا، ’’ثقلین صاحب کیسی باتیں کرتے ہیں۔ آپ کا نصیب آپ کو یہاں لے کے آیا ہے۔ ہم نے کوئی خاص چیز تو بنائی نہیں۔ آپ کو دال چاول کھلانے ہیں۔ دال تیار ہے بس چاول بنانے ہیں۔ ساتھ تھوڑا سا رائتہ بناؤں گا۔ تھوڑا سلاد اور میں آج ہی احمد کا مکس اچار لایاہوں۔ سہی ماحول بنے گا‘‘۔
’’فرشتہ صاحب میں کبھی بھی کھانا نہ کھاتا لیکن آپ نے چیزوں کے نام لے کر میری بھوک بڑھا دی‘‘۔
جب کھانا تیار ہوگیا تو میں نے اور نیائش نے کھانے کی میز پے تمام چیزیں چن دیں۔ ابلے ہوئے چاول، مسور کی دال جس کو پیاز اور لہسن کا تڑکا لگایا تھا۔ پیاز،کھیرے، ٹماٹر اور موذریلا میں تھوڑی سی کریم ڈال کر میں سلاد بنایا تھا۔ کھانا دیکھ کے سب کی بھوک میں اضافہ ہوگیا۔ ہم تینوں نے سَیر ہوکر کھایا۔ جب کھانا کھاچکے تو میں نے کہا، ’’چائے کا دور ہوجائے‘‘۔
ثقلین کہنے لگا، ’’تمہیں تو پتا ہے میں چائے نہیں پیتا ‘‘۔
نیائش کہنے لگا، ’’چلوں میں تمہیں پشاوری قہوہ پلاتا ہوں‘‘۔
میں نے کہا، ’’یار یہ پیلا شربت مجھے نہ پلانا‘‘۔
نیائش کہنے لگا، ’’یہ کھانا ہضم کرنے میں مدد دے گا‘‘۔
میں نے کہا، ’’تم لوگ قہوہ پیؤ ،میں اپنے لیئے چائے بناؤں گا‘‘۔
خیر نیائش اور ثقلین پری پیکر نے قہوہ پیا اور میں نے چائے۔ اس کے بعد میں نے سارے برتن اٹھا کے سنک میں رکھ دیئے۔ نیائش کہنے لگا، ’’برتن میں دھو دونگا‘‘۔
میں نے کہا، ’’نہیں میں دھو دونگا۔ ویسے بھی مجھے دیر سے نیند آتی ہے‘‘۔
نیائش نے ہم سے اجازت طلب کی اور سونے چلا گیا کیونکہ اس نے صبح کام پے جانا تھا ۔ جیسے ہی نیائش اٹھا ثقلین نے بھی اجازت لی اور چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثقلین جیسے ہی گھر پہنچا تو اس سے ایک لڑکے نے پوچھا کہ ثقلین بھائی کھانا نہیں کھانا۔ تو اس نے جواب دیا میں کھانا کھا نا کھا کر آیا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔ ٹیبل لیمپ آن کیا اور تیسرا باب پڑھنا شروع کیا۔
میں اپنی سوچوں کے سمندر میں ڈوبا ہوا تھا۔ اسی اثنا ء میں جس پلیٹ فارم پے بیٹھا تھا ، وہاں ایک ٹرین آکر رکی۔ میں نے احتیاطً ایک شخص سے پوچھا کہ یہ ٹرین لوگانوں جارہی ہے تو اس نے بتایا کہ ہاں یہ ٹرین لوگانوں رکے گے۔ میں ٹرین میں سوار ہوگیا۔ ہمیشہ کی طرح میں نے کھڑکی کی طرف بیٹھنا پسند کیا۔ اتفاق سے ٹرین میں اتنا رش نہیں تھا۔ میں نے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔ ٹرین ایک جھٹکے کے ساتھ چلی ۔ میں نے کھڑکی سے دیکھا دور ایک کونے میں کسی گھر کے باہر لکڑی کی ایک ریڑھی پڑی ہوئی تھی جس میں جا بجا پھولوں والے گملے جَڑے ہوئے تھے ۔ مجھے اتنی دور سے پتا تو نہ چلا کہ یہ کون سے پھول ہیں لیکن ان کا رنگ ضرور نظر آرہا تھا۔ آتشی گلابی پھول اس بات کا پتا دیتے تھے کہ جیسے مجھے اپنے ملک میں خوش آمدید کہہ رہے ہوں۔ جیسے ہی ٹرین کی رفتار میں اضافہ ہوا یہ منظر میری آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔ ایک بات میں نے نوٹ کی کہ ٹرین جیسے جیسے آگے چلتی جارہی تھی صاٖف محسوس ہورہا تھا کہ میں کسی امیر ملک میں داخل ہورہا ہوں۔ اٹلی کے قدرتی مناظر مختلف ہیں اور سوس کے قدرتی مناظر مختلف ۔ اٹلی میں گھروں کی چھتیں تھوڑی نیچی تھیں اور سوس میں گھروں کی چھتیں اونچی تھیں۔ اس کے علاوہ گھروں دروازے اور کھڑکیاں بھی مختلف تھیں۔ گھروں کی آرائش اور زیبائش میں اطالوی لوگ سوس لوگوں سے بہت آگے ہیں۔میں ابھی اسی تقابلی جائزے میں مصروف تھا کہ ٹکٹ چیکر آیا اور سب کے ٹکٹ چیک کرنے شروع کردیئے۔ میں نے بھی اپنا ٹکٹ دکھایا اس نے ٹکٹ دیکھ کے واپس کردیا۔ میں دوبارہ خیالوں کی دنیا میں چلا گیا۔ میں اس بات سے ناواقف تھا کہ میں نے رات کو سونا کہاں ہے۔ بس اتنا جانتا تھا کہ کرائس لنگن جاکے سیاسی پناہ کے دفتر جاکے وہاں سیاسی پناہ گزین کی درخواست دینی ہے۔ ٹرین اسی طرح چلتی رہی اور مجھے پتا ہی نہ چلا کہ لوگانوں ریلوے سٹیشن آگیا۔ میں لوگانوں ریلوے سٹیشن پے اترا اور سیدھا ٹکٹ گھر کی طرف آیا۔ سٹیشن کے ایک طرف کمرے بنے ہوئے تھے۔ آس پاس مختلف جگہوں پے چار زبانوں میں لکھا ہوا تھا۔ جرمن ،فرنچ اور اٹالین کا تو پتا چلتا تھا لیکن ایک زبان غیر معروف تھی۔ میں سوچنے لگا کیسا عجیب ملک ہے اس کی ایک زبان ہی نہیں بلکہ چار چار زبانیں ہیں
حالانکہ سوئٹزرلینڈ رقبے کے لحاظ سے زیادہ بڑا ملک نہیں۔ میں ریلوے سٹیشن پے ٹکٹ گھر پے ٹکٹ لینے کے چلا گیا۔ یہاں بھی کیبن میں ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کے گلے میں بھی اسی طرح کا سکارف تھا جس طرح کا کیاسو ریلوے سٹیشن پے اس عورت نے گلے میں خوبصورتی سے باندھا ہوا تھا۔ اس کے سکارف کی دھاریاں بھی نیلی اور پیلی تھیں فرق صرف اتنا تھا یہ لڑکی کافی کم عمر تھی۔ شاید بیس سال کی ہوگی۔ میں نے انگریزی میں اسے کہاکہ مجھے کرائس لنگن(kreuzlingen) جانا ہے۔ اس نے مجھے غور سے دیکھا پھر بڑے اچھے انداز میں انگریزی میں جواب دیا۔ اچھا انداز اس لیئے کیونکہ اس کا تلفظ بہت اچھا تھا ۔ عام طور ریلوے سٹیشن پے کام کرنے والے واجبی سی انگریزی جانتے ہیں لیکن جب سے میں سوس میں داخل ہوا تھا میں نے ایک بات نوٹ کی کہ یہ لوگ انگریزی اٹالین لوگوں کی نسبت کافی اچھی جانتے ہیں۔ اس نے مجھے غور سے اس لیئے دیکھا تھا کیونکہ اس وقت شام کے سات بج چکے تھے۔ وہ حیران اس بات پے تھی کہ میں سوس کے آخری کونے میں جارہا ہوں۔ کرائس لنگن(kreuzlingen) کوئی اتنی مشہور تفریح گاہ بھی نہیں۔ جہاں میں کھڑا تھایہ اس کنٹون کو تی شینوں(Ticino) کہتے ہیں اور یہاں کی زبان اٹالین ہے لیکن دیگر زبانیں بھی بولی اور سمجھی جاتی ہیں جس کا اندازہ مجھے اب تک ہوچکا تھا۔ جہاں کا میں نے اس سے ٹکٹ مانگا تھا یہ شہر جرمنی کے بارڈر پر ہے ۔ اس شہر کی ایک جھیل مشہور ہے جس کانام ہے بودن سے(boden see) یا کوستانز سے(costanze see) ہے جبکہ اٹالین اس کو لاگو دی کوستانسو(Lago di costanso) کہتے ہیں۔یہ شہر تھرگاؤ (thurgau)کنٹون میں ہیں یعنی میں ایک کونے سے دوسرے کونے میں جارہا تھا۔ خیر اس نے مجھے ٹکٹ دیا۔ میری قسمت اچھی تھی کہ اس وقت ٹرینیں تھیں۔ اگر مجھے ذرا بھی دیر ہوجاتی تو مجھے رات زیورگ ریلوے سٹیشن پے گزارنی پڑتی۔ اس نے مجھے تین ٹکٹ دیئے۔ پھر ان کی تفصیل بتائی۔ پہلا ٹکٹ تم لوگانوں سے زیورگ تک استعمال کرو گے۔ دوسرا ٹکٹ زیورگ سے
ونٹرتھور(winterthur) کا ہے اور تیسرا ٹکٹ ونٹرتھور سے کرائس لنگن کا ہے۔ یہاں سے تمہاری ٹرین ساڑھے سات بجے چلے گی اور تین گھنٹے میں زیورگ پہنچے گی۔ زیورگ سے تم لوکل ٹرین پے بیٹھ کے تقریباً چالیس منٹ میں ونٹر تھور پہنچ جاؤ گے۔ وہاں ونٹر تھورسے تمہیں کرائس لنگن کے لیئے ٹرین ملے گی۔ میرے خیال میں تم ساڑھے گیارہ بجے کرائس لنگن پہنچو گے۔ اس نے ساری تفصیل مجھے زبانی بتائی۔ میں نے کہا، اگر تمہیں برا نہ لگے تو مجھے مہربانی کر کے اس سارے سفر کا اور ٹرینوں کا پرنٹ آوٹ نکال دو تانکہ مجھے سمجھنے میں آسانی رہے اور راستے میں مجھے کوئی مسئلہ ہو تو میں کسی کو دکھا کر پوچھ سکتا ہوں۔ وہ کہنے لگی ، میں نے کمپیوٹر پے کمانڈ دے دی ہے۔ تمہیں اس کا پرنٹ آوٹ بھی دوں گی۔ تھوڑی دیر میں اس نے میرے ہاتھ تمام سفر کی تفصیل ، ٹرینوں کے نام اور نمبر اور اوقاتِ کار تھما دیئے۔ اس نے ٹرینوں کے ٹائم اور شہروں کے نام ہائیلائٹ کردیئے تھے۔ جس دوران وہ اس عمل میں مصروف تھی میں اس کو غور غور سے دیکھ رہا تھا۔ لڑکی خوبصورت اور جوان تھی۔ بالوں کا رنگ کالا تھا۔ خد و خال سے اٹالین لگتی تھی۔ کیونکہ یہ کنٹون اٹالین ہے اس لیئے یہاں اٹالین امیگرنٹس کی تعداد زیادہ ہوگی۔ اس کے ناک نقشہ تو پیارا تھا ہی اس کے ہاتھ بھی بہت خوبصورت تھے۔اس نے گورے گورے ہاتھوں کی پتلی پتلی انگلیوں میں ہائیلائیٹر پکڑا ہوا تھا اور جن ریلوے سٹشینوں پے مجھے اترنا تھا ان کوپیلے رنگ کے ہائیلائٹر سے ہائی لائٹ کر رہی تھی تانکہ مجھے سمجھنے میں دقت نہ ہو۔ اس کے انگلیوں میں دبا ہوا ہائی لائیٹر بہت اچھا لگ رہا تھا ۔ اس نے ناخنوں پے لال رنگ کی نیل پا لش لگا رکھی تھی۔
میں نے فاہرپلان یعنی سفر کی تفصیلات ہاتھ میں لیں اور اس کا شکریہ ادا۔ اب مجھے لوگانوں سے زیورک اور زیورک سے ونٹر تھور اور وہاں سے کرائس لنگن جانا تھا۔ میرے ٹرین کے آنے میں ابھی پندرہ منٹ باقی تھی۔ میں نے سوچا کیوں نا ایک دو فون کرلوں۔ میں نے آس پاس نظر دوڑائی۔ قریب ہی ایک کیبن بنا ہوا تھا۔ جہاں ٹیلی فون بوتھ اور انٹر نیٹ پوائنٹ تھا۔ میں اندر چلا گیا۔ فون بوتھ کی سلوٹ میں پانچ سوس فرانک کا سکہ ڈالا اور نیائش کا نمبر ملا دیا۔ دوسری طرف سے جواب آیا ، ’’کی اے ، یعنی کون ہے‘‘۔ میں نے جواب میں کہا، ’’میں ہوں نیائش بھائی۔ میں لوگانوں سے بول رہا ہوں۔ یہاں سے تھوڑی دیر میں میں زیورک چلا جاؤں گا۔ وہاں سے پھر آگے جانا ہے‘‘۔
نیائش نے کہا، ’’فرشتہ سب ٹھیک ٹھاک ہے نا۔ میں نے تم سے کہا تھا کہ واپس آجاؤ لیکن تم نہ مانے ۔ خیر وہاں پہنچ کر اطلاع دینا‘‘۔ میں نے کہا، ’’اچھا نیائش بھائی‘‘ ۔یہ کہہ کر میں نے فون بند کردیا۔
اس کے بعد میں نے اپنے موبائیل فون سے سوزی کا نمبر نکالا۔ موبائیل فون کو سامنے رکھ کے سوزی کا نمبر ڈائیل کیا۔ دوسری طرف سے جرمن میں کسی نے کچھ کہا۔ میں نے انگریزی میں اپنا مدعا بیان کیا کہ میں ہوں۔ فون سوزی نے ہی اٹھایا تھا۔ جب اس کو پتا چلا کہ میں فرشتہ بول رہا ہوں تو وہ بڑی خوش ہوئی۔ کہنے لگیِ ،’’کہاں سے بو ل رہے ہو‘‘۔ میں نے کہا، ’’میں لوگانوں ریلوے سٹیشن سے بول رہا ہوں۔ میں قریباًدس ساڑھے دس بجے زیورک پہنچوں گا‘‘۔ سوزی زیورک میں کسی دفتر میں کام کرتی تھی اور وہ اورلیکون(orlekon) کے پاس کہیں رہتی تھی۔ میرا سوس آنے کا مقصد ہی یہی تھا کہ زیورک سوزی سے مل کر یہاں رہنے کا انتظام کروں گا اور سوزی کی مدد سے کوئی کام وغیرہ ڈھونڈوں گا۔ مجھے یقین تھا کہ وہ میری لیئے کچھ نا کچھ ضرور کردے گی۔ فون پے اِدھر اْدھر کی باتیں ہونے لگی۔ پھر اس نے کہا ، ’’ٹھیک ہے تم سے زیورک ریلوے سٹیشن پے ملاقات ہوگی‘‘۔ یہ کہہ کر اس نے فون رکھ دیا۔
میں خوش تھا کہ میں جس مقصد کے لیئے سوس آیا تھا وہ پورا ہونے جارہا تھا۔ مجھے امید تو نہیں تھی کہ سوزی اتنی اچھی طرح پیش آئے گی۔ میں سوزی کے بارے میں نیائش کو بھی نہیں بتایا تھا۔میرا خیال تھا سارا کام ہوجانے کے بعد بتاؤں گا۔ ہم پاکستانی لوگ بڑے جذباتی ہوتے ہوتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کا دکھ دل میں بٹھا لیتے ہیں۔ یہ بات میں نے کیوں کی ہے اس کے بارے میں آپ کو آگے چل کے پتا چلے گا۔
ٹرین آکے پلیٹ فارم پے رکی۔ اٹالین لوگ پلیٹ فارم کو بناریو(binario) کہتے ہیں اور سوس جرمن میں اس کو گلائس(gleis) بھی کہتے ہیں۔ میں ٹرین میں سوار ہوا۔ ویسے تو میری ٹکٹ پے سیٹ نمبر لکھا ہوا تھا لیکن ٹرین میں زیادہ لوگ نہیں تھے اس لیئے میں کھڑکی والی سیٹ پے بیٹھ گیا۔ میں ٹرین میں بیٹھ کے اٹلی اور سوس کی ٹرینوں کا موازنہ کرنے لگا۔ سوس ٹرینوں کی سیٹیں بھی اچھی تھیں اور یہ
کافی صاف ستھری تھیں۔ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متا ثر کیا وہ یہ کہ سوس ٹرینیں وقت کی بہت پابند تھیں۔ جس ٹرین پے میں سوار ہوا تھا اور مجھے زیورک جانا تھا۔ یہ ٹرین بالکل اسی وقت پے آئی جو وقت اس کاغذ پے لکھا ہوا جو اس لڑکی نے مجھے پرنٹ کرکے دیا تھا ۔ اس کے برعکس اٹلی کی ٹرینیں کم آرام دہ، صفائی کم کم اور وقت کی پابندی کی تو بات ہی نہ کریں۔ کبھی وقت پے نہیں آتیں۔ جتنا وقت میں نے اٹلی میں گزارہ اس دوران اگر کبھی ٹرین پے سفر کرنے کا اتفاق ہوا تو ایسا کئی دفعہ ہوا کہ کسی اٹالین سے بحث ہوگئی کہ تمہارے ملک کی ٹرینین وقت کی پابند کیوں نہیں تو وہ اس کا جواب یہ دیا کرتے کہ تمہارے ملک پاکستان میں ٹرینیں وقت کی پابندی کرتی ہیں ۔میں ان سے ہمیشہ کہا کرتا کہ تم ہماری ٹرینوں کا اپنے ملک کی ٹرینوں سے موازنہ نہ کرو ۔ ہمیں جو ٹرینیں اور ریل ٹریک انگریز دے کر گئے تھے ابھی تک وہی چل رہا ہے۔ جبکہ اٹلی ایک ایسا ملک ہے جو یوریپیئن یونین میں ہے۔ میں اٹلی کی ٹرینوں کا موازنہ دیگر یورپیئن ملکوں سے کرتا ہوں۔ میں انہی تقابلی جائزوں میں مصروف تھا کہ ٹرین کسی سٹاپ پے رکی۔ میں کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا تو باہر بیلن زونا(belenzona) کا بورڈ نظر آیا۔ لوگانوں سے بیلن زونا تک قدرتی مناظر بالکل اٹلی کی طرح تھے۔ راستے میںآنے والی عمارتیں بھی اطالوی انداز کی تھیں۔ یہاں بیلن زونا جب ٹرین رکی تو میں نے احتیاطً وہ کاغذ دیکھا جس پے تمام سٹیشنوں پے جہاں جہاں ٹرین نے رکنا تھا کا نام اور وقت لکھا ہوا تھا۔ جو وقت بیلن زونا پہنچنے کے لیئے لکھا ہوا تھا ٹرین اسی وقت پے پہنچی تھی۔ یہاں بیلن زونا سے ایک نوجوان لڑکا ٹرین میں سوار ہوا میرا مطلب ہے جس ڈبے میں میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کی عمر قریباً پچیس سال ہوگی یا اس سے بھی کم۔ موٹا تازہ۔ اس نے جو ٹی شرٹ پہنی ہوئی اس پے عربی میں کچھ لکھا ہوا تھا۔ سفید رنگ کی ٹی شرٹ پے عربی میں کالے رنگ سے لکھا ہوا بہت بھلا لگ رہا تھا۔ اس نے گہرے نیلے رنگ کی جینز پہنی ہوئی تھی۔ جوتے اس کے جوگر ٹائپ کے تھے۔ قد کاٹھ ٹھیک تھا میرے خیال میں مجھ سے کچھ لمبا تھا۔ چہرہ گول ،چھوٹی چھوٹی آنکھیں، ناک نہ تیکھی نہ موٹی ، درمیانی سی تھی۔ داڑھی بڑھی ہوئی اور اس کے بال سنہرے تھے جبکہ سر کے بالوں کا رنگ سنہرہ لیکن گہرا تھا۔ وہ آکے میرے سامنے والی سیٹ پے بیٹھ گیا۔ بیٹھتے ہی جرمن میں کچھ کہا لیکن میری سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ میں نے انگریزی میں کہا مجھے جرمن زبان نہیں آتی تو اس نے انگریزی میں جواب دیا کوئی بات نہیں ۔میں نے صرف یہ پوچھا تھا کہ تم کہا جارہے ہو۔ میں نے اسے جواب دیا کہ میں زیورگ جارہا ہوں۔ میں نے پوچھا تم کہا جارہے ہے تو کہنے لگا میں ونٹر تھور جارہا ہوں۔ اس طرح بات چیت کا سلسلہ چل نکلا۔
میں نے اس سے کہا کہ تم نے یہ ٹی شرٹ جو پہنی ہوئی اس پے عربی زبان میں کچھ لکھا ہوا ہے۔ تو کہنے لگا تم عربی پڑھ سکتے ہو۔ تو میں نے جوب دیا کہ صرف پڑھ سکتا ہوں لیکن مجھے اس کا مطلب نہیں پتا۔ وہ بڑا حیران ہوا کہ میں عربی پڑھ سکتا ہوں لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی۔ خیر اس نے مجھے مطلب بتایا ۔ پھر اس نے مجھ سے وہی گھسا پٹا سوال کیا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہوں ۔ میں نے جواب دیا کہ میں پاکستا ن کا رہنے والا ہوں۔ اس نے پھر سوال کیا کہ تم عربی کیسے جانتے ہوں۔ میں نے اسی تفصیل سمجھائی۔ کہ میں مسلمان ہوں۔ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے۔ اس کے علاوہ علاقائی زبانیں بھی ہیں جن میں پنجابی، پشتو، بلوچی اور سندھی صوبائی زبانیں ہیں۔ انگریزی ہماری دفتری زبان ہے۔ عربی ہماری مذہبی زبان سمجھ لو۔ پرانے لوگ عربی لکھنی پڑھنی جانتے تھے اور سمجھتے بھی تھے اس کے علاوہ فارسی بھی لوگوں میں عام تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی توجہ فارسی اور عربی کی طرف کم ہوگئی۔ اب لوگ اردو اور انگریزی کو ترجیح دیتے ہیں۔ میرا جواب سن کر وہ زور ہنسا اور کہنے لگا۔ تمہاری کم از کم قومی زبان تو ہے ۔ہماری قومی زبان ہی کوئی نہیں۔ ہر کنٹون اور علاقے کی اپنی زبان ہے۔ علاقوں کے حساب سے زبان تقسیم کی ہوئی ہے۔ پورے سوس میں ساٹھ فیصد آبادی جرمن زبان بولنے والوں کی ہے پچیس فیصد لوگ فرنچ بولتے ہیں اس کے علاوہ باقی آبادی اٹالین اور ریترو رومانوں(retro romano) بولتی ہے۔ میں نے کہا، تین زبانیں تو مجھے بھی سمجھ آرہی تھیں لیکن چوتھی زبان کا مجھے نہیں پتا چلا وہ کیا لکھا ہوا تھا ۔ابھی تم نے کوئی نام لیا ہے مجھے سمجھ نہیں آیا۔ وہ کہنے لگا کیا تمہیں اٹالین، فرنچ اور جرمن آتی ہے۔ میں نے کہا، اٹالین اور فرنچ تو مجھے آتی ہے۔ جرمن کا مجھے پتا چلا جاتا ہے کہ جرمن لکھی ہوئی ہے لیکن سمجھ نہیں سکتا۔ کچھ لفظ سمجھ بھی لیتا ہوں کیوں کہ اس کے کئی لفظ انگریزی سے ملتے جلتے ہیں۔ وہ بڑا حیران ہوا کہ میں اٹالین اور فرنچ جانتا ہوں ۔اس نے مجھ سے سوال کیا ،تم نے فرنچ اور اٹالین زبان کہاں سے سیکھی ہے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ دونوں زبانیں میں پاکستان میں سیکھی ہیں۔
اس نے پھر سوا ل کیا ، کیوں؟ تو میں نے جواب دیا۔ پہلے بات تو یہ ہے کہ مجھے زبانیں سیکھنے شوق تھا ۔ پھر اسے میں نے اپنے دادا کا فلسفہ بتایا۔ پھر اسے میں نے یہ بھی بتایا کہ میں پاکستان میں ٹورسٹ گائید کا کام کرتا تھا ۔ یہ سن کے وہ کہنے لگا کہ مجھے بھی پاکستان دیکھنے کا شوق ہے کیونکہ میں نے پڑھا بھی ہے اور سنا بھی ہے کہ وہاں کے پہاڑ بہت مشہور ہیں۔ میں نے پوچھا تم ان ملکوں میں سے کسی ملک میں گئے ہو۔ تو کہنے لگا میں ابھی ابھی نیپال سے آرہا ہوں۔ میں نے پوچھا وہاں سیر کرنے گئے تھے ۔ تو کہنے لگا نہیں ،
وہاں ایک سوس این جی او نے بچوں کے لیئے سکول کھول رکھا ہے۔ وہاں چھ مہینے بچوں کو پڑھا کر آرہا ہوں۔ سوس دو ماہ رہ کر واپس نیپال چلا جاؤں گا۔ میں نے پوچھا کہ یہ تمہاری اپنی مرضی تھی یا سوس گورنمنٹ نے تمہیں بھیجا ہے۔ تو کہنے لگا، یہ لمبی کہانی ہے۔ میں تمہیں مختصراً سناتا ہوں۔ ہوا کچھ اس طرح کے میں نشے کا عادی ہوگیا تھا۔ اتنا زیادہ کہ مجھے ہسپتال داخل کردیا گیا۔ جب میں تھوڑا بہتر ہونے لگا تو انہیں نے مجھے ر ی ہیبلیٹیشن سنٹر (rehabilitation centre) میں بھیج دیا۔ وہاں انہوں نے مجھے ڈیٹوکسیکیٹ (detoxicate)کیا۔ اس کے بعد جب میں کافی بہتر ہوا تو انہوں نے مجھے کام پے بھیج دیا تانکہ میرا دماغ مصروف رہے۔ اس دوران مجھے اس سوس این جی او نے نیپال میں کام کی آفر کی۔ میں نے ان کی آفر تسلیم کرلی اور وہاں چلا گیا۔
میں نے کہا، تمہاری کہانی کافی دلچسپ ہے۔
وہ کہنے لگا ، یہ تو میری کہانی ہے لیکن تم یہاں کیا کررہے ہو۔ تو میں نے کہا، میں یہاں ٹورزم کے حوالے سے آیا ہوں۔ یہ سن کے وہ کہنے لگا یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ اگر ہوسکے تو مجھے پاکستان کے بارے میں بتاؤں کہ وہاں کون سا مہینہ سیر کے لیئے بہتر ہے ۔کون سے علاقے زیادہ خوبصورت ہیں۔ میں نے کہا، پاکستان ویسے تو سارا ہی خوبصورت ہے لیکن پاکستان کے شمالی علاقاجات بہت خوبصورت ہیں۔ جیسا کہ تم جانتے ہوں کہ وہاں کے پہاڑ خوبصورت ہیں۔
یہ جان کہ وہ کہنے لگا پہاڑ تو ہمارے بھی خوبصورت ہیں۔
میں نے کہا ، مثلاً
تو کہنے لگا، جْنگ فراؤ ،(junge frau) یہ پہاڑ سوس کا سب سے خوبصورت پہاڑ ہے۔
میں کہا، اس کی اونچائی کتنی ہے۔
تو کہنے لگا ، چار ہزار میٹر سے زیادہ بلند ہے۔
میں نے پوچھا ، جْنگ فراؤ کا کیا مطلب ہے۔
تو کہنے لگا، اس کا مطلب ہے جوان لڑکی۔ ویسے اس کے علاوہ یورپ کی سب سے اونچی چوٹی مونتے بیانکو (monte bianco)ہے ۔ یہ چار ہزار آٹھ سو سات میٹر بلند ہے۔ یہ اٹلی اور فرانس کے درمیان واقع ہے۔ سوس کی سب سے اونچی پہاڑی پْنتا دو فور(punta dufore) ہے ۔یہ چار ہزار چھ سو چونتیس میٹر اونچی ہے۔ پھر زرمیت(zarmet) کا نمبر آتا ہے یہ چار ہزار چار سو اٹھتر میٹر اونچی ہے۔
تو میں نے کہا، پاکستان میں ایک درہ ہے جسے درہ خنجراب کہتے ہیں۔ وہ چار ہزار میٹر کی بلندی پے ہے ۔ یہاں سے سال کے چھ مہینے پاکستان سے چین کے لیئے گاڑیوں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔ یہاں آکسیجن کی بھی کمی ہوتی ہے۔ جْنگ فراؤ پے تم براستہ سڑک جاسکتے ہو۔
وہ یہ سن کر بڑا حیران ہوا۔ کہنے لگا، یہ واقعی حیران کن بات ہے۔
میں نے اسے مزید بتایا کہ پوری دنیا میں دس پہاڑ ایسے ہیں جن کی بلندی آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ ہے۔ ان میں سے آٹھ پہاڑ پاکستان میں ہیں۔ دو نیپال میں ہیں۔ کے ٹو کی بلندی ۸۶۱۱ (آٹھ ہزار چھ سو گیارہ میٹر ہے) اس کے علاوہ ناگا پربت، کے تھری، کے فور ، راکاپوشی، اور التر۔ یہ پہاڑ آٹھ اور سات ہزار میٹر کی بلندی پے ہیں۔ تمہیں یہ جان کر شاید حیرت ہوگی کہ دنیا کا سب سے اونچا پولو گراؤنڈ ’’شندور پاس پے واقع ہے۔ میں ایک دفعہ ایک گروپ کے ساتھ تھا۔ اس میں بوٹنسٹ اور جیالوجسٹ تھے۔ ایک بوٹنسٹ اور جیالوجسٹ جب شندور پاس پہنچے تو انہوں نے رونا شروع کردیا۔ میں ان سے پوچھا کہ تم لوگ رو کیوں رہے ہو ۔ تو بوٹنسٹ کہنے لگا، میں نے اپنی پوری زندگی میں اس طرح کی جڑی بوٹیاں نہیں دیکھیں۔ میرے علم کے مطابق ایک خاص بلندی پے پودے نشوؤنماں نہیں پاتے۔ لیکن میرا یہ نظریہ غلط ثابت ہوا کیوں یہاں پے اس موسم میں ، اتنی بلندی پے ان پودوں کا اگنا اور ان جڑی بوٹیوں کا پھلنا پھولنا اس بات کی ثبوت ہے کہ کئی دفعہ ہم لوگ جو کتابوں میں پڑھتے ہیں وہ سہی نہیں ہوتا۔ اس نے کئی ایک جڑی بوٹیوں کے نمونے بھی لیئے۔ اس کے علاوہ جیالوجسٹ اس لیئے رویا تھا کیوں کہ اس نے کتابوں میں پڑھا تھا پوری دنیا میں کوئی بہت بڑا سیلاب آیا تھا۔ وہ پتھروں کی تہوں کو گنتا جاتا اور سالوں کا اندازہ لگاتا جاتا۔ میں نے پوچھا کہ یہ تم کیا کررہے ہو ۔ تو کہنے لگا ، میں اس زمین کی عمر گن رہا ہوں۔ ان پتھروں میں تم یہ جو لکیریں دیکھ رہے ہو ۔ ایک ایک لکیر ایک ہزار سال کے برابر ہے۔ میں اس کی اس بات پے بہت ہنسا تھا لیکن وہ کہنے لگا یہ جو تم ان پتھروں پے نیلے، پیلے، اور لال چھوٹے چھوٹے پھول دیکھ رہے یہ اس بات کی ضمانت ہیں کہ زمین کا یہ حصہ کئی ہزار سال تک پانی میں رہا ہے۔ میں دل ہی دل میں سوچنے لگا شاید زیادہ پڑھنے سے کا دماغ چل گیا۔ یہ تو تھی شندور پاس کی کہانی ۔ اس کے علاوہ دنیا کے بڑے گلیشیئرز بھی پاکستان میں ہیں۔
وہ مجھے کہنے لگا، تمہیں اگر برا نہ لگے تو مجھے یہ تمام نام لکھ دو گے۔ میں اگر پاکستان گیا تو ان جگہوں پے ضرور جاؤں گا۔
میں نے اس سے کاغذ اور پین لیا اور اسے ان تمام جگہوں کے نام لکھ دیئے ۔
میرا تجسس ابھی تک ختم نہیں ہوا تھا۔ میں اس کی ٹی شرٹ کے بارے میں جانا چاہتا تھا کہ اس نے یہ ٹی شرٹ کہاں سے لی ہے۔ آخر کار میں نے اس پوچھ ہی لیا کہ تم نے یہ ٹی شرٹ کہاں سے لی ہے
تو کہنے لگا، میں نیپال گیا تھا۔ راستے میں رکا تھا۔ میرا ٹکٹ ایمیریٹس ایئر لائن کا تھا۔ ہم لوگ راستے میں دوبئی رکے ۔ دوبئی ایئرپورٹ پے جو شاپنگ آرکیڈ ہے۔ میں وہاں گھوم رہا تھا۔ مجھے یہ ٹی شرٹ پسند آئی اور میں نے خرید لی۔ بہت سے لوگ مجھے عجیب و غریب نظروں سے دیکھ رہے تھے لیکن مجھے کسی کی پرواہ نہیں۔ کسی ٹی شرٹ پے عربی لکھے ہونے سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا نا کہ وہ بندا دہشت گرد ہے۔
میں نے کہا میں تم سے اتفاق کرتا ہوں لیکن دنیا میں کچھ اس طرح کا پراپوگنڈا کردیا گیا ہے کہ عربی زبان ، داڑھی اور محمود، حسین ، علی، محمد، ابنِ جیسے نام والوں کو لوگ شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
وہ کہنے لگا ،تم بالکل ٹھیک کہتے ہو لیکن یہ دور انٹر نیٹ کا دور ہے۔ ایسے کئی بلوگ(blog) بن گئے ہیں۔ بیشمار سائیٹس بن چکی ہیں جو لوگوں کو حقائق سے بہرہ مند کردیتی ہیں۔
ہمیں گفتگو کے دوران پتا ہی نہ چلا کہ ٹرین کئی سٹیشنوں پے رکی۔ جب ٹرین زگ (zug)ریلوے سٹیشن پے رکی تو اس نے مجھے کہا کہ اب ایک سٹاپ رہ گیا اس کے بعد ہم دونوں جدا ہوجائیں گے۔ میں زیورگ اتر کے اگلی ٹرین پے ونٹر تھور چلا جاؤں گا اور تم شاید زیورک ہی رکو گے۔
میں نے کہا، ہاں بالکل ایسا ہی ہے۔ نہ جانے کیوں میں اس سے چھپا رہا تھا کہ اگر سوزی نہ ملی تو میں کرائس لنگن ہی جاؤں گا۔ میں نے ٹکٹ بھی کرائس لنگن تک کی ہی خریدی تھی۔
اس نے مجھے اپنا کارڈ دیا، موبائیل نمبر دیا اور تاکید کی کہ اگر ونٹر تھور آنا ہوا تو اسے فون ضرور کرے۔ لیکن میں اپنی منزل کے بارے میں جانتا ہی نہیں تھا اسے کیسے کہتا کہ میں آؤں گا۔ اسے میں پاکستان کی سیر کے لیئے کئی آئیٹنریزبنا کے دیں۔ وہ بڑا خوش ہوا ۔ کہنے لگا کہ پہلے میرا پاکستان کی سیر کا کوئی خاص ارادہ نہیں تھا لیکن اب تم نے میرے تجسس میں اضافہ کردیا ہے ۔ اب جب میں نیپال جاؤں گا تو وہاں سے پاکستان بھی جاؤں گا۔
میں نے پوچھا ،تم کب تک جاؤگے ۔ تو کہنے لگا، ابھی تو جون کا مہینہ ہے۔ ستمبر کے مہینے شاید دوبارہ نیپال جاؤں ۔ اگست کا مہینہ کیسا رہے گا۔
میں نے کہا، یہ مہینہ بہت زیادہ مصروف ہوتا ہے۔ ہوٹلوں میں جگہ ہی نہیں ملتی ۔ میرا مشورہ ہے نومبر میں جاؤ ۔ اگر نومبر میں نہیں تو اکتوبر میں جانا ۔
وہ کہنے لگا، میں دیکھتا ہوں کیا پروگرام بنتا ہے۔ ٹرین زیورک ریلوے سٹیشن کے آخری پلیٹ فارم کی طرف جارہی تھی۔ جیسے ہی ٹرین رکی ۔اس نے مجھ سے ہاتھ ملایا اور چلا گیا۔ اس نے میرا نام تک نہ پوچھا ۔میرے پاس اس کا کارڈ تھا ۔میں نے بھی اس کا نام دیکھنا گوارہ نہ کیا۔ میں ٹرین سے باہر نکلا۔ زیورگ ریلوے سٹیشن پے کافی چہل پہل تھی۔ جرمنی ، آسٹریاء اور سوس میں سٹیشنوں کو ہاپٹ باہن ہوف(hapt bahn hauf) کہتے ہیں اور شون باہن ہوف (shon bahn hauf)کہتے ہیں۔ زیورک ریلوے سٹیشن ہاپٹ باہن ہوف ہے۔ میں پلیٹ فارم پے چلتا چلتا سٹیشن کی اس جگہ آگیا
جہاں بہت سارے الیکٹرانک ڈسپلے لگے ہوئے تھے۔ ایک طرف آنے والی ٹرینوں کا لکھا ہوا تھا اور دوسری طرف جانے والی ٹرینوں کا لکھا ہوا تھا۔ میں یہی سوچ رہا تھا کہ ابھی کہیں دور سے آواز آئے گی ۔ فرشتہ میں آگئی لیکن مجھے اس طرح کی کوئی آواز نہ آئی۔ میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ ہم پاکستانی بہت جذباتی ہوتے ہیں۔ کسی لڑکی کے ساتھ ایک دو راتیں گزار لیں۔جسمانی تعلق قائم کرلیں تو اس کو اپنا
سمجھنے لگتے ہیں۔ میر ی ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ میں سوزی کے معاملے میں تھوڑا پوزیسف (possessive)سا ہوگیاتھا۔ میرا خیال تھا میں جیسے ہی اسے فون کروں گا وہ تڑپ جائے گی اور اسی وقت گاڑی سٹارٹ کرے گی اور میرے پاس آجائے گی۔ کچھ کچھ اندازہ مجھے لوگانوں ریلوے سٹیشن پے ہی ہوگیا تھا جب میں نے اس سے فون پے بات کی تھی لیکن میں نے سوچا ٹیلی فون بڑا حساس آلہ ہے اس پے گفتگو کرتے ہوئے انسان کبھی کبھی کسی کے بارے میں غلط رائے بھی قائم کرلیتا ہے۔ میرے سارے ندازے غلط نکلے۔ وہ نہ آئی نہ ہی میں نے دوبارہ اسے ٹیلی فون کرنا مناسب سمجھا۔میں ان بڑے بڑے ڈسپلیز پے دیکھنے لگا کہ ونٹرتھور جانے والی ٹرین کس پلیٹ فارم پے آئے۔ پلیٹ فارم نمبر دیکھ کے میں نے اس کی طرف چلنا شروع کردیا۔ میں نے احتیاطً ایک دو بندوں سے پوچھ بھی لیا تھا۔ ٹرین کے جانے میں ابھی دس منٹ باقی تھے۔ میرے پاس کچھ پیسے تھے میں نے سوچا آگے چل کے نہ جانے کچھ کھانے کو ملے نہ ملے، کیوں ناکوئی سینڈوچ وغیرہ کھا لوں۔ پلیٹ فارمز کے پاس کئی جگہوں پے چھوٹے چھوٹے دکانوں نماں کیبن بنے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک پے میں گیا۔ وہاں پے ایک لڑکا کھڑا تھا۔ شکل و صورت سے فلیپینی (fillipino)لگتا تھا لیکن مجھے اس کی نیشنیلٹی کاصحیح پتا نہ چلا۔ میں نے اس سے انگریزی میں کہا کہ مجھے ایک سینڈوچ چاہیئے اور ایک کوک کا کین ۔ اس نے کہا مجھے شیلف میں لگے ہوئے سارے سینڈوچ باری باری بتائے کہ ان کے نام کیا ہیں اور ان کے اندر کیا ہے۔ میں نے کہا، میں سبزی یا پنیر والا کوئی سینڈوچ لونگا کیوں کہ مجھے گوشت سے الرجی ہے۔ خاص طور پے
میں سؤر کا گوشت بالکل نہیں کھا تا۔ اس نے میری بات پے کوئی خاص توجہ نہ دی۔ میرے ہاتھ میں کوک کا ایک کین اور ایک عدد سینڈوچ تھما دیا، جس میں ٹماٹر، سلاد کے پتے، ایک ٹکڑا پنیر کاپڑا ہوا تھا۔ میں نے اسے مطلوبہ رقم ادا کی اور چل کے پلیٹ فارم کی طرف آیا جہاں ٹرین کھڑی تھی۔ میں نے ٹرین میں سوار ہونے سے پہلے اپنی جیبیں ٹٹولیں۔ ٹرین میں ملنے والے لڑکے کا کارڈ میں نے پاس ہی پڑے ہوئے گند کے ڈبے میں پھینک دیا۔ تھوڑی دیر کے لیئے سوچا کہ موبائیل فون پھینک دو پھر خیال آیا کہ کرائس لنگن جاکر پھینک دوں گا۔ میں نے اپنی جیب سے تمام اٹالین سکے، ایک دو چابیاں اور ایک دو چھوٹے چھوٹے کاغذوں پے لوگوں کے پتے ، ٹیلی فون نمبر اور ای میل لکھے ہوئے تھے وہ بھی پھینک دیئے۔ ان کاموں سے فارغ ہونے کے بعد میں ٹرین میں سوار ہوگیا۔ اس وقت رات کے ساڑھے دس بجے ہوں گے۔ یہ ٹرین اس ٹرین کی طرح نہیں تھی جس طرح کی ٹرین پے میں لوگانوں سے زیورک آیا تھا لیکن اٹلی کو ریجنل ٹرینوں سے لاکھ درجے بہتر تھی۔ اب ٹرین میں سوار ہوتے ہی مجھے یہ فکر لاحق ہونے لگی اگر وہ لڑکا جس نے اسے کارڈ دیا اگر وہ دوبارہ مل گیا تو کیا ہوگا کیونکہ اس نے بھی ونٹرتھور جانا تھا۔ آخر کار میں نے خود کو ذہنی طور پے تیار کرلیا کہ اگر مل گیا تو بتا دوں گا کہ اصل کہانی کیا۔ میں سوس سوزی سے ملنے آیا تھا۔ میں خوابوں اور خیالوں میں کئی محل کھڑے کرلیئے تھے۔ وہ سارے چکنا چور ہوگئے اب کرائس لنگن جارہا ہوں ۔ وہاں جاکر سیاسی پناہ کی درخواست دوں گا۔ میں نے خود کو خیالوں کے اس بھنور سے نکالا اور کاغذ کے بیگ سے نکال کر سینڈوچ کھانے لگا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں کوک بھی پی رہا تھا۔ جب سیندوچ ختم ہوگیا اور کوک کا کین بھی ختم ہوگیا تو میں نے کین اور کاغذ بن کی نظر کردیا۔ ٹشو پیپر سے ہاتھ اور منہ صاف کیا۔ سینڈوچ کھانے کے بعد میں نے سوچا چلو اس سے تھوڑی دیر سہارا مل جائے گا۔ میرا یہ سفر زیادہ لمبا نہ تھا۔ قریباً چالیس سے پینتالیس منٹ کا سفر تھا۔ زیورگ ریلوے سٹیشن سے جب ٹرین چلی تھی تو اس کے آس پاس پہلے بڑی بڑی عمارتیں تھیں۔ پھر آہستہ آہستہ اِکا اْکا عمارتیں آئیں۔ پھر یہ سلسلہ بندہوگیا۔ ٹرین ایک دو چھوٹے چھوٹے ریلوے سٹیشنوں پے رکی۔ ٹھیک وقت پے ٹرین ونٹر تھور ریلوے سٹیشن پے پہنچ گئی۔ یہاں سے میری اگلی ٹرین کا وقت بہت تھوڑا تھا۔ میرا مطلب ہے۔ اگلے ٹرین جس پے مجھے کرائس لنگن جانا تھا وہ ٹھیک پانچ منٹ بعد تھی۔ خوش قسمتی سے سوس ٹرینیں وقت کی پابندی کرتی ہیں ورنہ اگر میں اٹلی میں ہوتا تو مجھے رات ونٹرتھور ریلوے سٹیشن پے گزارنی پڑتی۔ جیسے ہی
ٹرین پلیٹ فارم پے رکی میں آگے پیچھے مڑکے نہ دیکھا۔ آس پاس کیا ہو رہا ہے۔ پلیٹ فارم پے لگے ہوئے مونیٹر پے اپنی ٹرین کا ٹائم اور پلیٹ فارم نمبر دیکھا۔ بالکل ساتھ والا پلیٹ فارم تھا ۔ یہ لوکل ٹرین تھی ۔ اس کا آخری سٹاپ کرائس لنگن تھا۔ میں ٹرین میں سوار ہوگیا۔ ٹرین تقریباً خالی تھی۔ یہ ٹرین جب ونٹرتھور سے چلی تو اس نے پہلا سٹاپ فرائن فیلڈ کیا۔ یہاں سے ٹرین میں بہت آدمی سوا ہوئے۔ انہوں نے فوجیوں جیسے وردی پہنی ہوئی تھی۔ مجھے تھوڑا ڈر لگا پھر میں نے سوچا اگر انہوں نے پوچھا بھی تو میں کہوں گا کہ میں تمہارے ملک میں سیاسی پناہ لینے آیا ہوں۔ ٹرین چلتی رہی اور آخر کار کرائس لنگن ریلوے سٹیشن آگیا۔ میں جلدی سے ٹرین سے اترا اور بنا سوچے سمجھے نیچے سیڑھیوں پے اتر گیا۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ میں کہاں جارہا ہوں۔ میری کوشش یہی تھی کہ ان فوجیوں کی آنکھوں کے سامنے سے جتنی جلدی ہوسکے اوجھل ہوجاؤں۔ سیڑھیاں اترا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک راستہ تو دوسرے پلیٹ فارم کی طرف جاتا اور ایک طرف سرنگ تھی۔ اس طرح کی جگہ کو سب وے بھی کہتے ہیں۔ میں نے اللہ کا نام لیا اور اس سب وے پے چلنے لگا۔ چلتے چلتے میں باہر سڑک کی طرف آگیا۔ میں یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ میں کہا جارہا
ہوں لیکن میں چلا جارہا تھا۔ جب سب وے سے باہر نکلا تو ہر طرف اندھیرا۔ دور سے ریلوے سٹیشن کے کلاک پے نظر ڈالی ۔اس پے اس وقت رات کے۴۵؛۱۱ گیارہ بج کے پینتالیس منٹ ہوئے تھے۔اس وقت میرا دماغ ماؤف ہوچکا تھا۔ کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کس طرف جاؤں۔ کبھی سوچتا سیدھے ہاتھ پے چلتا چلا جاؤں کبھی سوچتا الٹے ہاتھ پے چلتا چلا جاؤں ۔ آخر کار میں نے ریلوے سٹیشن کے سیدھے ہاتھ پے چلنا شروع کر دیا۔ اس روڈ کا نام ’’باہن ہوف سترازے‘‘(Bahnhauf Strasse) تھاجیسے پاکستان میں ریلوے روڈ ہوتا ہے۔ اس کا مطلب بھی یہی تھا یعنی ریلوے سٹیشن روڈ۔ میں نے سوچا اگر پاس ہی کوئی پولیس سٹیشن نظر آیا تو خود کو ان کے حوالے کرودں گا اور وہ خود ہی مجھے مہاجرین کے کیمپ میں چھوڑ آئیں گے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ وہ مجھے ازیل ہائم یعنی سیاسی پناہ گاہ کا پتا بتا دیں۔ مجھے مغل صاحب کے دوست جعفر نے بتایا تھا کہ ازیل ہائم ڈھونڈنا بہت آسان ہے یہ سٹیشن کے بالکل پاس ہے۔ میں نے چند ایک ٹیکسی ڈرائیورز سے پوچھا لیکن وہ انگریزی زبان سے ناواقف تھے اور میں جرمن زبان سے۔ مجھے تھوڑی دیر کے لیئے ایسا لگا جیسا میں دنیا کے اس کونے میں گم ہوگیا ہوں۔ میں تھکا ہوا تھا، مجھے نیند بھی آنے لگی تھی، مجھے بھوک بھی لگ رہی تھی۔ میرا سارا جسم ایسے درد کررہا تھا جیسے مجھے کسی نے بیدردی پیٹا ہو۔ مجھے ایسا لگنے لگا جیسا میرا پورا جسم زخموں سے بھرا ہوا ہے۔ مجھے سب سے زیادہ چیز جو تنگ کررہی تھی وہ یہ کہ میں نے ابھی تک اپنے دانت صاف نہیں کیئے تھے۔ حالانکہ راستے میں کئی ایک جگہ میں رکا۔ وہاں سے ایسا چیونگ گم لے سکتا تھا جس سے اس طرح محسوس ہونا کم ہوجاتا ہے لیکن میراذہن اس طرف گیا ہی نہیں۔ پھر میرے سر میں ہلکا ہلکا درد بھی شروع ہوگیا تھا۔ کیونکہ میرے جسم میں نکوٹین اور کیفین کی کمی مجھے تنگ کررہی تھی۔ اس وقت میں نے خود کو بہت بے بس محسوس کیا۔ کبھی کبھی انسان کی ترجیحات اور ہوتی ہیں اور ضروریات اور۔ میری ترجیحات میری ضروریات پے غا لب آگئیں اور میں لگا پناہ گاہ ڈھونڈنے۔ جہاں مجھے رات گزارنی تھی۔ میں باہن ہوف سترازے پے چلتا چلا جارہا تھا۔ اچانک میری نظر ایک آئی نیٹ کیفے پے پڑی۔ یہ اس کیفے کا نام تھا۔ اتفاق سے رات کے بارہ بجے یہ کھلی ہوئی تھی۔ میں بہت حیران ہوا۔ خیر میں انٹرنیٹ کیفے کے اندر داخل ہوا اور اس شخص سے انگریزی میں پوچھا ، ’’یہ نیٹ کیفے کھلی ہے ‘‘
اس نے جواب دیا، ’’ہاں‘‘۔
میں نے پوچھا، ’’ایک گھنٹا انٹرنیٹ استعمال کرنے کے کتنے پیسے‘‘
اس نے جواب دیا، ’’ایک گھنٹے کے آٹھ سوس فرانک اور آدھے گھنٹے کے چار سوس فرانک‘‘۔
میں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا ۔میرا پاس آخری دس فرانک کا نوٹ بچا تھا۔
کیفے میں ایک دو لوگ موجود تھے۔ یہ ایک چھوٹی سی انٹرنیٹ کیفے تھی۔ چار کمپیوٹر پڑے ہوئے تھے۔ اس نیٹ کیفے کا مالک انگریزی جانتا تھا اس لیئے اس سے بات چیت کرنے میں مجھے کوئی دقت نہ پیش آئی۔ یہ شخص نہ زیادہ لمبا تھا نہ ہی چھوٹے قد کا تھا۔ درمیانے قد کا مالک تھا۔ اس کی عمر قریباًپینتالیس سال یا شاید اس سے زیادہ ہوگی۔ اس نے کا چہرہ گول تھا اور آنکھیں چھوٹی چھوٹی۔ پتلے پتلے ہونٹ لیکن اس نے بہت ہلکی ہلکی مونچھیں رکھی ہوئی تھیں۔ جس کی وجہ سے اس کا اوپر والا ہونٹ کم کم نظر آرہا تھا۔ میں جب اس کے چہرے کا معانہ کررہا تھا اس وقت وہ کمپیوٹر میں پاس ورڈ لکھ رہا تھا ۔اس نے جیسے ہی پاس ورڈ لکھا۔ کمپیوٹر کا انٹر نیٹ قابلِ استعمال ہوگیا۔
میں نے ایڈریس والی بارمیں www.hotmail.com لکھا اور کلک کردیا۔تھوڑی سی سرچ کے بعد ہاٹ میل کی سائٹ کھل گئی۔میں نے اپنا ای میل ایڈریس لکھا۔ پھر پاس ورڈ لکھا۔ چند لمحوں میں میرا میل بوکس کھل گیا۔ میں نے ان بوکس میں اپنی میلز دیکھیں۔ کوئی خاص میلزز نہی تھیں۔ زیادہ تر جَنک میل تھی۔ وہ میں نے کینسل کردی۔ اس کے بعد میں نے یاہو سرچ انجن کھلا۔ اب تک گوگل سرچ انجن اتنا مشہور نہیں تھا۔ میں نے کرائس لنگن ازیل ہائم لکھا اور سکرین پے ازیل ہائم کے کئی آپشنز آگئے۔ مجھے جو ایڈریس چاہیئے تھا وہ مجھے مل گیا تھا۔ اس دوران میں نے کوک کا گلاس آرڈر کیا۔ اس شخص سے کاغذ اور قلم مانگا۔ ازیل ہائم کا ایڈریس لکھا ۔ اس دوران آدھا گھنٹا گزر چکا تھا۔ میں نے اسے آدھے گھنٹا انٹرنیٹ استعمال کرنے کے پیسے دیئے اور کوک کے بھی۔ اس کام کے بعد میں انٹرنیٹ کیفے سے باہر آگیا لیکن اچانک نہ جانے مجھے کیا خیال آیا اور میں دوبارہ انٹرنیٹ کیفے میں چلا گیا۔ وہ آدمی مجھے
دوبار ہ دیکھ کے بڑا حیران ہوا ۔کہنے لگا اب تو میں بند کرنے لگا ہوں۔ میں نے کہا، ’’میں انٹر نیٹ استعمال کرنے نہیں آیا۔ بات دراصل یہ ہے کہ اگر تمہیں برا نہ لگے تو میرا موبائیل فون رکھ لو۔ میں صبح آکے لے لوں گا‘‘۔اس نے نہایت مہذب انداز میں کہا، ’’ہاں کیوں نہیں۔ یہ یہاں پڑا رہے گا۔ تمہاری امانت ہے۔ تم صبح آکے لے جانا‘‘۔میں نے کہا، ’’بہت شکریہ‘‘۔ یہ کہہ کر میں انٹرنیٹ کیفے سے باہر آگیا اور دوبارہ باہن ہوف سترازے پے چلنا شروع کردیا۔ میں نے باہر روڈ پے آکے لکھا ہوا
ایڈریس ایک دو لوگوں کو دکھایا۔ ایڈریس دیکھ کے مجھے انہوں نے یہی بتایا کہ یہ ریلوے سٹیشن کے دوسری طرف جو کوستانز سترازے (Costanze strasse)ہے وہاں ہے۔ میں باہن ہوف سترازے پے چلتا چلتا دوبارہ سب وے کی طرف آیا۔ میں قریباًآدھے منٹ میں کوستانزر سترازے (constanze strasse)پے تھا۔ جیسے ہی سڑک پے آیا۔ سامنے کیا دیکھتا ہوں کہ ایک ڈونرکباب کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ اس پے لکھا ہوا ڈونرکباب امبس(imbiss)۔ اس کے ساتھ ایک بلیئرڈ کلب تھا اور پب تھا۔ میں ابھی تک جان نہیں پایا تھا کہ میں کہاں ہوں۔ میں نے کوستانزر سترازے پے چلنا شروع کردیا۔ میں اس بات سے ناواقاف تھا یہاں سے دوسو قدم کے فاصلے پے جرمن بارڈر ہے یا شاید اس سے بھی کم۔ میں نے سامنے سے دو آدمیوں کو آتے ہوئے دیکھا۔ دونوں کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ لگتی تھی لیکن ان کی صحت بہت اچھی تھی۔ اونچے لمبے گورے چٹے گپیں لگاتے چلے جارہے تھے۔ دونوں نے ٹی شرٹس اور شارٹس پہنے ہوئے تھے اور پاؤں میں ٹرینرز پہنے ہوئے تھے۔ میں نے ان کو کاغذ پے لکھا ہوا پتا دکھایا۔ انہوں نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے سمجھایا کہ اس روڈ پے واپس جاؤں۔ پھر ان میں سے ایک نے مجھے انگریزی میں بتایا کہ پیچھے جو بلیئرڈ کلب اور ڈونر کباب انبس(imbiss) ہے بالکل اس کے ساتھ ایک روڈ جاتی ہے اس کا نام ہے ڈوبل لس سترازے(doubless strasse)۔ اس روڈ پے تھوڑا ہی چلنا پڑے گا۔ تمہیں ازیل ہاہم کی عمارت دکھائی دے گی۔ یہ تیرہ نمبر
پے واقع ہے۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور جس طرح انہوں نے سمجھایا تھا بالکل اسی طرح ہی کیا۔ اسی روڈ پے واپس چلنا شروع کردیا جہا ں سے میں چل کے آیا تھا۔ ڈونر کباب انبس کے بالکل ساتھ مجھے ایک چھوٹا سا روڈ نظر آیا۔ میں نے اس روڈ پے چلنا شروع کردیا۔ اس روڈ کا نام تھا ڈوبل لس سترازے۔ اس روڈ کے بالکل ساتھ ساتھ ایک چھوٹی سی ندی بہہ رہ رہی تھی۔ یا یوں کہہ لیجئے گندا نالا تھا کیونکہ اس سے کافی بری بو آرہی تھی۔ میں جس روڈ پے چل رہا تھا اس کے ایک طرف تو یہ بدبو دار گندا نالا تھا اور دوسری طرف چھوٹے چھوٹے گھر تھے۔ میں گھروں نمبر دیکھتا گیا۔ جب گھر ختم ہوئے تو ایک عجیب سی عمارت آگئی۔ بالکل ایسا لگتا تھا جیسے فوجیوں کی بیرکس ہوں۔ یا ریڈ کراس کا کوئی ہسپتال ۔ میں نے اس عمارت کے آس پاس دیکھا شاید کوئی نمبر لکھا لیکن مجھے کہیں بھی تیرہ لکھا ہوا نہ نظر آیا۔ میں اسی روڈ پے آگے چلتا چلا گیا۔ آگے ایک نئی تعمیر شدہ عمارت نظر آئی۔ میں نے اس عمارت کا تقریباً چکر کاٹا جیسے کوئی طواف کرتاہے لیکن مجھے اس کا داخلی دروازہ کہیں نظر نہ آیا۔ آخر کار مجھے ایک کونے میں ایک جنگلہ لگا ہوا نظر آیا۔ اس کے جنگلے پے چھوٹا چھوٹا لکھا ہوا تھا
’’۱۳‘‘۔ میں نے اس جنگلے پے لگی ہوئی گھنٹی پے ہاتھ رکھا۔ دو تیں دفعہ گھنٹی بجائی لیکن کوئی جواب نہ آیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔













Monday, June 13, 2011

pase ayena 2nd chapter



(۲)

ہفتے کے دن پری پیکر ،فرشتہ سے کاغذوں کا پلندہ لے کر گیا اور اتوار کی صبح پھر وارد ہوا۔ نیائش نے دروازہ کھولا۔ اس نے آتے ہی پوچھا، ’’ارے بھئی فرشتہ صاحب کدھر ہیں‘‘۔
میں نے کہا، ’’خیریت ہے آج بڑے احترام سے بلا رہے ہو‘‘۔
’’نیائش یہ شخص جیسا نظر آتا ہے ویسا نہیں ہے۔ تمہارا اندازہ ٹھیک تھا‘‘۔
’’میں تو اس بات سے واقف ہوں لیکن میں چاہتا تھا کہ تم خود اس بات کو اپنے طور پے جانو اور اپنی رائے قائم کرو‘‘۔
’’فرشتہ صاحب اس وقت کہاں ہیں‘‘۔
’’باہر کھڑا ہوگا محفل سجا کے۔ کسی کے کان کھا رہاہوگا۔ دنیا جہا ن کے گندے لطیفے اس کو آتے ہیں ۔ جگت بازی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ بات سے بات نکالتے میں ا تنا ماہر ہے کہ بڑے سے بڑے بولنے والے اس کے ساتھ گونگے ہوجاتے ہیں‘‘۔
’’مجھے تو سمجھ نہیں آتی کہ اس نے اپنے اوپر ایسا خول کیوں چڑھایا ہوا ہے۔ اپنی اس صلاحیت کو کسی مثبت کام کے لیئے بھی استعمال کرسکتا ہے‘‘۔
’’مجھے خود سمجھ نہیں آتی۔ ویسے میرے ساتھ وہ بہت اچھے طریقے سے رہتا ہے‘‘۔
’’اچھا جب وہ آئے تو اس کو یہ لفافہ دے دینا‘‘۔
’’اس میں اس کی رام کہانی ہے۔ بہت اچھا لکھا ہوا ہے۔میرا خیال تھا باقی باب بھی لے جاتا اگر اس نے لکھے ہیں تو‘‘۔
’’تم کہتے ہو تو بلا لیتا ہوں ‘‘۔
’’اگر ایسا ہوجائے تو بہت اچھا ہے۔ یا مجھے اس کا موبائیل نمبر دو میں خود اس سے بات کرلیتا ہوں‘‘۔
’’فرشتہ موبائیل فون استعمال نہیں کرتا‘‘
’’وہ کیوں‘‘؟
’’یہ تم اسی سے پوچھ لینا‘‘۔
’’تو پھر تم اسے کیسے اطلاع دو گے‘‘۔
’’مجھے پتا وہ اس وقت کس کے ساتھ ہوگا۔ میں اس کو فون کرتا ہوں۔ اگر اس کے ساتھ ہوا تو فرشتہ سے بھی بات ہوجائے ‘‘۔
نیائش نے اس شخص کا موبائیل نمبر ملایا ۔ دو دفعہ گھنٹی بجی اور اس شخص نے فون اٹھا لیا، ’’ہاں جی نیائش بھائی کیسے یاد کیا‘‘
’’ارے بھئی یہ پری پیکر میرا مطلب ہے ثقلین صاحب فرشتہ سے ملنے کے لیئے بڑے بے چین ہیں‘‘۔
اس شخص نے موبائیل فرشتہ کو دے دیا اور کہا، ’’نیائش بھائی ہیں‘‘
’’ارے بھئی مجھ سے کون سی خطا ہوگئی ۔ کہیں اخبار میں میرے خلاف تو نہیں لکھنا‘‘
’’ارے نہیں وہ تمہارا کاغذوں کا پلندہ لایا ہے اور کہہ رہا ہے اگر اگلا باب لکھا ہوا تو مجھے دے دیں‘‘۔
’’آپ لوگ پانچ منٹ میرا انتظار کریں، میں آرہا ہوں‘‘۔
اس طرح نیائش اور فرشتہ کی ٹیلی فونک گفتگو ختم ہوگئی۔
ٹھیک پانچ منٹ میں فرشتہ گھر پے موجود تھا۔ وہ آتے ہی ثقلین سے مخاطب ہوا، ’’جناب کیا خطا ہوگئی‘‘۔
’’فرشتہ صاحب کاغذوں کا جو پلندہ آپ نے مجھے دیا تھا میں نے پڑھ لیا ہے۔ بہت دلچسپ ہے ۔میں مزید پڑھنے کے لیئے بے چین ہوں‘‘
’’ثقلین صاحب اس میں اغلاط تو بہت ہونگی کیونکہ میں نے بہت جلدی میں لکھا ہے‘‘
’’تھوڑی بہت غلطیاں ہیں کا ،کے، کی وغیرہ کی۔ آپ کی اردو مجھ سے بہت اچھی ہے ‘‘
’’ویسے کاکے کی غلطیاں تو معاف کی جاسکتی ہیں‘‘
’’میرا مطلب وہ والے کاکے کی غلطیاں نہیں بلکہ دوسری والی کا۔۔۔کے۔۔۔کی ہے‘‘
’’میں اب سمجھا‘‘
’’سمجھ تو آپ پہلے بھی گئے تھے لیکن بات میں مزاح کا عنصر ڈھونڈنا آپ کا فن ہے‘‘
’’بہت شکریہ‘‘۔
اتنا کہہ کر فرشتہ اٹھا ۔ ثقلین سے پرانا پلندہ لیا اور کمرے میں چلا گیا۔ جب واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ٰٰٰٓٓٓایک اور کاغذوں کا پلندہ تھا۔ اس نے ثقلین کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا، ’’مجھے آپ کی رائے کا انتظار رہے گا‘‘۔
’’آپ بالکل فکر نہ کریں میں بڑے غور سے پڑھوں گا‘‘۔
ثقلین نے پلندہ ہاتھ میں لیا اور اجازت چاہی ۔ فرشتہ اور نیائش نے بہت کہا کہ چائے پی لے کچھ کھا لے لیکن وہ نہ مانا اور خدا حافظ کہہ کے چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثقلین نے رات کاکھانا کھا یا اس کے بعد چائے پی۔ پھر ٹیبل لیمپ آن کیا اور اپنی الماری سے کاغذوں کا پلندہہ نکالا اور پڑھنا شروع کیا۔
سن
۲۰۰۲ مئی کے مہینے میں فٹبال کا ورلڈ کپ شروع ہوا۔ جیسے انگلینڈ کو کرکٹ کا گھر کہتے ہیں بالکل اسی طرح اٹلی کو فٹبال کاگھر کہتے ہیں۔ اٹالین لوگ مذہب کے اعتبار سے عیسائی ہیں اور یہ کیتھولک فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اٹالین لوگوں کے لیئے فٹبال مذہب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ یہ لوگ گھنٹوں فٹبال پے بات کرتے ہیں لیکن ان کی اچھی بات یہ ہے کہ کتنی بھی بحث ہو، ایک دوسرے کو بھلے کتنا ہی برا بھلا کہیں، فٹبال کے کھلاڑیوں کی کارکردی کو کتنا ہی تنقید کا نشانہ بنائیں لیکن ہاتھا پائی نہیں کرتے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں لوگ کھیل اور سیاست کے بحث کے دوران مرنے مارنے پے اتر آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ یورپیئن لوگ یا یوں کہنا چاہیئے کہ اٹالین لوگ بہت مہذب ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہاں کا قانون بڑا سخت ہے۔ یہاں جو شخص بھی پہلے ہاتھ اٹھاتا ہے قانوناََ وہ مجرم ہوتا ہے۔
اس دفعہ فٹبال کے ورلڈ کپ کے لیئے ہمیشہ کی طرح ہالینڈ، اٹلی اور برازیل ،ان تینوں ٹیموں کے بارے میں سب کا خیال تھا کہ یہ ٹیمیں جیتیں گی۔ میں نے نیائش سے کہا میں کچھ میچز ادھر اٹلی میں دیکھوں گاباقی وہاں سوئٹزرلینڈ میں دیکھ لوں گا۔ ویسے مجھے فٹبال کا اتنا شوق نہیں لیکن ورلڈ کپ کے میچز کو دیکھنے میں مزہ آتا ہے۔ شروع کے میچز بڑے دلچسپ تھے۔ بہت ساری غیر متوقع ٹیمیں کواٹر فائینل کے لیئے کوالیفائی کرچکی تھیں ان میں ترکی کی ٹیم بھی شامل تھی۔
نیائش مجھے اب بھی روکنے کے حیلے بہانے ڈھونڈھ رہا تھا لیکن میرے پر زور اصرار پے وہ مجھے میلانوں لے جانے پے رازی ہوگیا۔ اس نے اپنے دوست کو فون کردیا کہ ہم لوگ چند دنوں میں آرہے ہیں۔ اس نے کہا جب بھی تمہارا دل کرے آجانا کوئی مسئلہ نہیں۔
۲۰۰۲ ،جون کی ۱۵تاریخ کو ہم صبح چھ بجے نکلے۔فلورنس نارتھ کے آٹو گرل(یورپیئن ملکوں میں موٹرویز پے ہر تیس یا چالیس کلومیٹر کے بعد اس طرح کے ریفریشنگ سٹاپ بنے ہوتے ہیں) پے رکے ۔ نیائش نے کاؤنٹر پے دو کپوچینو اور کوآساں کا آرڈر دیا۔ کافی پیتے ہوئے اس نے کوآساں کو بمشکل نگلتے ہوئے کہا، ’’فرشتہ میں تو کہتا اب بھی واپس چلو‘‘۔
میں نے کہا، ’’اب نکلا ہو تو اپنا مشن پورا کر کے ہی رہوں گا‘‘۔
’’جیسے تمھاری مرضی‘‘۔
ہم لوگ ضروری حاجات سے فارغ ہوئے اور دوبارہ آکر گاڑی میں بیٹھ گئے۔ نیائش کی گاڑی پٹرول یا ڈیزل کے بجائے گیس سے چلتی ہے اس لیئے وہ میتانو گیس (ایک طرح کی گیس جو گاڑیوں میں استعمال ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ اٹلی میں جی پی ایل گیس بھی استعمال ہوتی ہے) سٹیشن پے رکا۔اس نے جیسے ہی گیس فل کروائی، گاڑی سٹارٹ کی۔ اس کی کار موٹروے پے فراٹے بھرنے لگی۔ ہم لوگ قریباً گیارہ بجے واریسے کے پاس پہنچ گئے۔ نیائش نے متعلقہ شخص کو موبائیل نمبر پے فون کیا۔ اس نے کہا آپ لوگ واریسے ریلوے سٹیشن پے آجائیں میں یہاں قریب ہی ایک گاؤں میں رہتا ہوں۔ دس منٹ میں پہنچ جاؤں گا۔ نیائش مجھے بتانے لگا یہ شخص پہلے اریزو ہی رہتا تھا۔ اس نے جیسے ہی اٹالین لائسنس حاصل کیا اس نے یہ کام شروع کردیا۔ پہلے یہ فرانس سے سپین کا بارڈر پار کروایا کرتا تھا اب یہ سوئٹزرلینڈ بندے لے کر جاتا ہے۔
ہم لوگوں نے موٹروے سے، ان کاٹکٹ ادا کرکے باہر آگئے۔ اب عام سڑک پر تھے۔ نیائش نے کافی پینے کے لیئے ایک چھوٹی سی بار کے پے گاڑی روکی ۔ میں عام طور پے کافی پیتا نہیں ہوں لیکن چونکہ میرے سر میں شدید درد ہورہا تھا اس لیئے میں نے بھی کپوچینو پی اور اس کے ساتھ ایک کوآساں کھایا۔ پھر میں نے بار والے سے کہا کہ اگر ہوسکے تو مجھے ایک تاکی پرینا یا ایسپرین دے دے۔ اس نے جھٹ سے گلاس میں پانی ڈالا اور اس میں پانی میں حل ہوجانے والی ایک گولی ڈالی ، شاید ایسپرین تھی۔ اٹالین لوگ اس طرح کی گولی کو افیروے شینتے یعنی گھل جانے والی گولی کہتے ہیں۔ میں نے ایک ہی سانس میں یہ حل شدہ گولی حلق میں اتادی۔ نیائش نے کوفی اور کپوچینو کے پیسے ادا کرنے کے لیئے اپنا پرس نکالا۔ ابھی وہ یہ کہنا ہی چارہا تھا کہ گولی اور پانی کے گلاس کے پیسے بھی شامل کرنے ہیں ۔وہ شخص نیائش سے پہلے بو ل پڑا۔ گولی اور پانی میری طرف سے۔ نیائش اور میں حیران ہوئے۔ عام طور ایسا ہوتا نہیں۔ نیائش نے اصرار کیا لیکن اس نے گولی اور پانی کے گلاس کے پیسے لینے سے انکار کردیا۔
نیائش اس شخص کے اچھے اخلاق سے بہت متاثر ہوا ۔ اس نے اس شخص سے واریزے ریلوے سٹیشن کا راستہ پوچھا تو اس نے بتایا کہ تم لوگ سٹیشن کے بالکل قریب ہو۔ یہاں سے الٹے ہاتھ کو جو راستہ جاتا ہے اس پے سیدھے چلتے چلے جاؤ ۔ یہ سڑک سٹیشن پے جاکے ہی رکتی ہے۔ ہم لوگوں نے اس شخص کا شکریہ ادا کیا اور دوبارہ آکر کے کار میں بیٹھ گئے۔ نیائش کہنے لگا، ’’ابتداء تو بہت اچھی ہوئی ہے اب آگے دیکھو کیا ہوتا‘‘۔
میں نے کہا، ’’اس میں کوئی شک نہیں‘‘۔
ہم لوگ پانچ منٹ کے سفر کے بعد واریزے ریلوے سٹیشن کے سامنے کھڑ ے تھے۔ ہم دونوں گاڑی سے باہر آکر اِدھر اْدھر دیکھنے لگے۔ نیائش نے بے چینی میں متعلقہ شخص کے موبائیل نمبر پے فون کیا۔ اس نے جواب دیا کہ وہ سٹیشن کے پاس جو بار ہے اس میں کوفی پی رہا ہے کیونکہ جب تم لوگوں کا فون آیا تو میں اس وقت ناشتہ کررہا تھا۔ ناشتہ چھوڑ کے تم لوگوں کو لینے آیا ہوں۔ ہم لوگ جلدی سے بار میں پہنچے۔ اس نے بڑے تپاک سے ہمارا استقبال کیا۔ ہم سے کوفی کا پوچھاتو ہم نے کاکہا کہ ہم راستے میں پی کر آئے ہیں اور یہ بات تھی بھی درست۔ اس نے جیسے ہی کوفی ختم کی تو کہنے لگا، ’’تم لوگ گاڑی میں میرے پیچھے پیچھے آؤ ۔ یہاں پاس ہی گاؤں ہے وہاں ہم لوگوں کا ڈیرا ہے‘‘۔
نیائش نے کہا، ’’جیسے آپ کا حکم‘‘۔
اس طرح ہم لوگوں نے گاڑی اس کی گاڑی کے پیچھے چلانی شروع کردی۔ وہ مختلف گلیوں سے ہوتا ہوا ایک ایسی سڑک پے مْڑ گیا جہاں دونوں اطراف میں کھیت ہی کھیت تھے۔ جون کا مہینہ شروع ہوا تھا۔اس لیئے موسم بھی بہت اچھا تھا اور کھیت بھی سرسبز تھے۔ مجھے یہ بالکل یاد نہیں کہ کس چیز کی فصل تھی کیونکہ اس وقت میں کسی اور خیال میں گم تھا۔ کھیتوں سے گزرتے گزرتے ہماری گاڑی ایک ایسی جگہ پہنچی جہاں اکا دکا مکان تھے۔ پھر پکے مکانوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ایک دو گلیاں گھوم کے اس شخص نے گاڑی جاکے ایک بڑے سے صحن میں روک دی۔ اٹالین اس طرح کی جگہ کو کورتلیو کہتے ہیں۔ مجھے یہ جگہ چال کی طرح لگی۔ جن لوگوں نے انڈین فلمیں دیکھی ہیں ، انہوں نے بارہا ان کی فلموں میں چال دیکھی ہوگی ۔ بمبئے جس کا نام بدل کر ممبئے رکھ دیا گیا ہے وہاں اس طرح کی کئی چالیں ہیں۔ فرق صرف اتنا تھا یہ جگہ بہت صاف ستھری تھی۔ ایک راستہ تو وہ تھا جہاں سے ہم داخل ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ باقی اطراف میں ایک جیسی دو منزلہ عمارت تھی۔ نیچے بھی گھر تھے اور دوسری منزل کے گھروں کے سامنے برامدہ بنا ہوا تھا جو کہ سارے گھروں کا مشترکہ تھا۔ اگر آپ ایک کونے سے سیڑھیاں چڑھ کے اوپر جائیں تو سارے لوگوں کے گھروں کے سامنے سے گزر کے آپے دوسرے کونے والی سیڑھیوں سے اتر سکتے ہیں۔ اس کے بڑے سے صحن میں بہت ساری پلاسٹک کی تاریں بندھی ہوئی تھیں، ان تاروں پے لوگوں کپڑے سوکھنے کے لیئے پڑے ہوئے تھے۔ یہ کپڑے چمکیلی دھوپ اور ہلکی ہلکی ہوا کی وجہ سے ان تاروں پے لہرا رہے تھے ۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ فرشتہ کو اس کے آنے پے خوش آمدید کہہ رہے ہوں۔
ہم لوگ گاڑی سے نکلے۔ وہ شخص ہمارے آگے آگے چلتے ہوئے ہمیں اس چال نماں عمارت کی طرف لے گیا۔ ایک کونے میں سیڑھیاں تھیں۔ ہم لوگ سیڑھیاں طے کر کے دوسری منزل پے پہنچ گئے۔ اس عمارت میں سارے گھروں کے دروازے ایک جیسے تھے لیکن پاکستانیوں کے گھر کا ا یک لمحے میں پتا چل گیا کیونکہ اس کے باہر بیشمار جوتوں کے جوڑے پڑے ہوئے تھے اس کے علاوہ یہاں برامدے میں جو کپڑے سکھانے کے لیئے تار لگی ہوئی تھی اس پے شلواریں اور قمیصیں لہرا رہی تھیں۔ ایک شخص شلوار کے اوپر رنگین بنیان پہنے گھر کے باہر پڑے استری سٹینڈ پے کچھ استری کر رہا تھا۔ جو شخص ہمارے آگے آگے چل رہا تھا۔ اس نے اونچی آواز میں کہا، ’’بھئی میں مہمانوں کو لے آیا ہوں۔ میں ان کو چھوڑ کے جارہا ہوں مغل صاحب سے کہنا ان کا خیال رکھیں‘‘۔
اس شخص نے جواب دیا ، ’’آپ فکر ہی نہ کریں۔ وہ اپنے کسی دوست کے ساتھ بازار گئے ہوئے ہیں۔ میں ان کو اندر لے کر جاتا ہوں۔ دو اور لوگ بھی ہیں جنہوں نے سوئٹرلینڈ جانا ہے‘‘۔
ان دونوں میں یہ مختصر سی گفتگو ہوئی اور وہ شخص جو ہمیں یہاں تک لایا تھا چلا گیا ، شاید اس نے واریزے ریلوے سٹیشن سے کسی اور کو لانا ہو۔ یہ شخص جو شلوار اور رنگین بنیان میں ملبوس تھا ہمیں گھر کے اندر لے کر گیا۔ ہم جیسے ہی گھر کے اندرد اخل ہوئے ہمیں ایک عجیب سی بو آنے لگی۔ پہلے میں نے سوچا شاید میرا وہم ہے لیکن نیائش نے میرے طرف دیکھتے ہوئے عجیب سی شکل بنائی اور کہنے لگا ،’’یہاں سے عجیب و غریب سی بو آرہی ہے۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے یا تم نے بھی محسوس کیا ہے‘‘۔
میں نے کہا، ’’ہاں میں نے بھی محسوس کیا‘‘۔
جو شخص ہمیں اندر لے کر آیا تھا جس نے رنگین بنیان پہنی ہوئی تھی کہنے لگا، ’’آپ لوگ تشریف رکھیں ، میں آپ لوگوں کے لیئے چائے بناتا ہوں‘‘۔
جس دروازے سے ہم داخل ہوئے تھے بالکل اس کے سامنے ایک ڈائینگ ٹیبل پڑا ہوا تھا اور اس کے ارد گرد چھ کرسیاں پڑی ہوئی تھیں۔ جو کھڑکی برامدے کے ساتھ تھی اس دیوار کے ساتھ ایک بڑا صوفہ پڑا ہوا تھا۔ یہ کالے رنگ کا چمڑے کا کافی قیمتی صوفہ تھا۔ اس کے ساتھ والی دیوار کے ساتھ بھی ایک صوفہ پڑا ہوا تھا جس پر تین بندے بڑی آسانی سے بیٹھ سکتے تھے۔ ان دونوں صوفوں کے سامنے ایک میز پڑی ہوئی تھی ۔جس پے ایک دواردو اخبار پڑے ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ دو راکھ دانیاں تھیں بلکہ
یوں کہنا چاہیئے کہ ایش ٹریز تھیں۔ دونوں پیلے پیلے فلٹرز اور ادھ جلے سگرٹوں سے بھری ہوئی تھیں۔ دونوں صوفوں کے درمیان کونے میں ایک چھوٹی سی میز تھی جس پے دو ریموٹ کنٹرول پڑے ہوئے تھے۔ میں اور نیائش کھڑکی کے ساتھ والے صوفے پے بیٹھ گئے اور جودیوار گھر کے پچھلے طرف کو تھی۔ اس طرف ایک ٹرالی پے ٹی وی اور اس کے نیچے رسیور پڑا ہوا تھا۔ ٹی وی سکرین پے کوئی گانوں کا چینل چل رہا تھا۔ میری آنکھیں تو ٹی وی دیکھ رہی تھیں لیکن ذہن کہیں اور تھا۔ چند منٹ میں وہ شخص جو رنگین بنیان پہنے ہوئے تھا ہمارے لیئے کانچ کے گلاسوں میں چائے لے آیا۔ چائے کا رنگ بتا رہا تھا کہ اس رنگین بنیان والے شخص نے پتی کم ڈالی ہے اور دودھ زیادہ۔ہم نے چائے زہر مار کی۔ ابھی ہم چائے کی بد ذائقہ ہونے کا سو چ ہی رہے تھے کہ کسی نے دروازہ کھولا۔ ایک بھاری بھرکم جسامت کا شخص داخل ہوا اور اس کے ساتھ ایک درمیانے قد کا شخص تھا۔ دونوں جب اندر داخل ہوئے تو قہقہے لگا رہے تھے۔ وہ رنگین بنیان والا شخص اس بھاری بھرکم ڈیل ڈول والے شخص سے مخاطب ہوا، ’’مغل صاحب یہ دو بندے اریزو سے آپ سے ملنے آئے ہیں۔ میں نے انہیں چائے وغیرہ پلادی ہے‘‘۔
وہ شخص جس کو اس نے مغل صاحب کہہ کر مخاطب کیا تھا نہ صرف بھاری بھرکم تھا بلکہ اس کی آواز بھی بہت بھاری تھی۔ اس نے کہا، ’’یہ تم نے بہت اچھا کیا‘‘۔ پھر نیائش سے مخاطب ہوا، ’’نیائش صاحب گھر ڈھونڈنے میں کوئی دقت تو پیش نہیں آئی‘‘۔
نیائش نے نہایت مہذب انداز میں کہا، ’’جی بالکل نہیں۔ آپ کا بندہ ہمیں واریزے ریلوے سٹیشن سے راستہ دکھاتا ہوا یہاں تک لایا ہے‘‘۔
پھر مجھ سے مخاطب ہوا، ’’جناب کی تعریف‘‘۔
نیائش نے جواب دیا، ’’یہ میرے بہت اچھے دوست ہیں، بلکہ بھائی ہیں۔ میں نے انہیں بہت روکا ہے کہ سوئٹزرلینڈ نہ جاؤ لیکن یہ وہاں جانے پے مْصر ہیں‘‘۔
مغل صاحب نے پھر مجھ سے مخاظب ہوئے، ’’کیا نام ہے آپ کا‘‘۔
میں نے کہا، ’’جی فرشتہ‘‘۔
مغل صاحب پھر بولے، ’’تو فرشتہ صاحب ، آپ سوئٹزرلیند جانا چاہتے ہیں۔ میرے تو رائے ہے یہیں رک جائیں۔ آپ کو کاام پے لگوادیں گے۔ آپ کواٹالین زبان آتی ہے‘‘۔
میں نے کہا، ’’جی بس گزارا کر لیتا ہوں‘‘۔
نیائش نے مزید بتایا، ’’جی گزارا نہیں کرتا بلکہ اچھی خاصی بول لیتا ہے۔ اس کے علاوہ فرنچ اور انگریزی بھی جانتا ہے۔ نہ جانے اس کے دما غ میں کیابات سما ں گئی ہے۔ کہتا ہے سوئٹزرلینڈ جانا ہے‘‘۔
’’نیائش صاحب جیسے ان کی مرضی‘‘۔
میں نے پوچھا ، ’’مغل صاحب کیا میں آج ہی چلا جاؤں گا یا کچھ وقت لگے‘‘۔
تو اس نے جواب دیا، ’’فرشتہ صاحب ہمیں مہمان نوازی کا موقع دیں۔ ایک دو دن رکیں۔ آپ کو میلانو ں شہر کی سیر کروائیں گے۔ اس کے بعد آپ کو سوئس چھوڑ آئیں گے، ایسی بھی کیا جلدی‘‘۔
ہم لوگ ابھی اس لگی لپٹی اور جعلی آپ جناب کی گفتگو میں محو تھے، ساتھ والے کمرے سے ایک شخص آنکھیں ملتا ہوا نمودار ہوا۔ نہ کسی کو سلام کیا ، نہ آداب۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی آکے صوفے پے بیٹھ گیا۔ جیسے ہی بیٹھا، اس نے کونے پے رکھی میز سے دومیں سے ایک ریموٹ کنٹرول اٹھایا اور رسیور کے چینل گھمانے لگا۔ مغل صاحب نے گرجدار آواز میں کہا، ’’اوے کوچوان کہیں روک بھی دے‘‘۔
اس نے بات سنی ان سنی کردی اور اپنے کام میں مگن رہا۔ مغل صاحب نے ایک دفعہ پھر اس سے مخاطب ہوئے، ’’اوے کوچوان آج تو کام پے نہیں گیا‘‘۔
اس کا منہ ٹی وی کی طرف ، اس نے مغل صاحب کی طرف بنا دیکھے ہی جواب دیا، ’’مغل صاحب آج مالک کی طبیعت خراب تھی۔ اس لیئے اس نے فون کردیا تھا کہ آج نہیں آنا‘‘۔
مغل صاحب کے موبائیل فون کی گھنٹی بجی۔ ان کی گفتگو سے پتا چل رہا تھا کہ مغل صاحب کہیں باہر جارہے ہیں۔ ہم دونوں سے اجازت لیکر مغل صاحب باہر چلے گئے اور ساتھ اس بات کی بھی تسلی دے گئے کہ جلدی واپس آجائیں گے۔
جو شخص ٹی وی کے چینل بدل رہا تھامجھ سے مخاطب ہوا، ’’جناب کہا ں سے تعلق رکھتے ہیں‘‘؟
میں نے کہا، ’’جی راولپنڈی سے‘‘
وہ یہ سن کے بہت خوش ہوا۔کہنے لگا، ’’جی میں بھی پنڈی کا ہوں‘‘۔
میں نے سوچا اس سے پہلے ک یہ میرا انٹرویو لے کیوں نہ میں اس کا انٹرویو لوں۔
میں نے پوچھا، ’’پاکستان میں آپ کیا کرتے تھے‘‘۔
اس نے جواب دیا، ’’جی میں ٹانگہ چلاتا تھا‘‘۔
اب مجھے سمجھ آئی کہ مغل صاحب اسے کوچوان کیوں کہہ رہے تھے۔
میں نے دوسرا سوال کیا، ’’یہاں کب سے رہ رہے ہیں اور کیا کام کرتے ہیں‘‘۔
اس نے بڑے جوش سے جواب دیا، ’’جی میں سپین سے آیا ہوں۔ سنا ہے اٹلی کی امیگریشن کھلنے والی ہے ۔ یہاں پے ایک فیکٹری میں موٹر وائینڈنگ کا کام مل گیا ہے۔ بڑی اچھی دیہاڑی مل جاتی ہے۔ پاکستان میں ٹانگہ چلاتا تھا وہاں بھی اچھی گزر بسر ہوجاتی تھی ۔ پھر ٹانگہ بیچ دیا۔ سوچا تھا سوزوکی لے لوں۔ کمیٹی والوں نے روٹ پرمٹ ہی نہیں دیا۔ وہاں پے کوئی بڑا ٹھیکے دار تھا جو رشوت لے کے روٹ پرمٹ دلواتا تھا۔ میں نے سوچا یہ کام ہی کتا ہے چھوڑوں اس کام کو۔ میں نے اِدھر اْدھر سے پیسے اکھٹے کیئے ۔ ڈنکیاں لگاتا لگاتا یورپ آگیا‘‘۔
پھر مجھ سے پوچھنے لگا، ’’آپ کیا کام کرتے ہیں اور کہا سے آئے ہیں‘‘
میں نے کہا، ’’میں کوئی کام نہیں کرتا اور اریزو سے آیا ہوں‘‘۔
ٓاس دوران دو اور اشخاص وارد ہوئے۔ آپ انہیں نوجوان کہہ سکتے ہیں کیونکہ دونوں کی عمر لگ بھگ بیس سے چوبیس کے درمیان تھی۔ وہ آکے سامنے والے صوفے پے بیٹھ گئے۔ وہ شخص جسے مغل صاحب نے کوچوان کے نام سے نوازا تھا، جو کہ ہمارے ساتھ محوِ گفتگو تھا ۔ ان سے مخاطب ہوا، ’’ہاں بھئی جوانوں نیند پوری ہوگئی‘‘۔
انہوں نے کورس کے سے انداز میں یا یوں کہیئے کہ یک زبان ہوکر جواب دیا، ’’جی بہت اچھی نیند آئی ہے‘‘۔
میں نے پوچھا، ’’یہ لوگ کدھر سے آئے ہیں‘‘۔
کوچوان کہنے لگا،( میں اس کا نام نہیں جانتا اس لیئے میں کو کوچوان ہی لکھوں)’’یہ مغل صاحب کے مہمان ہیں ۔ انہوں نے سپین جانا ہے۔‘‘۔
میں دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ مغل صاحب کا یہی کاروبار ہے۔ کمرے کی فضا ء عجیب سی ہوگئی۔ میں اور نیائش کوچوان کی گفتگو سے محظوظ ہورہے تھے۔ اب یہ دو نئے مہمان وارد ہوگئے۔
میں سوچ کے اسی گرداب میں پھنسا ہوا تھا کہ ان دو لڑکوں میں سے ایک نے جو ابھی ابھی وارد ہوئے تھے نے ریموٹ کنٹرول اٹھایا اور لگا چینل بدلنے۔ آخر کار
B4U پے جا کے روک دیا۔ یہ انڈین سیٹلائٹ چینل ہے جو کہ ڈش اینٹیناء کی مدد سے نظر آتا ہے۔ اس پے انڈین فلموں کے نئے اور پرانے گانے لگتے ہیں۔ جس کے کئی سیگمنٹ ہوتے ہیں۔ جیسے ہی یہ چینل لگا سب کی نظریں ٹی وی کی طرف ہوگئیں۔
کوچوان بولا، ’’یہ چینل کیسے آتا۔ مجھے تو مغل صاحب نے بتایا تھا کہ اس چینل کو دیکھنے کے لیئے پیسے دینے پڑتے ہیں‘‘۔
ان دونوں لڑکوں میں سے ایک بولا، ’’یہ کبھی کبھی ایسی ہی آجاتا ہے‘‘
میں نے ان کی گفتگو میں شامل ہوتے ہوئے کہا، ’’اس طرح کی کوئی بات نہیں ۔ یہ چینل بالکل مفت ہے۔ اس کو دیکھنے کے کوئی پیسے نہیں دینے پڑتے‘‘۔
نیائش نے مجھے آہستگی سے کہا، ’’تمہیں کیا ضرورت ہے انہیں بتانے کی۔ انہیں مغل صاحب نے ڈرا ہوا ہوگا کیونکہ یہ چینل ایسا ہے اگر لگا ہوا ہو تو انسان کوئی کا م نہیں کرسکتا۔ سارا دن گانے ہی دیکھتا رہتا۔ کسی کو پرانے گانے پسند ہوتے ہیں، کسی کو نئے گانے۔ کوئی ہیجان انگیز گانے پسند کرتاہے‘‘۔
میں نے نیائش کی بات کی تائید کی اور کوچوان سے مخاطب ہوا، ’’جناب ‘‘۔ ابھی میں نے اتناہی کہا ہوگا کہ نیائش نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور آہستگی سے کہا، ’’ماڑا ن کو نہ بتانا جو میں کہہ رہا تھا‘‘۔ میں نے سرگوشی کے سے انداز میں کہا، ’’نیائش بھائی آپ فکر نہ کریں میں واش روم کا پوچھنے لگا ہوں‘‘۔تو اس نے کہا، ’’اچھا اچھا ٹھیک ہے‘‘۔
کوچوان نے کہا، ’’آپ کچھ پوچھنے لگے تھے‘‘۔
’’میں یہ کہہ رہا تھا کہ واش روم کدھرہے‘‘۔
وہ میری شکل دیکھنے لگا۔ میں نے کہا، ’’مجھے پیشاب آیا ہے‘‘۔
تو کہنے گا، ’’بالکل کونے میں ہے‘‘۔ اس نے ہاتھ سے اشارہ بھی کیا۔
میں اٹھا اور اس کے اشارے کے مطابق چلاگیا ۔ یہ ایک تنگ گلی نماں جگہ تھی۔ پہلے ایک کمرا آیا، جس میں دونوں اطرا ف میں ایک ایک چارپائی بچھی ہوئی تھی جسے آج کل بیڈ کہتے ہیں۔ اوپر کمبل اور تکیئے بکھرے ہوئے تھے۔ ایک طرف ٹی وی اور ڈی وی ڈی پلیئر پڑا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ایک اور کمرہ تھا اس کی بھی حالت ایسی تھی۔ آخری کمرہ اور واش روم ساتھ ساتھ تھے۔ آخری کمرے کا دروازہ بند تھا۔ میں واش روم میں داخل ہوا۔ اپنی حاجت رفع کی۔ واش روم کا معائنہ کیا۔ ایک طرف بڑا سا ٹب تھا جس کے اطراف میں پلاسٹک کا پردہ لگا ہوا تھا۔ ایک طرف واش بیسن تھا اس کے ساتھ ایک بڑا سا شیشہ لگا ہوا تھا اور اس کے آگے لگے ہوئے سٹینڈ پے بے شمار کریمیں اور ٹوتھ پیسٹ کی کچھ خالی اور بھری ہوئی ٹیوبز پڑی ہوئی تھیں۔ بے شمار ٹوٹھ برشز پڑے ہوئے تھے۔ میں نے اس معائنے کے ملتوی کیا اور واش روم سے باہر آگیا واپسی پر بھی راستے میں آنے والے کمروں پے اچٹتی نظر ڈالی ۔ اور آکر واپس اس چمڑے کے صوفے پے بیٹھ گیا جو بڑاقیمتی دکھائی دے رہا تھا۔
نیائش کہنے لگا، ’’یار یہ مغل صاحب نا جانے کہاں رہ گئے ہیں‘‘۔
اس نے کوچوان سے پوچھا، ’’یار پتا تو کرو یہ مغل صاحب کہاں ہیں‘‘۔
اس نے جواب دیا، ’’بس جی آتے ہی ہوں گے۔ وہ اپنے دوست کے ساتھ گئے ہوئے ہیں‘‘۔
ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ باہر کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ تھوڑی دیر میں دروازہ کھلا۔ مغل صاحب ایک اورشخص کے ساتھ داخل ہوئے۔
آتے ہی کہنے لگے، ’’معاف کیجئے گا مجھے تھوڑی دیر ہوگئی ۔ میں آپ لوگوں کے لیئے ہی گیا تھا۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے ہمیں بلایا اور کہا ،’’آئیں باہر چلتے ہیں وہاں جاکے بات کرتے ہیں‘‘۔
اتنا سننا تھا کہ ہم ان کے ساتھ ہولیئے کیونکہ یہاں بیٹھے بیٹھے ہم اْکتاء گئے تھے۔ ہم چاروں سیڑھیاں اترکے نیچے کھلی فضا میں آگئے۔ جہاں پے تاروں پے لوگوں کے کپڑے چمکتی دھوپ میں نہاں رہے تھے۔ وہاں ایک عدد ٹرک بھی کھڑا تھا اور اس کے پاس ایک کار کھڑی تھی۔ کار کے پاس جاکے مغل صاحب نے کہا، ’’یہ میرے دوست ہیں جعفر صاحب ۔ ہم دونوں آپ کو سوئٹزرلینڈ چھوڑ آئیں۔ میرا دل تو چاہتا تھا آپ لوگ ایک دو دن رکتے لیکن جعفر صاحب کہتے ہیں کہ آج ہی چلتے ہیں کیونکہ اگلے اتوار کو یہ فارغ نہیں ہوں گے‘‘۔
میں نے پوچھا ، ’’تو کیا ابھی جانا ہوگا‘‘۔
مغل صاحب نے جواب دیا، ’’ارے جناب ایسی بھی کیا جلدی ہے۔ پہلے کھانا کھائیں گے۔ اس کے بعد چائے پیئیں گے۔ ابھی تو ایک بجا ہے۔ ہم لوگ قریباًچار بجے نکلیں گے ‘‘۔
نیائش نے کہا، ’’مجھے تو واپس جانا ہے۔ میں نے تو سوموار کو کام پے جاؤں گا‘‘۔
’’نیائش بھائی آپ کو کس بات کی پریشانی ہے ۔ ہمارے پاس رکیں ۔ اپنے مالک کو فون کردینا کہ بیمار ہیں‘‘۔
’’مغل صاحب ایسا نہیں کرسکتا‘‘۔
’’چلیں جیسے آپ کی مرضی میں نے تو مشورہ دیا تھا‘‘۔
پھروہ نیائش اور مجھے ایک طرف لے گیا اور کہنے لگا، ’’آپ مجھے دو سو یورو دے دیں۔ میں نے اپنے دوست کو دینے ہیں۔ وہ یہ کام پیسوں کے لیئے کرتا ہے‘‘۔
میں نے کہا، ’’پیسے میں پہنچنے کے بعد دوں گا‘‘۔
تو کہنے لگا ، ’’جیسے آپ کی مرضی۔ ایسا کیجئے گا نیائش صاحب ۔ اریزو میں میرچچا کا بیٹا ہوتا آپ اسے پیسے دے دیجئے گا۔ ا س کو میں اپنی جیب سے دے دیتا ہوں‘‘۔
نیائش نے کہا، ’’ٹھیک ہے ، بہت شکریہ‘‘۔
اس کے بعد ہم میں کوئی بات نہ ہوئی۔ ہم لوگ واپس اسی گھر میں آگئے جہاں ہم پہلے بیٹھے ہوئے تھے۔ کوچوان اور دوسرے دو لڑکے ابھی تک بیٹھے
B4U پے گانے دیکھ رہے تھے۔ اس دورا ن دو لڑکوں کا اور اضافہ ہوچکا تھا۔
مغل صاحب نے باآواز بلند کہا، ’’چلو اوئے کوئی اور چینل لگاؤ۔ ہاں کھانا کون پکائے گا۔ ایسا کرو، فرج سے گوشت نکالو اور اور اچھا سا دال گوشت بناؤ۔ اور ہاں برکت ضرور ڈالنا کیونکہ بندے زیادہ ہیں‘‘۔
دو لڑکے جو نئے آئے تھے وہ دونوں اٹھے ۔ ان میں سے ایک آٹا گوندھنے لگا اور دوسرا کھانا بنانے کے لیئے پیاز اور ٹماٹر کاٹنے لگا۔
مغل صاحب آکے چمڑے کے صوفے پے بیٹھ گئے اور نیائش سے مخاطب ہوئے، ’’نیائش صاحب ، وہاں اریزو میں کام کے کیسے حالات ہیں‘‘۔
’’کیا بتاؤ جب سے امریکہ کا حادثہ ہوا مجھے لگتا ہے اس کا سب سے زیادہ اثر اریزو پر پڑا ۔ کام بہت کم ہوگیا اور ایسا لگتا ہے اریزو شہر غریب ہوگیا۔ آپ کو تو پتا ہی ہوگا اریزو میں بیشمار سونے چاندی کی فیکٹریاں تھیں۔ اب بہت کم ہوگئی ہیں۔ ان سب فیکٹریوں کا مال امریکہ جاتا تھا۔ امریکن منڈی میں مندی کا رجحان ہے‘‘۔
’’یہ بات تو ٹھیک ہے‘‘۔
باتوں باتوں میں ہمیں پتا ہی نہ چلا کہ تین بج چکے ہیں۔ وہ دونوں لڑکے جب کھانا پکا چکے توانہوں نے روٹیاں پکانی شروع کردی تھیں اس لیئے کھانا پیش کرنے میں دیر ہوگئی تھی ۔ انہوں نے قریباًتیس روٹیاں پکائی ہونگی ۔ جیسی ہی وہ کھانے کی میز پے تمام چیزیں سجاچکے، انہوں نے با آواز بلند کہا، ’’آئیں جنا ب کھانا لگ گیا۔ ہم سارے اٹھے اور ایک ایک کرسی پے براجمان ہوگئے۔ جن کو کھانے کی میز پے جگہ نہ ملی وہ پلیٹ میں سالن ڈال کر اور ایک پلیٹ میں روٹیاں رکھ کے ایک طرف ہوگئے۔ کھانے کی میز کے بالکل درمیان میں سالن کا بڑا دیگچہ پڑا ہوا تھا۔ سب نے باری باری سالن اپنی پنی پلیٹ میں ڈالا۔ میں نے جیسے ہی پہلا نوالا لیا ، جھٹ سے پانی کا گلاس بھرا اور غٹا غٹ پانی پی گیا کیونکہ سالن میں نہ صرف مرچیں زیادہ تھیں بلکہ مصالحے بھی بہت زیادہ تھے۔ لیکن سالن بہت مزیدار تھا۔ جیسے ہی کھانے سے فارغ ہوئے مغل صاحب نے چائے کا حکم نامہ جاری کردیا۔ چند لمحوں میں چائے بھی میز پر موجود تھی۔
مغل صاحب ایک دفعہ پھر گرجدار آواز میں بولے، ’’جوانوں یہ تمام برتن دھو دینا اور ا س کے بعد گھر کی صفائی بھی کردینا کیونکہ گھر بہت گندا لگ رہا ہے‘‘۔ اس کے بعد ہم سے مخاطب ہوئے، ’’آئیں جی نیائش صاحب باہر کھلی فضا ء میں جاکے کھڑے ہوتے ہیں‘‘۔ اس طرح ہم چاروں ، میرا مطلب ہے ، میں، نیائش، جعفر اور مغل صاحب نیچے کھلی فضاء میں آگئے۔
نیائش نے کہا، ’’مغل صاحب اگر مجھے اجازت دیں تو بڑی مہربانی ہوگی ۔ میں اپنے دوست کو آپ کے حوالے کرکے جارہا ہوں‘‘۔
مغل صاحب نے کہا، ’’جناب آپ فکر کیوں کرتے ہیں۔ یہ ہمارے لیئے قابلِ احترام ہیں۔ انشاء اللہ اگر خدا کو منظور ہوا تو جیسے ہی آپ اریزو پہنچے گیں یہ آپ کو سوس سے فون کریں گے کہ یہ وہاں پہنچ چکے ہیں۔ اگر خدا نا خواستہ کوئی مسئلہ ہوگیا تو میں ان کو اپنا نمبر دونگا۔ یہ جہاں بھی ہوں گے میں انہیں واپس واریزے اپنے گھر لے آؤ نگا‘‘
نیائش نے کہا، ’’ایسی کوئی بات نہیں ، مجھے آپ پے پورا بھروسہ ہے‘‘۔
اتنا کہہ کر نیائش مجھے ایک طرف لے گیا اور کہنے لگا، ’’فرشتہ میں تمہیں مجبور نہیں کرتا لیکن جن دنوں کام والی جگہوں پے چھاپے وغیرہ زیادہ پڑتے ہیں ان دنوں امیگریشن کھلنے کے کافی امکانات ہوتے ہیں‘‘۔
’’نیائش تم فکر کیوں کرتے ہو۔ جیسے ہی امیگریشن کھلے گی میں واپس آ جاؤنگا‘‘۔
میں نے نیائش کو اپنے ضروری کاغذات دیئے۔ ایک چھوٹی سی ڈائری دی جس پے ٹیلی فون نمبر لکھے ہوئے تھے ۔ وہ کہنے لگا موبائیل فون بھی دے دو لیکن میں نے باقی کاغذات کے ساتھ اسے موبائیل فون نہ دیا۔ اس گفتگو کے بعد نیائش نے مجھے گلے لگایا اور اللہ حافظ کہہ کر مغل صاحب کے پاس چلا گیا ۔ ان دونوں میں کچھ بات چیت ہوئی جو میں نہ سن سکا۔ پھر وہ جاکے گاڑی میں بیٹھ گیا۔ گاڑی سٹارٹ کی اور گاڑی سے ہاتھ ہلاتا ہوا اس برامدہ نماں جگہ ، جہاں تاروں پے لوگوں کے کپڑے سوکھنے کے لیئے چمکیلی دھوپ میں لہرا رہے تھے ااور اب دھوپ کی تمازت میں بھی کمی بھی آچکی تھی ،سے نکلا اور میری آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔
اس کے بعد میں نے جعفر اور مغل صاحب نے بھی گاڑی میں بیٹھ کے سوس کے سفر کے لیئے رواں دواں ہونا تھا۔ مجھے جعفر کہنے لگا، ’’فرشتہ صاحب آپ اگلی سیٹ پے آجائیں ‘‘۔ میں نے دروازہ کھولا اور آکر اگلی سیٹ پے بیٹھ گیا۔ پچھلی سیٹ پے مغل صاحب بیٹھ گئے۔
جیسی ہی گاڑی سٹارٹ ہوئی ہم بھی اس برامدہ نماں جگہ سے نکلے۔ میں نے تاروں پے سوکھنے کے لیئے پڑے ہوئے رنگ برنگی کپڑوں پے آخری نظر ڈالی۔ ہماری کار دوبارہ انہیں کھیتوں کے پاس سے گزری اور ایک دو الٹے سیدھے راستے سے ہوتی ہوئی پکی سڑک پے آگئی۔
جعفر مجھ سے مخاطب ہوا، ’’فرشتہ صاحب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں وہاں سوس جاکر سیاسی پناہ لے لینا۔ میرا مشورہ ہے کہ سوس کے آخری کونے پے چلے جانا ۔ میں سوس رہ کر آیا ہوں ۔ وہاں پے گورنمنٹ کی طرف سے کافی سہولتیں ہیں‘‘۔
میں نے کہا، ’’تو آپ وہاں سے اٹلی کیوں آگئے‘‘۔
’’بس کیا بتاؤں ۔ جس لڑکی سے شادی کی تھی ،اس سے جھگڑہ ہوگیا ۔ اس نے شکایت کردی تھی۔ اس دوران اٹلی کی امیگریشن کھلی تو میں یہاں آگیا‘‘۔
’’اس کے بعد کبھی جانا ہوا‘‘
’’جی ہاں اکثر جاتا رہتا ہوں‘‘۔
مجھے کہاں تک چھوڑ کر آئیں گے‘‘۔
’’آپ فکر نہ کریں آپ کو آپ کی منزلِ مقصود پے پہنچا کے آئیں گے۔ آپ ایسا کیجئے گا۔ جب ہم لوگ کومو (
Como)سے کیاسو(Chaisso) پہنچے گے ۔ آپ وہاں سے لوگانوں(Logano) کا ٹکٹ لینا۔ اس کے بعد لوگانوں (Logano)سے کرائس لنگن(Kreuzlingen) کا ٹکٹ لیجئے گا۔ ویسے تو سوس میں سیاسی پناہ لینے کے چار بڑے سینٹر ہیں لیکن کرائس لنگن (Kreuzlingen)اس لیئے بہتر ہے کیونکہ یہ جرمنی کے بارڈر کے پاس ہے۔ اگر آپ نے لوگانوں (Logano)کے سینٹر میں درخواست دی تو ان کو شک ہوجائے گا اور ایسا عین ممکن ہے کہ وہ آپ کو اٹلی واپس بھیج دیں۔ پھر آ پ کے لیئے بڑا مسئلہ ہوگا۔ اگر کبھی امیگریشن کھلی اور آپ کا اٹلی واپس آنے کو دل چاہا تو اس صورت میں آپ یہ موقع کھو دیں گے‘‘۔
’’آپ بالکل فکر نہ کریں ۔میں ایسا ہی کروں گا۔ بس مجھے اس شہر کا نام لکھ دیں ۔ جب میں ٹکٹ لوں گا تو مجھے یاد رہے گا‘‘۔
پیچھے سے مغل صاحب کی آواز آئی، ’’جعفر باقی باتیں سٹیشن پے سمجھا دینا‘‘۔
’’ٹھیک ہے مغل صاحب ‘‘۔
اس کے بعد ہمارے درمیان کوئی بات نہ ہوئی۔ گاڑی اچانک ایک بہت ہی خوبصورت راستے پے چلنے لگی۔ یہ سڑک گرمی کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی کالی دکھ رہی تھی۔ اس کے دونوں طرف چیڑ کے گھنے درخت تھے۔ جو سڑک پے بالکل ایسے جھکے ہوئے جیسے جن دنوں میں ٹورسٹ گائیڈ تھا تو سوات کے راستے میں شنگر دار سٹوپا کے پاس اس طرح کی ایک سڑک آتی تھی اور مجھے اس کا شدت سے انتظار رہتا تھا۔ یہ راستہ میرا من پسند تھا۔ سڑک کے دونوں طرف درخت ایسے جھکے ہوتے جیسے سڑک کو غور سے دیکھ رہے ہوں۔ یہ منظر زیادہ دیر نہ رہا۔ ہم اس سڑک سے نکل کے ایک کھلی جگہ آئے۔ اس روڈ پے چار راستے تھے۔ دو راستوں پے گاڑیاں جارہی تھیں اور دو راستوں سے گاڑیاں آرہی تھیں۔ تھوڑی دیر میں کوموں(
Como) ریلو ے سٹیشن کا ماتھا نظر آیا۔ جس پے جلی حروف میں کوموں(Como) لکھا ہوا تھا۔ جعفر نے پارکنگ میں جا کے گاڑی کھڑی کی، گاڑی سے نکلا اور پارکنگ مشین سے پارکنگ ٹکٹ نکال کے گاڑی کی فرنٹ سکرین پے لگا دیا۔ اس کے بعد میں اور مغل صاحب بھی گاڑی سے نکلے ۔ لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے سٹیشن میں داخل ہوئے۔ جعفر کہنے لگا، ’’میں جاکے ٹکٹ لے آتا ہوں‘‘۔
مغل صاحب نے پیچھے سے آواز دی، ’’صر ف ایک ہی ٹکٹ لانا ۔ ہم لوگ تو واپس آجائیں گے۔ ویسے بھی لوکل ٹرین پے کون چیک کرتا ہے‘‘۔
چند لمحوں میں جعفر ٹکٹ لے کر آگیا۔ کہنے لگا، ’’ہم لوگ آپ کے ساتھ جائیں گے۔ آپ سیٹ پے بیٹھ جانا اور ہم دونوں ٹرین میں چکر لگاتے رہیں۔ اگر پولیس وغیرہ کا کنٹرول ہوا تو ہم آپ کو اشارہ کردیں گے۔ آپ ہمارے ساتھ اتر جانا۔ دوسری صورت میں ہم کیاسو (
Chiasso) ہی اتریں گے‘‘۔
میں نے کہا، ’’آپ بالکل فکر نہ کریں‘‘۔
ہم لوگ ریلوے سٹیشن پے آتے جاتے مسافروں کو دیکھ رہے تھے۔ اسی اثناء جعفر نے اشارہ کیا کہ ہماری ٹرین فلاں پلیٹ فارم نمبر پے آگئی ہے۔ ہم لوگ تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے مطلوبہ پلیٹ فارم پے پہنچے ۔ ٹرین میں سوار ہوتے ہی جعفر نے ایک دفعہ پھر تاکید کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ لوکل ٹرین تھوڑی دیر میں کیاسو (
Chiasso) ریلوے سٹیشن پے ہوگی۔ٹرین ایک جھٹکے سے چلی۔ میں کھڑکی کے پاس بیٹھا باہر کے مناظر دیکھنے لگا۔ جعفر اور مغل صاحب پہلے تو کھڑے رہے پھر ٹرین کے ڈبوں میں چکر لگانے شروع کردیئے۔ آتے جاتے مجھے اشارہ کرجاتے کہ سب ٹھیک ہے۔ جیسے جیسے ٹرین کومو سے دور ہوتی جارہی تھی ویسے ویسے باہر کے مناظر بدل رہے تھے۔ شام کے ساڑھے پانچ بجے تھے۔ جون کے مہینے میں دن ویسے بھی لمبے ہوتے ہیں اس لیئے باہر کافی روشنی تھی۔ سب صاف دکھائی دے رہا تھا۔ بمشکل پندرہ یا بیس منٹ گزریں ہوں گے۔ میں نے کیاسو(Chaisso) کا بورڈ پڑھا۔ اس دوران میرے سامنے سے ایک ٹرین گزر ی جس پے کئی زبانوں میں کچھ لکھا ہوا تھا۔ مجھے کسی کی آواز سنائی دی، ’’فرشتہ صاحب تیار ہوجائیں سوس کا پہلا شہر کیاسو آگیا ہے۔ جیسے ہی ٹرین رکے گی آپ نے ہمارے پیچھے پیچھے آنا ہے۔ جس راستے سے میں نکل کے جاؤں گا ونہی سے آپ نے بھی نکلنا ہے‘‘۔
جیسے ہی ٹرین رکی میں جعفر اور مغل صاحب کے پیچھے ہولیا۔ ہم تینوں ایک سْرنگ نماں جگہ سے گزر کے باہر آگئے۔ جس سْرنگ سے نکل کے ہم آئے تھے اس کے بالکل مخالف سمت ایک اور سْرنگ تھی جو کہ دوسری طرف جارہی تھی۔ ایک راستہ اطالوی لوگوں کے لیئے تھا جو سوس سے واپس آرہے تھے یا دیگر سیاحوں کے لیئے تھا جو اٹلی آرہے تھے اور دوسرا راستہ جس سے میں گزر کر آیا تھا وہ اطالوی لوگوں اور دیگر لوگوں کے لیئے تھا جو سوس جارہے تھے۔ ہم تینوں کیاسو ریلوے سٹیشن کے باہر کھڑے تھے۔ اس کے ایک کونے میں ٹیلی فو ن کیبن بنے ہوئے تھے۔ مجھے مغل صاحب کہنے لگے، ’’فرشتہ صاحب نیائش صاحب کو بتا دیں کہ آپ سوس پہنچ چکے ہیں‘‘۔ میں جلدی سے کیبن کی طرف گیا لیکن اس ٹیلی فون بوتھ میں یورپیئن یونین کے سکے نہیں چلتے تھے مجھے جعفر نے ایک سوس سکہ دیا اور کہا، ’’یہاں یہ چلتا ہے‘‘۔ میں نے اس سے سکہ لیا یہ بھی نہ دیکھا کہ کتنے مالیت کا سکہ ہے۔ جلدی سے سکہ ٹیلی فون بوتھ کی سَلوٹ میں ڈالا اور نیائش کا موبائیل نمبر ملا دیا۔ دوسری طر ف سے آواز آئی، ’’کی اے ‘‘۔ اس نے اٹالین میں اس لیئے پوچھا تھا کہ کون ہے کیونکہ میرا نمبر نہیں آیا تھا۔ میں نے جواب دیا، ’’نیائش بھائی میں یہاں سوس پہنچ گیا ہوں۔ اس شہر کا نام کیاسو ہے ۔ یہاں سے میں آگے جاؤں گا۔ منزل پے پہنچ کے آپ کا فون کروں۔اللہ حافظ‘‘۔
نیائش نے بھی اللہ حافظ کیا اور فون بند ہوگیا۔
میں فون بوتھ سے باہر آیا تو مغل صاحب کہنے لگے، ’’وہاں خیر خیریت سے پہنچ کے اطلاع دینا اور ہاں نیائش صاحب کو پیسوں کی ادائیگی کی تاکید کردینا ‘‘۔
میں نے کہا، ’’مغل صاحب آپ فکر نہ کریں۔ آپ کی رقم امانت ہے‘‘۔
اس کے بعد جعفر اور مغل صاحب نے مجھ سے اجازت لی لیکن اچانک مغل صاحب کو کچھ یاد آیا اور مڑے، ’’یہ پچاس یورو رکھ لیں مجھے نیائش صاحب جاتے ہوئے دے گئے تھے‘‘۔ میں نے خاموشی سے پیسے جیب میں رکھے اور مسکراء دیا۔ اب مجھے پتہ چلا نیائش کیوں مغل صاحب کو ایک طرف لے گیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے خدا حافظ کہا اور چل دیئے۔ میں سوچنے لگا کتنا آسان کام ہے ۔ ٹرین میں دو تین چکر لگاؤ اور دو سو یورو کماؤ۔ جب تک میں میلانوں نہیں آیا تھا میں یہی سمجھ رہا تھا یہ لوگ مجھے گاڑی میں لے کر جائیں گے لیکن یہ بات مجھے بعد میں پتا چلی کہ مجھے ٹرین کے ذریعے جانا ہے۔ خیر میں نے اس خیال کو جھٹک دیا اور اگلے سٹیشن کے لیئے ٹکٹ خریدنے چلا گیا۔ جب میں کھڑکی پے پہنچا جسے فرنچ لوگ گیشے ،اطالوی لوگ سپورتیلو اور انگریز لوگ ونڈو کہتے ہیں۔ میں شیشے کے اِس طرف کھڑا تھا اور اندر کیبن میں بیٹھی ہوئی سوس عورت شیشے کےْ اس طرف تھی۔ ہمارے درمیان شیشہ تھا اور اس شیشے میں
ایک طرف سوراخ تھا جہاں سے آپ مطلوبہ رقم دے کر اپنی منزلِ مقصود کا ٹکٹ حاصل کرسکتے ہیں۔ اس عورت کی عمر لگ بھگ چالیس یا پینتالیس سال ہوگی۔ چہرے مہرے سے ٹھیک لگتی تھی۔ بال سنہرے ،دونوں شانوں پے لہرا رہے تھے۔ اس نے ہلکے سے رنگ کی قمیص پہنی ہوئی تھی اور گلے میں نیلی اور پیلی دھاریوں والا سکارف باندھا ہوا تھا ۔ اس سکارف کی گرہ بڑے خاص انداز میں لگائی گئی تھی۔ جون کے مہینے میں گرمی ہوتی ہے۔ ویسی تو نہیں جیسی پاکستان میں یا دیگر ایشیائی ممالک میں جون کے دنوں میں ہوتی ہے لیکن ایسا بھی موسم نہیں تھا کہ اوپر کوٹ بھی پہنتی لیکن شاید گہرے نیلے رنگ کا کوٹ اس کے یونیفارم کا حصہ تھا اس لیئے اس نے کوٹ بھی پہنا ہوا تھا۔ جبکہ اٹلی میں ریلوے کے ملازمین کا لباس آسمانی قمیض، سبز ٹائی ، سبز کوٹ اور کالی پتلون ہے۔ اس لباس کی تبدیلی بتا رہی تھی کہ میں ایک دوسرے ملک میں تھا۔ میں نے سوچا اس سے اٹالین میں بات کروں پھر خیال آیا کہ اس سے انگریزی میں بات کرتا ہوں۔ میں نے اس سے انگریزی میں کہا کہ مجھے لوگانوں جانا ہے ۔اس لیئے مجھے لوگانوں تک کا ٹکٹ دے دو۔ اس نے میری بتائی ہوئی منزل کا مجھے ٹکٹ بنا دیا۔ اور شیشے کا وہ حصہ جہاں ایک دائرہ سا بنا ہوا تھا وہاں سے ٹکٹ میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ میں نے اس کے ہاتھ پچاس میں یورو کا نوٹ تھما دیا۔ نوٹ میرے ہاتھ سے لیتے ہوئے کہنے لگی کہ میں تمہیں یورو نہیں دو ں گی بلکہ تمہیں سوس فرانک دوں گی۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ پچاس یورو کے نوٹ سے ٹکٹ کے پیسے لے کر اس نے مجھے باقی ماندہ رقم سوس فرانک کی صورت میں دی جوکہ نوٹوں اور سکوں کی صورت میں تھی۔ میں نے ٹرین کا ٹکٹ اور باقی رقم جیب میں ڈالی اور جس پلیٹ فارم پے لوگانوں جانے والی ٹرین نے آنا تھا وہاں جا کر بیٹھ گیا۔ مجھے اٹلی کی ٹرینوں میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا تھا ۔ وہاں کی لوکل اور ریجنل ٹرینوں کا برا حال ہے۔ اس کے علاوہ انٹر سٹی ور ہائی سپیڈ ٹرینیں تھوڑی بہتر ہیں اس کے برعکس سوس کی لوکل اور ریجنل ٹرینوں کا معیار کافی اچھا تھا۔ ایک دو ٹرینیں کھڑی تھیں ۔ ان پے چار مختلف زبانوں میں کچھ لکھا ہوا تھا۔ جرمن، فرنچ اور اٹالین تو مجھے کچھ کچھ سمجھ آرہی تھیں لیکن چوتھی زبان میری پلے نہ پڑی۔ میں سوس کے حوالے سے سوچنے لگا کہ یہاں کے بارے کیا مشہور ہے ۔ سب سے پہلے تو میرے ذہن میں انڈین فلمیں آئیں جو زیادہ تو ہندوستان میں بنتی ہیں لیکن گانے کے وقت ہیروئن کو نیند آجاتی ہے اور پورا گانا سوئٹزرلینڈ میں فلمایا جاتا ہے۔ شاید ہندوستان کی فلموں میں اور ہندوستان کے لوگوں کے لیئے خیالی اور تصوراتی جنت سوس جیسی ہے۔ جیسے ہی گانا ختم ہوتا ہے ہیروئن یا ہیرو واپس ہندوستان پہنچ جاتے ہیں۔ پھر مجھے خیال آیا کہ سوس گھڑیاں بھی پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ میں سوچنے لگا سوس لوگ صرف گھڑیاں کیوں بناتے ہیں اور کچھ کیوں نہیں بناتے۔ پھر سوچنے لگا سیاحت سوس کے لیئے صنعت کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ لوگ اس کو پروموٹ بھی بہت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ پوری دنیا کے بڑے ملکوں کے لیڈروں کے ناجائز کمائی کے اکاؤنٹ بھی تو یہاں ہوتے ہیں ۔ سوس بینکنگ پوری دنیا میں قابلِ اعتماد ہے۔ اسی لیئے تو عربی شیخ اپنی تیل کی کمائی سوس بینکوں میں رکھنا پسند کرتے ہیں اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ یہ لوگ سود بھی نہیں لیتے ۔پھر مجھے فرنچ فلاسفر وولٹیغ (وولٹیر) کا خیال آنے لگا۔ اس کا باپ گھڑیاں بنا تا تھا۔ وولٹیر کے بارے میں ہمیں فرنچ کلچرل سنٹر میں کافی کچھ بتایا گیا تھا جن دنوں میں فرنچ سیکھنے جایا کرتا تھا۔ فرنچ کلچرل سنٹر سے یاد آیا ۔ میں نے وہاں چند دن ماڈرن جیز ڈانس کی کلاسیں بھی لی تھیں۔ ہمارا استاد جو کہ نوجوان تھا۔ اس نے جب تعلیم مکمل کی تو اس کو فرانس کی حکومت نے دو سال آرمی میں گزارنے کو کہا ۔اگر وہ فوج میں دو سال نہیں گزارتا تو دوسری صورت میں اسے کسی دوسرے ملک میں دو سال گزارنے ہوں گے ۔ اس نے آرمی میں دو سال گزارنے کے بجائے دوسری ملک میں جا کے فرنچ زبان سکھانے کو ترجیح دی۔ وہ پاکستان آیا اور قانون کی رْو سے اسے دوسال فرنچ کلچرل سنٹر میں غیرملکیوں کو فرنچ پڑھانی تھی۔ وہ ہفتے میں پانچ دن فرنچ سکھایا کرتا اس کے علاوہ وہ ماڈرن جیز ڈانس کا بھی استاد تھا۔ ایک طرف تو وہ اپنی پریکٹس کیا کرتا اس کے ساتھ اس نے لوگوں کو ماڈرن جیز ڈانس بھی سکھانا شروع کردیا۔ فرنچ کلاس کے بعد ہفتے میں دو دن وہ ڈانس بھی سکھایا کرتا ۔ فیس اس نے بہت کم رکھی تانکہ زیادہ سے زیادہ سٹوڈنٹ آئیں لیکن ایساکچھ نہیں ہوا۔ ۔ فرنچ کلچرل سنٹر میں ایک دو پاکستانی لڑکیوں نے اس کی کلاس میں حصہ لیا۔ اس کے بعد ایک افغانی لڑکی بھی آگئی۔ پھر میں نے بھی حصہ لینا شروع کردیا۔ مجھے وہ جو بھی سکھاتا میں گھر آکر اس کی پریکٹس بھی کیا کرتا ۔ شاید یہی وجہ تھی کہ میں باقی شاگردوں سے کافی بہتر تھا۔ ہمیں ایک مہینہ گزرا ہوگا کہ ہمارے ڈانس کی کلاس میں ایک سوس لڑکی بھی شامل ہوگئی۔ ہم لوگوں کوہمارے ٹیچر نے سختی سے منع کیا تھا کہ ڈانس کے لیئے جینز نہ پہن کر آیا کرولیکن ہم نے اس کی بات کبھی نہ سنی۔ اس کے برعکس وہ سوس لڑکی باقاعدہ طور پے ڈانس کا لباس پہن کر آیا کرتی ۔ جب وہ پہلے دن ہماری کلاس میں آئی ہم سب حیران رہ گئے۔ ہم سبھی کافی آزاد خیال تھے لیکن اس حد تک نہیں تھے۔ مجھے اس کا پہلادن بالکل اس طرح یاد ہے جیسے کل کی بات ہو۔
وہ سوس ایمبیسی میں کام کرتی تھی۔ کیا کام کرتی تھی اس بات کا مجھے کوئی علم نہیں نہ ہی میں نے کبھی پوچھا۔ اس کا مسئلہ بھی ہمارے فرنچ زبان کے استاد جیسا تھا جو کہ ہمارا ڈانس ٹیچر بھی تھا۔ اس کا نام سوزی تھا۔ مکمل نام بہت مشکل تھا اس لیئے سب اسے سوزی ہی کہہ کر پکارتے۔ سوزی ہنس مکھ اور گپ شپ لگانے والی لڑکی تھی۔ اسے پاکستان کے شمالی علاقاجات بہت پسند تھے اس کے علاوہ وہ پاکستانی لوگوں کی مہمان نوازی سے بڑی متاثر تھی۔ سوزی قد میں ہم سب سے لمبی تھی۔ اس کے علاوہ اس جسم بہت بھرا بھرا اور متناسب تھا ۔ جب وہ پہلے دن ماڈرن جیز ڈانس کی کلاس میں آئی تو اتفاق سے وہ میرے ساتھ آکے کھڑی ہوگئی ۔ میں جیز اور ٹی شرٹس میں ملبوس تھا جوتے اور جرابیں میں اتاردیا کرتا کیونکہ جہاں ہمیں ہمارا ٹیچر ڈانس سکھایا کرتا اس کا فرش لکڑی کے تختوں کا بنا ہوا تھا اس لیئے پاؤں کو کوئی تکلیف نہ ہوتی۔ وہ میری ساتھ کھڑی تھی۔ ابھی ڈانس ٹیچر نے کلاس شروع نہیں کی تھی۔ میں نے سر سے پاؤں تک اس کا جائز ہ لیا۔ پاؤں سے لے کر کولہوں تک دو لمبی لمبی اور گوری گوری چیزیں۔ اس کی ٹانگوں کی مچھلیاں اور رانیں دیکھ کے میں حیران رہ گیا۔ ایسا لگتا تھا کسی نے سفید سنگِ مر مر سے تراشی ہیں۔ باقی جسم بھی متناسب تھا لیکن اس نے جو ڈانس کا لباس پہنا ہوا تھا اس کی وجہ سے اس کی چھاتیاں ایسی پچکی ہوئی تھیں جیسے کسی نے ربڑ کے گیند چھپائے ہوئے ہوں۔ اس کے دیکھ کے مجھے انگریزی فلم فلیش ڈانس کی ہیروئن جینیفر بیلز یاد آگئی۔ وہ بھی فائنل ڈانس کے لیئے اس طرح کا لباس پہن کر آتی ہے۔ اتفاق سے ہمارا ٹیچر بھی ہمیں فلیش ڈانس کے گانے پے ہی پریکٹس کروا رہا تھا۔ سوزی شکل صورت کی ٹھیک تھی گول شیشوں عینک لگاتی تھی۔جب اس نے ڈانس کے لیئے عینک اتاری تو اس کی ناک کی ہڈی کے مسلسل عینک پہننے کے نشان بہت عجیب لگ رہے تھے۔ اس کے علاوہ اس کی آنکھیں بھی ایسی لگ رہی تھیں جیسے اندر کو دھنسی ہوئی ہوں۔ جیسے ہی ہمارے ڈانس ٹیچر نے ٹیپ ریکارڈر پے گانا شروع کیا ۔ پہلے میوزک کا ایک پیس بجا ہم سب نے ہلنا شروع کردیا ہے۔ اس طرح ہمارا جسم گرم ہوجاتا تھا۔ پھر گانا شروع ہوا ،وہی فلیش ڈانس کا ، "
what a feeling" سب نے داہنی ٹانگ ہوا میں لہرا دی۔ سوزی نے بھی اپنی خوبصورت ٹانگ ہوا میں لہرا دی۔ میری نظر اس پے تھی۔ جتنی دیر تک ڈانس کی کلاس چلتی رہی میں سوزی کے جسم کے نظارے کرتا رہا۔ کبھی ٹانگوں پے نظر پڑتی کبھی اس کے گول گول بازوؤں پے نظر پڑتی ۔ کبھی اس کی پچکی ہوئی چھاتیوں پر۔ ڈانس کی کلاس ختم ہوئی تو ساری سٹوڈنٹ میرے پاس آگئے اور لگے پوچھنے ، ’’بھئی اس میں ایسی کیا بات تھی جو تم ڈانس کے دوران اس کو دیکھ رہے تھے‘‘۔ میں نے جواب دیا، ’’اس کا مطلب ہے تم بھی اس کی طرف دیکھ رہے تھے‘‘۔ ایک لڑکی جو خود کو بڑی تیز طرار سمجھتی تھی اس نے کہا، ’’ہم اسے نہیں تمہیں دیکھ رہے تھے ‘‘۔ ابھی ہم یہی باتیں کررہے تھے کہ سوزی نے مجھے فرنچ زبان میں آواز دی۔ میں اس کے پاس چلا گیا۔ مجھے کہنے لگی تم ڈانس اچھا کرتے ہو۔ کہا ں سے سیکھا ہے۔ میں نے کہا یہیں سے سیکھا ۔ تو کہنے لگی میرا نہیں خیال کہ ایک مہینے میں کوئی اتنا اچھا ڈانس کرسکتا ہے۔ میں نے کہا، مجھے شوق بھی ہے اور اس کے علاوہ میں گھر جاکر پریکٹس بھی کرتاہوں۔ اس طرح سوزی سے میرے دوستی ہوگئی۔ اب ہفتے میں جب بھی وہ دو دفعہ ڈانس کی کلاس میں آتی ڈانس کے بعد ہم لوگ اکھٹے بیٹھتے ۔ کبھی وہ کچھ نا کچھ پلا دیا کرتا اور کبھی میں۔ لیکن اس دوران ہمارے فرنچ کے ٹیچر کے دو سال پورے ہوچکے تھے۔ اس طرح اس کی جگہ ہمیں ایک پاکستانی فرنچ پڑھانے لگا جو فرانس کی یونیورسٹی سے پڑھ کر آیا تھا۔ صبح وہ انٹرنیشنل سکول میں پڑھایا کرتا اور شام کو ہماری کلاس لیا کرتا۔ لیکن ہماری ڈانس کی کلاس ختم ہوگئی۔ اس طرح سوزی نے فرنچ کلچرل سنٹر آنا بند کردیا۔ ساری کلاس مجھے چھیڑا کرتی ۔ فرشتہ تمہارا پہلا پیار ادھورا رہ گیا۔ ہمارا ڈپلومہ مکمل ہوا تو ہماری فرنچ کی کلاس بھی بکھر گئی۔ سوزی کی کہانی ونہی ختم ہوگئی۔ اس کے بعد میں نے انگریزی اور فرنچ سپیکنگ گائیڈ کی نوکری کرلی۔
اس بات کو پورا سال گزر چکا تھا۔ ایک دن میں گروپ کے ساتھ چلاس کے ہوٹل شنگریلا میں اپنے کمرے کے سامنے چھوٹے سے باغیچے میں بیٹھا برٹرینڈ رسل کی کوئی کتاب پڑھ رہا تھا۔ میرے کندھے پے کسی نے ہاتھ رکھا۔ میں نے مْڑ کے دیکھا تو حیران رہ گیا۔ میرے پیچھے سوزی کھڑی تھی۔
میں نے فرنچ میں کہا، ’’تم یہاں کیا کررہی ہو‘‘
اس نے جواب دیا، ’’میں نے نوکری کے دوسال پورے کرلیئے ہیں۔ اب میں واپس جارہی ہوں۔ میں نے سوچا جانے سے پہلے پاکستان کے شمالی علاقہ جات دیکھتی جاؤں‘‘۔
پھر اس نے مجھ سے پوچھا، ’’تم یہاں کیا کررہے ہو‘‘۔
میں نے جواب دیا، ’’میں نے ڈپلومہ مکمل کرنے کے بعد ٹورسٹ گائیڈ کی نوکری اختیار کرلی ہے۔ اب غیرملکی سیاحوں کو پاکستان کے خوبصورت علاقوں کی سیر کرواتا ہوں‘‘۔
میرا جواب سننے کے بعد کہنے لگی، ’’تمہارا گروپ کس ملک کا ہے‘‘۔
میں نے بے دلی سے جواب دیا، ’’فرنچ گروپ ہے۔ نوول فرنٹیئر(
Nouvelle Frontiere)، بہت ہی کنجوس ہیں۔ نہ کچھ خریدتے ہیں نہ ہی یہ لوگ اچھی ٹپ دیتے ہیں۔ کیا کریں کام تو کرنا ہے‘‘۔
’’کہاں کہاں لے کر جاؤ گے‘‘۔
میں نے کہا، ’’ یہاں سے گلگت جانا ہے، گلگت سے ہنزہ، وادیءِ نگر،گْلمت، سْست اس کے بعد واپسی پے بیشام آناہے۔ بیشام سے سوات، سوات سے چترال ، چترال سے پشاور کی فلائٹ ہے۔ ان لوگوں کی پشاور سے فرانس واپسی کی فلائٹ ہے‘‘۔
وہ کہنے لگی، ’’کافی لمبا ٹور ہے‘‘۔
میں نے کہا، ’’ہے تو‘‘۔
پھر اس نے مجھ سے کہا، ’’تمہارا کمرہ کون سا ہے‘‘۔
میں نے اسے اپنی چابی دکھائی۔ تو بڑی خوش ہوئی اور کہنے لگی، ’’دیکھا ہمیں قسمت نے پھر ملایا اور ملایا بھی کہاں، یہاں چلاس میں اور ہمارا کمرہ بھی ساتھ ساتھ ہے۔‘‘۔
میں نے کہا، ’’یہ محض اتفاق تو نہیں ۔میرا خیال ہے تم میرا پیچھا کررہی تھیں‘‘۔
وہ زور زور سے ہنسنے لگی۔
میں نے اسے کہا، ’’ جب دھوپ کی تمازت کم ہوگی تو میں اپنے گروپ کو راک کارونگ (
rock carving) دکھلانے لے جاؤں گا۔ اگرتم مصروف نہیں ہو تو تم بھی چلو۔ دیکھنا میں کیسے ان فرنچ لوگوں کو بیوقوف بناتا ہوں‘‘۔
کہنے لگی، ’’مجھے پتا ہے گائیڈ کیا کرتے ہیں۔ خیر میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گی لیکن تمہارے گروپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا‘‘۔
میں نے کہا ، ’’یہ تم مجھ پے چھوڑ دو اور ہاں ٹھیک پانچ بجے تیار رہنا۔میں نے اپنے گروپ کو پانچ بجے کا وقت دیاہے‘‘۔
تو کہنے لگی’’ اس بات کی تم فکر نہ کرو‘‘۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ساڑھے چار بجے اپنے گروپ کے انتظار میں کوسٹر کے پاس آکے کھڑا ہوگیا۔ میں نے ڈرائیور کو بھی سمجھا دیا کہ کیا کرنا ہے ۔ وہ کہنے لگا باؤ جی فکر ہی نہ کریں۔ پانچ بجنے میں ابھی پندرہ منٹ باقی تھے۔ دور سے سوزی آتی دکھائی دی۔ آتے ہی کہنے لگی، ’’مجھے دیر تو نہیں ہوگئی‘‘۔ میں نے کہا ،’’نہیں تم وقت سے پہلے آگئی ہو‘‘۔ ٹھیک پانچ بجے میں ،سوزی اور باقی گروپ راک کارونگ (
rock carving)دیکھنے کے لیئے نکلے۔ وہاں پہنچ کے مجھے ان راک کارونگ کے بارے میں جو بھی پتا تھا سب بتایا۔ چند ایک نے سوال کیئے ، کتابوں سے تصویریں نکال نکال کے مجھے دکھانے لگے کہ یہ چیز کہا ں ہے، وہ چیز کہاں ہے۔ گروپ کے زیادہ لوگ بوڑھے تھے اس لیئے کئی ایک کو چلنے میں بھی مدد کروائی۔ جب ان کاموں سے فارغ ہوگیا تو سوزی کے پاس آکے کھڑا ہوگیا۔ وہ کہنے لگی ، ’’فرشتہ تمہیں تو کافی
کچھ پتا ہے۔ میرا خیال تھا تم اِدھر اْدھر کی باتیں کرو گے اور ان سے جان چھڑا لو گے‘‘۔ میں نے کہا، ’’میں مذاق کررہا تھا۔ مجھے خود بھی تاریخ اور آثارِ قدیمہ سے کہرا لگاؤ ہے۔ اسی لیئے میں نے یہ کام شروع کیا ہے‘‘۔
جب تمام ٹورسٹ جی بھر کے تصاویر بنا چکے تو ہم لوگ چلاس کے شنگریلا ہوٹل واپس آگئے۔ ہم لوگوں نے رات یہاں گزار کے صبح سویرے گلگت کے لیئے نکلنا تھا۔ ہم سب لوگوں نے ہوٹل کے بڑے ہال میں رات کا کھانا کھایا۔ میں نے سب کو صبح سات بجے ناشتے کا وقت دیا اور ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ ہم لوگ ٹھیک آٹھ بجے یہاں سے نکل چلیں گے۔ سب نے میری ہاں میں ہاں ملائی۔ میں ان کاموں سے فارغ ہوکر اپنے کمرے میں آگیا۔ میرے دروازے پے دستک ہوئی۔ میں نے دروازہ کھولا تو سامنے سوزی کھڑی تھی۔ کہنے لگی ، ’’تمہیں نیند تو نہیں آرہی ‘‘۔ میں نے کہا، ’’نہیں‘‘۔
’’چلوں گپ شپ لگاتے ہیں‘‘۔
میں کہا، ’’آؤ باغیچے میں بیٹھتے ہیں‘‘۔ تو کہنے لگی، ’’دل تو چاہتا ہے لیکن وہاں بہت بڑے بڑے مچھر ہیں‘‘۔
میں نے کہا، ’’یہ بات تو درست ہے لیکن کوئی بات نہیں مچھروں کو بھی تو تھوڑا سوس خون پینے دو‘‘۔
جواب میں کہنے لگی، ’’ہمارا خون پینا اتنا آسان نہیں‘‘۔
میں نے کہا ،’’اگر تمہیں برا نہ لگے تو میرے کمرے میں آجاؤ‘‘۔
اس طرح سوزی میرے ساتھ میرے کمرے میں آگئی۔ میرے دماغ میں کسی قسم کا کوئی خیال نہیں تھا ۔ میں یہی سوچ رہا تھا تھوڑی گپ شپ لگائیں اور پھروہ چلی جائے گی۔
سوزی نے ڈھیلی ڈھالی ٹی شرت پہنی ہوئی تھی اور نیچے کسی ہلکے سے کپڑے کا پاجامہ پہنا ہوا تھا۔ پاؤ میں ہوائی چپل تھی۔
کمرے میں آتے ہی کہنے لگی، ’’فرشتہ تمہارے کمرے میں ٹیپ ریکارڈر ہے‘‘۔
میں نے کہا، ’’ٹیپ ریکارڈر تو نہیں ہے۔ کیا کرنا ہے اس کا؟‘‘
کہنے لگی ’’اگر مل جائے تو بہت مزہ آئے گا‘‘۔
میں نے کہا، ’’تم میرا یہیں انتظار کرو ۔میں ابھی آتا ہوں‘‘۔ میں کمرے سے باہر نکلا اور ہوٹل کی انتظامیہ سے ٹیپ ریکارڈر مانگ کر لے آیا۔
میرے ہاتھ میں ٹیپ ریکارڈر دیکھ سوزی فرنچ زبان میں کہا، ’’او لالا‘‘۔
اس نے جلدی سے ٹیپ ریکارڈر میں کوئی کیسٹ لگائی۔ جیسے ہی میوزک چلا میں حیران رہ گیا ۔ فلیش ڈانس کا وہی گانا ،
what a feeling بجنے لگا جس پے فرنچ کلچرل سنٹر میں ہمارا ڈانس ٹیچر ہمیں ڈانس کی پریکٹس کروایا کرتا تھا۔ سوزی نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم دونوں اس گانے پے ڈانس کرنے لگے۔ میں تھوڑی دیر ڈانس کرکے تھک گیا لیکن سوزی نے پورے گانے پے ڈانس کیا۔ مجھے کہنے لگی ، اب تم اس طرح ڈانس نہیں کرتے۔ میں نے کہا ، ہمارا ڈانس کا ٹیچر واپس فرانس چلا گیا تھا اس کے بعد ڈپلومہ بھی ختم ہوگیا۔ پھر کام شروع کردیا۔ اب نہ پریکٹس ہے نہ ہی سٹیمنا۔ سوزی کہنے لگی ،تمہارے کمرے کا ایئر کنڈنشنر تو ٹھیک چل رہا ہے۔ میں نے کہا، بالکل ٹھیک ہے چل رہا ۔تم نے ڈانس کیا اس لیئے تمہارے خون کی گردش تیز ہوگئی اس لیئے تمہیں زیادہ گرمی لگ رہی ہے۔ ابھی میں نے اتنا ہی کہا تو اس نے ٹی شرٹ اتار دی اور ہلکا سا پاجامہ بھی۔ میں بیوقوفوں کی طرح اس کی طرف دیکھنے لگا۔ پھر وہ میرے پاس آکر بیٹھ گئی۔ اس کے بعد کیا ہوا ۔میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا ۔اتنا ضرور کہوں گا میری نتھ سوزی نے اتاری۔ اس رات میں نے نہ صرف سوزی کی خوبصورت ٹانگیں دیکھیں بلکہ اس کے پورے خوبصورت جسم کا نظارہ کیا۔ یہ میری زندگی کا پہلا واقع تھا ۔ میں لڑکیوں سے گھنٹوں باتیں کرتا تھا لیکن اس کام کے لیئے مائل کرنے کی کبھی بھی ہمت نہ ہوئی۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں اس معاملے میں کافی جھینپوں تھا۔ خیر چلاس کی یہ رات بہت شاندار تھی۔ جو فلیش ڈانس سے شروع ہوئی اور جسمانی ملاپ پے ختم ہوئی۔ اس کے بعد میں اپنے گروپ کے ساتھ جہاں جہاں بھی گیا سوزی میری ساتھ گئی۔ ہمارے کمرے تو علیحدہ علیحدہ ہوتے لیکن کبھی وہ میرے کمرے میں رات گزارتی اور کبھی میں اس کے کمرے میں رات گزارتا۔ جب میں نے گروپ کو پشاور سے رخصت کیا تو مجھے واپس آنا تھا۔
سوزی کہنے لگی، اگر تمہیں برا نہ لگے تو ہم واپسی پے ٹیکسلا دیکھتے چلیں۔ کیونکہ تمہیں بدھ مت کے بارے میں کافی معلومات ہیں ‘‘۔
میں نے کہا، ’’کچھ زیادہ تو نہیں جانتا لیکن جو بھی مجھے پتا ہے تمہیں ضرور بتاؤں گا‘‘۔
ہم لوگ پشاور سے واپسی پر ٹیکسلا شہر رکے۔ وہاں ہم نے ٹیکسلا میوزیم دیکھا، پھر سرکپ اور جولیاں یونیورسٹی دیکھی۔جولیاں کے کھنڈراٹ کے پاس برٹش آرکیالوجسٹ سر جان مارشل کا گھر نماں کمرہ بھی ہے۔ میں نے ہر ٹورسٹ کی طرح سوزی کو بھی بتایا کہ
۱۹۲۵ سے پہلے یہ جگہ جہاں تم جولیاں یونیورسٹی دیکھ رہی ہو۔ یہ ایک پہاڑ کے صورت میں تھا۔ دو ہزار سال تک کسی کو نہیں پتا تھا کہ اس پہاڑ کے نیچے کسی یونیورسٹی کے کھنڈرت ہیں۔ سر جان مارشل نے بدھ مت کے مونک فاہیان اور ہیوان سانگ کے سفرنامہ سے یہ بات دریافت کی کہ ٹیکسلا میں کوئی یونیورسٹی ہے۔ جس کا نام جولیاں ہے۔پھر سر جان مارشل نے کافی عرصہ تبت میں گزارا اور وہاں سے اسی کچھ نقشے ملے۔ سوزی یہ ساری تفصیل جان کر بڑی حیران ہوئی۔ جب میں نے اسے مزید بتایا کہ بدمت کے پیروکار اپنی خانقاہوں کو پتھر کا بناتے لیکن ان کی چھتوں میں لکڑ ی کا استعمال کیا کرتے۔ جب سفید ہنوں نے ٹیکسلا پر حملہ کیا تو انہوں نے ان کی تما م خانقاہیں جلا دیں۔ لکڑ ی کی بنی ہوئی ساری چیزیں جل گئیں اور پیچھے پتھر کے کھنڈرات بچے۔
پھر میں سوزی کو سر کپ کی سیر کروانے لے گیا۔ وہاں ہم سیر کرتے کرتے ایک پہاڑی پے چلے گئے۔ اس پہاڑ پے کنالہ سٹوپہ ہے۔ یہ سٹوپا مہاراجہ اشوکا نے اپنے بیٹے کنالہ کی یاد میں بنایا تھا۔
قصہ کچھ اس طرح ہے کہ اشوک کی ایک بیوی بہت جوان اور خوبصورت تھی۔ اشوک تو حکومت کے امور میں مصروف رہتا۔ اس لیئے اشوک کی بیوی اپنے سوتیلے بیٹے کے عشق میں گرفتا ر ہوگئی۔ جب اشوک کو پتا چلا تو اس نے موردِ الزام اپنے بیٹے کو ٹھہرایا ۔ اس طرح اس نے اپنے بیٹے کو اس جرم کی سزا کچھ اس طرح دی کہ اس کی آنکھیں نکلوادی۔ اس کی بیوی نے اسے بعد میں بتایا کہ سارا قصور میراہے۔ اشوک اپنے کیئے پے بہت شرمندہ تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کی یاد میں کنالا سٹوپہ بنایا۔ میری یہ کہانی جب سوزی سن چکی تو کہنی لگی، ’’بالکل اسی طرح کی کہانی یونانی ڈارمہ نگار ارسٹوفین نے بھی لکھی ہے ۔وہ اس کہانی سے دو سو سال پرانی ہے۔ ہوسکتا ہے کسی نے اس کہانی سے متاثر ہو کر یہ کہانی خود سے گھڑی ہو‘‘۔ میں نے کہا، ’’ایسا ہوسکتا ہے، کیونکہ میں نے ایک قصہ سن رکھا ہے جو کہ حضرت موسٰی علیہ اسلام سے منصوب کیا جا تا ہے کہ ان کے دور میں کسی عورت سے اس طرح کا جرم سرزد ہوا تھا‘‘۔
تو وہ کہنے لگی، ’’جب سے دنیا بنی ہے ۔ وہی پرانے قصے دہرائے جارہے ہیں۔ داستان گو بدل گئے۔ لوگ بدل گئے ہیں۔ زمانہ بدل گیا لیکن قصے وہی ہیں‘‘۔
سرکپ کی سیر کرنے کے بعد ہم لوگ اسلام آباد واپس آگئے۔ وہ اپنے گھر چلی گئی اور میں دوسرے دن اپنی ٹورسٹ کمپنی میں حساب کتاب دینے چلا گیا۔ وقت اسی طرح گزرتا رہا اور ایک دو ماہ بعد مجھے سوزی کا خط ملا جس میں ہمارے ٹور کی تصویریں تھیں اور ایک عدد پوسٹ کارڈ تھا ۔جس پے اس کا سوئٹزرلینڈ کا پتا تھا۔ چند سطروں میں اتنا لکھا ہوا تھا کہ تم جب بھی سوئٹزرلینڈ آئے تم میرے ہاں ٹھہرنا اور ہم جی بھر کے سوئٹزرلینڈ کی سیر کریں گے۔ ایک دو تصویریں کسی کو دکھانے لائق نہیں تھیں۔ خود مجھے بھی شرم آگئی۔
میرے دادا کو میری اس تبدیلی کا پتا چل چکا تھا ۔ وہ مجھے ہمیشہ کہتے تھے ،عشق اور مشک کبھی نہیں چھپتے۔ جبکہ میرا ایک کولیگ کہا کرتا تھا کھنگ تے خشکی بھی نہیں چھپتے۔ اس بات سے میں اور سوزی واقف تھے کہ ہمارے درمیان پیار کا رشتہ نہیں تھا گو کہ ہم دونوں نے پورے ٹور کے دوران چلاس سے پشاور تک ساری راتیں ایک ساتھ گزاری تھیں۔ سوزی کہتی تھی کہ سوس لڑکی کو سب کچھ کہنا لیکن گھر بسانے کی بات نہیں کرنا ورنہ وہ فوراًبھاگ جائے گی۔ میں نے اس کی اس بات پے عمل کرتے ہوئے کبھی بھی کچھ نہ کہا۔ نہ ہی میں اس سے پیار کرتا تھا۔
میں کیاسو ریلوے سٹیشن پے بیٹھا لوگانو ں کی ٹرین کا انتظار کررہا تھا اور مجھے آج بھی اس کے ساتھ بتائی راتوں کی مہک آتی تھی اور آتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔















Sunday, June 5, 2011

PASSE AYENA (NEW NOVEL) BY SARFRAZ BAIG




(
۱)
یہ ستمبر
۲۰۰۲ ؁ کی ایک چمکیلی صبح تھی۔ جیسے ہی میری آنکھ کھلی تو میں نے اپنے بسترکے ساتھ ملحق میز پے رکھی ہوئی گھڑی پے نظر ڈالی۔ ساڑھے گیارہ بج چکے تھے۔ میں پانچ دن کام کرتا ہوں اور روز صبح سویرے کام پے چلا جاتا ہوں۔ ہفتے اور اتوار کو میری چھٹی ہوتی ہے۔ اس لیئے جمعے کی رات ، رات دیر تک دوستوں سے گپ شپ رہتی ہے ۔ کبھی ٹی وی پے کوئی پروگرام دیکھ لیتا ہوں ، کبھی کبھی تاش کی بازی بھی چل جاتی لیکن میں تاش کھیلنا زیادہ پسند نہیں کرتا۔ اس لیئے میں یا تو ٹی وی دیکھ لیتا ہوں یا کوئی کتاب پڑھ لیتا ہوں۔ اس کے بعد جی بھر کے سوتا ہوں۔ جب میری آنکھ کھلی تو میں نے باورچی خانے کا رخ کیا۔ سب سے پہلے سنک میں پڑے ہوئے رات کے گندے برتن دھوئے اور اس کے ساتھ ساتھ چولہے پے چائے بھی رکھ دی۔ اس دوران میرے دوست فرشتہ کی بھی آنکھ کھل گئی۔ اس نے الماری سے دو کوآساں (croissant) نکالے ان کو چھری کی مدد سے درمیان سے کاٹا اور ان کے اندر مکھن لگایا ا س کے بعد اس نے ان کو مائیکرو ویو میں رکھ دیا۔ چائے جب تیار ہوچکی تو میں نے اس کو پیالیوں میں ڈالا ااور اس نے پلیٹ میں دونوں کوآساں (croissant) رکھے۔ ہم دونوں نے ابھی ناشتہ شروع ہی کیا تھا کہ ہمارے گھر کی گھنٹی بجی۔ میں آدھا کوآساں کھا چکا تھا۔ میں نے باقی ماندہ کوآساں پلیٹ میں رکھا اور انٹر کام پے آنے والے سے پوچھنے لگا کہ کون ہے۔ دوسری طرف سے جواب آیا کہ پری پیکر ہے۔ میں نے جھٹ سے دروازہ کھول دیا۔ چند لمحوں میں پری پیکر ہمارے سامنے موجود تھا۔ میں نے حسبِ عادت اس سے چائے کا پوچھالیکن وہ کہنے لگا کہ میں بار سے کوفی پی کر آیا ہوں۔ فرشتہ تو اپنی چائے اور کوآساں لے کر ایک طرف ہوگیا لیکن میں اور پری پیکر ہمیشہ کی طرح گپ شپ میں مصروف ہوگئے۔ میرا دوست پری پیکر ، فرشتہ کو بالکل پسند نہیں کرتا کیونکہ فرشتہ بہت زیادہ منہ پھٹ ہے اور عجیب و غریب گفتگو کرتا ہے۔
پری پیکر کا اصل نام ثقلین ہے لیکن میں اس کو پری پیکر کہتا ہے کیونکہ پاکستان ٹیلی ویژن پے کافی پہلے ایک ڈرامہ چلا تھا ۔اس میں ایک کردار کا نام ثقلین پری پیکر ہوتا ہے۔ اب جب بھی کسی کا نام ثقلین ہو ،پری پیکر برجستہ و فلبدیہہ منہ سے نکل جاتا ہے۔ اب اریزو میں سارے اسے پری پیکر کے نام سے ہی جانتے ہیں اس کے اصل نام ثقلین سے اسے کوئی نہیں بلاتا۔ ثقلین پاکستان میں خبریں اخبار میں کام کرتا تھا۔ اس کے پاس ادب و ثقافت اور دیگر اصنافِ فنونِ لطائف کی بیٹ تھی۔ جو لوگ اخبار سے منسلک ہیں وہ اس بات سے واقف ہوں گے کہ بیٹ کیا ہوتی ہے۔ یہ کسی پرندے کی بیٹ نہیں۔ ثقلین پری پیکر نے صحافت میں ایم اے کیا اور کئی اخباروں کے لیئے مفت کام کرتے کرتے اسے ایک اخبار میں کام مل گیا جو اسے فی خبر سو روپے دیتے تھے۔ جب اس کو تھوڑا بہت تجربہ ہوگیا تو اسے خبریں اخبار میں نوکری مل گئی۔ انہوں نے اس کی پانچ ہزار تنخواہ مقرر کی۔ شروع میں تو ثقلین بسوں اور ویگنوں پے خوار ہوتا ہوا جائے وقوع پے پہنچا کرتا لیکن پھر اس نے ایک پرانا سا موٹر سائیکل خرید لیا۔ موٹر سائیکل کا اسے یہ فائدہ ہوا کہ اخبار والوں نے اسے پٹرول کے پیسے بھی دینے شروع کردیئے ۔ اس کے علاوہ وہ اس کے موبائیل فون کا بل بھی ادا کردیا کرتے اگر وہ ایک ہزار روپے تک ہوتا۔ آہستہ آہستہ اسے اخبار میں بطور صحافی کام کرنے کا طریقہ آگیا۔ جو مشکلات اسے شروع میں پیش آئیں ان سے اب وہ آزاد ہوچکا تھا ۔ اخبار میں کام کرتے کرتے ایک عجیب و غریب واقع پیش آیا۔ اڈیٹر نے اپنی جان بچانے کے لیئے ثقلین کا نام دیا حالانکہ کہ اس خبر کا ثقلین سے دور دور سے کوئی واسطہ ہی نہیں تھا۔ مرتا کیانہ کرتا۔ اخبار کی نوکری چھوڑکے ایک نیوز اجینسی میں کام کرنے لگا۔ثقلین کو نیوز اجینسی میں کام کرتے ابھی تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ اسے جرمنی میں کانفرنس کا دعوت نامہ ملا ۔ ویزہ ملنے میں اسے کوئی دقت پیش نہ آئی اور ٹکٹ اس نے اپنی جیب سے خریدا ۔ اس طرح ثقلین جرمنی آگیا اور جرمنی سے اٹلی۔ اس نے نیوز اجینسی کو فون کردیا کہ اب وہ واپس نہیں آئے گا۔ یہ پہلا شخص نہیں تھا۔ اخبار میں کام کرنے والے اکثر باہر جانے کے لیئے یہ راسطہ اختیار کرتے ہیں۔
ثقلین کی عمر قریباً تیس سال ہے ۔ قدپانچ فٹ سات انچ ، رنگ گورا ، سر پے گھنے کالے بال ، چہرے پے گھنی داڑھی اور آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی۔ وہ پری پیکر بالکل نہیں لگتا لیکن اریزو میں سبھی لوگ اسے اسی نام سے بلاتے ہیں۔ وہ ہر موضوع پے بیلاگ تبصرہ کرتا ہے ۔ شاعری ، نثر، ڈرامہ، فلم قریباًوہ ادب کی تمام اصناف سے گہرا لگاؤ رکھتا ہے۔ چند سال مختلف اخباروں کے ساتھ گزارنے کے بعد اور صحافت کی گرم سرد ہوائے کھانے کے بعد اسے حالاتِ حاضرہ پر بھی کافی ملکہ حاصل ہوگیا تھا۔
ثقلین نے اپنا پہلا قدم اٹلی کے شہر میلانوں میں رکھا۔ جیسے ہی پرمیسو دی سجورنوملی میلانوں چھوڑ کر میرے پاس اریزو آگیا۔ پہلے پہل تو اسے یہاں کا ماحول پسند نہ آیا لیکن وقت کے ساتھ اس نے حالات کے ساتھ سمجھوتا کرلیا۔ آج کل ثقلین پری پیکر لوہے کی ایک فیکٹری میں کام کرتا ہے۔ پانچ دن کام کرتاہے اور دو دن فارغ۔ لوگ کہتے ہیں جسے ایک دفعہ صحافت کا چسکہ پڑ جائے وہ زندگی میں کوئی اور کام نہیں کرسکتا یا یوں کہنا چا ہیئے کہ وہ کسی کام کا نہیں رہتا لیکن ثقلین نے اس بات کو غلط ثابت کر دکھایا۔ وہ پانچ دن لوہے کی فیکٹری میں کام کرتا ہے اور باقی کے دو دن دیگر سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے۔ وہ روم سے جاری ہونے والے اردو اخبار ’’آزاد ‘‘ کے لیئے پابندی سے کالم لکھتا ہے ۔ اس کے علاوہ کبھی کبھی ’’اردو نیوز ‘‘ کے لیئے بھی کالم لکھتا ہے۔ وہ چند ایک آن لائن اخباروں کے لیئے بھی لکھتا ہے ۔ اس طرح وہ اپنا شوق بھی پورا کرلیتا ہے اور اس کی علم و ادب کی پیاس بھی بجھتی رہتی ہے۔ مذہبی تقریبات میں ضرور شامل ہوتا ہے۔ ان تقریبات میں اسے کچھ نا کچھ لکھنے کو مل جاتا ہے اور لوگوں سے رابطہ بھی بڑھتا ہے۔ پری پیکر کا خیال ہے کہ زندگی کا کوئی مقصد ہونا چاہیئے ۔ بنا مقصد کے انسان کی زندگی جانوروں کی طرح ہوتی ہے۔ آج بھی جب وہ آیا تو اس کے ہاتھ میں کتاب تھی۔ وہ آزاداخبار کے لیئے کوئی مضمون لکھنا چاہتا تھا۔ میں چونکہ ہمیشہ اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں اس لیئے وہ خوشی سے اپنے دل کی بات مجھ سے کہہ لیتا ہے۔
میں نے پوچھا ،’’پری پیکر تم مجھے کچھ پریشان دکھائی دے رہے ہو‘‘۔
کہنے لگا، ’’نہیں کوئی خاص بات نہیں ۔ روم سے اڈیٹر کا فون آیا تھا ۔ وہ کہہ رہا تھا اخبار چھپنے کے لیئے جارہا ہے ۔تمہارے مضمون کا انتظار ہے ۔ اب مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ کیالکھوں‘‘۔
’’تمہیں اتنی چیزوں کے بارے میں علم ہے۔ کسی چیز کے بارے میں لکھ دو۔ اخبار کا پیٹ ہی تو بھرنا ہوتا ہے۔ تمہیں کون سا کالم لکھنے کے پیسے ملتے ہیں‘‘۔
’’یار پیسوں کا کیا کرنا۔ میں اپنا شوق پورا کرتا ہوں اور اردو زبان کی خدمت بھی ہوجاتی ہے۔ ہر چیز کو نفع نقصان کے ترازوں میں نہیں تولنا چاہیئے‘‘۔
’’تم اریزو کی کسی چیز کے بارے میں لکھ دو‘‘۔
’’میرا دل چاہتا ہے کہ اریزو کی تاریخ کے بارے میں لکھوں‘‘۔
فرشتہ نے دور سے کہا، ’’کسی چوہدری کا انٹرویو کردیں ثقلین صاحب۔ وہ آپ کو پیسے بھی دے گا اور لوگوں سے آپ کو متعارف بھی کروائے گا‘‘۔
’’فرشتہ صاحب مشورے کا شکریہ ۔ میں صحافی ہوں اور میرے اریزو میں لوگوں سے اچھے تعلقات ہیں۔ لوگ مجھے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں‘‘۔
فرشتہ اس بات پے بڑا حیران تھا کہ سارا اریزو اسے پری پیکر کہہ کر بلاتا ہے اور یہ شخص جسے وہ دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا وہ اسے ثقلین کہہ کر بلاتا ہے۔ یہ بات قابلِ ستائش بھی تھی اور حیران کن بھی۔
’’فرشتہ صاحب آپ کے ذہن میں اس کے علاوہ کوئی خیال ہو تو بتائیں‘‘۔
’’میری کہانی لکھ دیں شاید لوگوں کو دلچسپ لگے‘‘۔
’’میں کوئی جنسی کہانی نہیں لکھ رہا۔ اردو زبان کا ایک سادہ سا اخبار ہے اس کے لیئے لکھتا ہوں اس لیئے کوئی عام فہم سی چیز ہونی چاہیئے‘‘۔
’’کسی ادیب پے مضمون لکھ دیں‘‘
’’کس پے لکھوں‘‘
’’ظاہر ہے مجھ پے تو لکھیں گے نہیں ۔ فیض پے لکھیں، منٹو پے لکھیں، انتظار حسین پے لکھیں۔ پاکستان کی کسی خوبصورت وادی پے لکھیں‘‘۔
’’آپ کیا جانتے ہیں پاکستان کے بارے میں ۔فیض اور منٹو کے بارے میں۔ میں پاکستان میں صحافی رہاہوں۔ بڑے بڑے لوگوں سے ملا ہوں۔ ادیبوں اور شاعروں کی محفلوں میں وقت گزارا ہے۔ ہفتے میں ایک دفعہ اکیڈمی ادبیات جاتا تھا۔ مقتدرہ قومی پاکستان بھی جاتا تھا۔ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس جاتا تھا۔ آپ کا کیا خیال ہے میں ایسے ہی منہ اٹھا کے پاکستان سے اٹلی آگیا ہوں‘‘۔
’’ثقلین صاحب ،آپ تو ناراض ہوگئے ۔ میرا مطلب یہ تو نہیں تھا‘‘۔
’’نیائش خان میں اسی لیئے تمہارے گھر آنے سے اجتناب فرماتا ہوں‘‘۔
فرشتہ اپنا چائے کا کپ لے کر ایک دفعہ پھر تھوڑا پرے ہوگیا ۔
فرشتہ کو لوگ کیوں نہیں پسند کرتے ، اس کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ اپنے سر کے بال مونڈھ دیتا ہے۔ کچھ تو وہ قدرتی طور پے گنجا ہے اور باقی ماندہ بال وہ ہر دوسرے تیسرے دن صاف کردیتا ہے۔ داڑھی اس کے فرینچ انداز کی رکھی ہوئی ہے ۔ جس کووہ ہفتے دس دن بعد بلیچ سے سفید کرلیتا ہے۔ اس کا ایک کان چھدا ہوا ہے۔ جس میں اس نے سونے کی بالی پہن رکھی ہے۔ وہ فارغ وقت میں اس بالی سے کھیلتا رہتا ہے۔جسامت کے لحاظ سے وہ دبلا پتلا ہے لیکن وہ بالکل سوکھا یا پتلا نہیں لگتا۔ کپڑے بھی عجیب طرز کے پہنتا ہے۔ جسم کے ساتھ چپکی ہوئی ٹی شرٹس اور پھٹی ہوئی جینز۔ عام طور پے لوگ سفید بال کالے کرتے ہیں لیکن یہ اپنی طرز کا انوکھا شخص ہے کالے بال سفید کرتا ہے۔دیکھنے میں برا نہیں لیکن اپنی وضع قطع سے عجیب و غریب سا لگتا ہے۔ مجھے اس کے اس حلیئے پے کوئی اعتراض نہیں لیکن میرے جاننے والے مجھے بارہا متنبع کرچکے ہیں کہ اس سے پیچھا چھڑا لو۔ اس کو اپنے ساتھ رہنے کی دعوت میں نے خود ہی دی ہے میں اس کو کیسے منع کرسکتا ہوں۔ وہ گھر کے کرائے میں، کھانے پینے میں اور دیگر اخراجات میں میری مدد کرتا ہے اس کے علاوہ وہ گھر کے کاموں میں بھی میری مدد کرتا ہے۔ گھر کی صفائی، کھانا پکانا تمام کاموں میں میری مدد کرتا ہے۔ صاف ستھرا شخص ہے ۔ اس کے علاوہ وہ جو بھی کرتا ہے اس کا ذاتی فعل ہے۔ میرے ساتھ اس نے آج تک مخرب ا لاخلاق گفتگو نہیں کی۔ یہ اور بات ہے کہ وہ ذوں معنی باتوں کا ماہر ہے۔ میرے ساتھ ادب پے سیر حاصل گفتگو کرتا ہے۔ میں پری پیکر کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں لیکن وہ تھوڑا سا لکیر کا فقیر ہے۔اس کے علاوہ فرشتہ آزاد ذہن کا مالک ہے ۔آپ اسے لبرل فلاسفر کہہ سکتے ہیں۔ زندگی کے بارے میں اس کے خیالات بہت مختلف ہیں۔ وہ کہتا ہے چیزیں ہمارے لیئے بنی ہیں ہم چیزوں کے لیئے نہیں۔ زندگی کو ہم گزاریں ،زندگی ہمیں نہ گزارے۔ میرے خیال میں فرشتہ کے بارے لوگوں کو غلط فہمی ہے۔ لوگ اس کی شخصیت کے بارے غلط رائے قائم کرتے ہیں ۔ اس میں فرشتہ کی اپنی بھی غلطی ہے کیونکہ وہ پہلی ملاقات میں لوگوں پے بہت برا تاثر چھوڑتا ہے۔ وہ لگی لپٹی باتیں نہیں کرتا۔ سیدھی بات منہ پے کہہ دیتا ہے۔ مجھے نہیں یاد جب سے وہ اریزو وارد ہوا ہے کوئی پاکستانی اس کے طنز او مزاح سے بھرپور جملوں سے بچا ہو۔ میں نے لوگوں کو یہاں تک کہتے ہوئے سنا ہے کہ فرشتہ سے زیادہ بات نہ کرنا بہت بدتمیز انسان ہے۔ کسی کا لحاظ نہیں کرتا۔ کئی ایک لوگ تو اسے دور سے آتے ہوئے دیکھ کر اپنا راستہ بدل لیتے ہیں۔ میں نے اسے ایک دو دفعہ سمجھانے کی بھی کوشش کی لیکن وہ کہتا ہے کہ مجھے نیکی کا سرٹیفیکیٹ نہیں چاہیئے۔ لوگ جو بھی رائے قائم کرتے ہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔آپ کبھی بھی کسی کی سوچ پے پابندی نہیں لگا سکتے۔ لوگ تو اس بات پے حیران ہیں میرے جیسا سنجیدہ انسان فرشتہ جیسے بذلہ سنج انسان کے ساتھ کیسے گزارا کرتا ہے۔ میں فرشتہ کے بارے میں زیادہ تو نہیں جانتا لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں وہ اپنے اندر کوئی نا کوئی کہانی چھپائے بیٹھا ہے۔ نہ اس نے کبھی مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو، کہاں کے رہنے والے ہو نہ ہی میں نے کبھی اس سے پوچھا۔ میرے خیال میں کسی سے ذاتی سوال کرنا زیادہ مناسب نہیں ہوتا جب تک آپ کو کوئی بھی شخص اپنے بارے میں خود کچھ بتانا پسند کرے یا نہ کرے۔
میں نے اپنی چائے ختم کی اور خالی کپ ایک طرف رکھ دیا ۔ فرشتہ جو کہ ایک طرف بیٹھا ہوا تھا وہ اپنی کرسی سے اٹھا ، میرا کپ ،اپنا کپ اور چائے کی کیتلی دھو رکر رکھ دی۔
مجھے اٹلی کے گھروں کے باورچی خانوں میں ایک چیز بڑی پسند ہے۔ یہاں برتن دھونے والے سنک کے اوپر ایک چھنا سا لگا ہوتا ہے۔ آپ برتن دھو دھو کے اس کے اوپر رکھتے جاتے ہیں اور برتنوں کا پانی نچڑ نچڑ کر نیچے سنک میں گرتا رہتا ہے۔ اس طرح برتن بھی سوکھ جاتے ہیں اور کھانے پکانے والے چولہے کے آس پاس جگہ بھی سوکھی اور صاف ستھری رہتی ہے۔
جس گھر میں میں اور فرشتہ رہتے ہیں یہ ایک کمرے کا مکان ہے لیکن بہت روشن و ہوا دارہے۔ ایک سونے کا کمرہ ہے۔ میرا مطلب وہ والا سونا نہیں جس کے زیوارات بنتے ہیں بلکہ جہاں آپ سوتے ہیں۔ایک ڈرائینگ روم ہے۔ باتھ روم اور بارچی خانہ ۔ کرایہ بھی مناسب ہے۔ یہ علاقہ اریزو شہر سے تھوڑا سا ہٹ کے ہے اس لیئے گاڑی پارک کرنے میں بھی کوئی دقت پیش نہیں آتی ۔ اسکے علاوہ ہمارے گھر کے نیچے کمونے دی اریزو کی طرف سے مفت پارکنگ کی سہولت بھی موجود ہے اس لیئے آس پاس کے لوگ جن کو کہیں بھی پارکنگ نہیں ملتی وہ یہاں اپنی گاڑی پارک کردیتے ہیں اگر جگہ خالی ہو تو۔ اس وجہ سے کئی دفعہ تھوڑی بہت دقت بھی ہوتی ہے لیکن قابلِ برداشت۔ ا س کے علاوہ کئی دفعہ لوگ اپنے کیراوان بھی یہاں لا کر کھڑے کرتے ہیں۔یہاں وہ ان کی صفائی کرتے ہیں اور کبھی کبھی اپنے کیراوان کے اندر رات بھی گزار لیتے ہیں۔ میرے گھر کی کھڑکیاں لکڑی کی ہیں لیکن ان میں جو شیشہ لگا ہوا ہے بہت پتلا ہے بالکل ایسا لگتا ہے جیسے ٹرانسپیرنٹ کاغذ کا بنا ہوا۔کھڑکی کے باہر جو چھوٹی سے کارنس ہے وہاں پر چھوٹے چھوٹے گملے پڑے ہوئے ہیں۔سال کے چھ مہینے ان میں لال رنگ کے پھول اْگتے ہیں اور باقی کے چھ مہینے یہ بالکل سوکھ جاتے ہیں۔ میری کچن کی اور ڈرائینگ روم کی دیوار کے ساتھ ایک خود رو بیل پوری دیوار کو سارا سال ڈھکے رکھتی ہے۔ جس کی وجہ سے تتلیاں اور دیگر پتنگے تو مڈلاتے ہی رہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ کیڑے مکوڑے گھر کے اندر داخل ہوجاتے ہیں۔
میں گھر کی آرائش و زیبائش اپنے انداز سے کی ہے۔ گو کہ یہ گھر کرائے کا لیکن مجھے گھر کو سجانے سنوارنے کا بہت شوق ہے ۔ میری جمالتی حس بہت اچھی ہے لیکن کبھی کبھی مجھے فرشتہ بھی اپنے قیمتی مشوروں نوازتا رہتا ہے۔ وہ کہتا ہے تم ہو تو خان لیکن کام سارے خانم جیسے کرتے ہو۔ وہ مجھے کبھی کبھی بغیر نقطے والا خان بھی کہتا ہے یعنی خان کے بجائے خاں ۔ جیسے کہ بڑے سلامت علی خاں، چھوٹے سلامت علی خاں۔ میں اْس کی اِس بات کا بالکل بھی برا نہیں مناتا کیونکہ یہ قابلِ برداشت مزاح ہے۔ ایک ایسا مزاح جو اخلاقیات کے دائرے میں رہ کے کیا جائے۔
ْثقلین پری پیکر مجھ سے مخاطب ہوا، ’’نیائش میں چلتا ہوں ۔ اگر تمہارے ذہن میں کوئی موضوع ہو تو مجھے ضرور بتانا‘‘۔
فرشتہ دور سے چلایا، ’’ثقلین صاحب آپ کی اردو تو زیادہ اچھی نہیں ۔نہ ہی آپ کے اخبار کی اردو مجھے پسند ہے لیکن اگر آپ کو برا نہ لگے تو میں نے چند چیزیں لکھی ہیں۔ ہو سکے تو اغلاط کی نشاندہی کردیجئے گا‘‘۔
’’کیا لکھا ہے آپ نے ۔ سیکس کے حوالے سے لکھا ہوگا۔ یا کوئی تنقیدی مضمون ہوگا‘‘۔
’’پڑھے بنا کیسے جانے گے۔ ہوسکتاہے آپ کو کوئی موضوع مل جائے‘‘۔
ثقلین نے بے دلی سے کاغذوں پلندہ ہاتھ میں تھاما اور فرشتہ سے مخاطب ہوا، ’’کوشش کروں گا کہ آج رات کو پڑھ لوں۔ بقول آپ کے میری اردو بھی زیادہ اچھی نہیں لیکن پڑھنا لکھنا جانتاہوں۔ کوشش کروں گا کہ اغلاط دور کر سکوں‘‘۔
نیائش نے فرشتہ کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا، ’’ویسے آجکل اخباروں سے اردو تو نہیں سیکھی جاسکتی کیونکہ اخبار میں لکھنے والے زبان و بیان ، لغط اور انشاء پرداژی پے زیادہ زور نہیں دیتے‘‘۔
’’نیائش صاحب آپ کی بات درست ہے لیکن آج کل لوگوں کو ایسی ہی زبان سمجھ آتی ہے۔ انگریزی کی ملمع شدہ شکل۔ ٹرانسلٹریشن کی صورت میں‘‘۔
’’پری پیکر ایک بات کہوں برا نہ منانا، فرشتہ جیسا نظر آیا ہے ویسا ہے نہیں اور جیسا یہ ہے ویسا یہ نظر نہیں آتا‘‘۔
’’میرا بھی یہی خیال ہے۔ اچھا خدا حافظ‘‘
’’خدا حافظ‘‘۔
’’ثقلین صاحب ، میں نے حال ہی میں اسلام قبول کیا ہے۔ مجھے بھی خدا حافظ کہہ دیا ہوتا ۔ خیر میری طرف سے خدا حافظ۔ یہ پلندہ ضرور دیکھئے گا‘‘۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں ثقلین جسے لوگ پری پیکر کہتے ہیں۔ میں لوگوں سے جلدی متاثر نہیں ہوتا اور نہ میں لوگوں بے تکلف ہونے میں جلدی کرتا ہوں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں لیکن اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میں نے صحافت کے شعبے میں رہ کر پاکستان کی کئی نامور شخصیات سے ملاقات کی ہے۔ بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں سے ملا ہوں۔ ایسی کئی سیاسی شخصیات سے ملاقات ہوئی جو کہ حکومتوں کو تبدیل کردیتی ہیں۔ اس کے علاوہ بڑے بڑے حساس ادارے جوملک کی شہہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں ان کے بارے میں بھی جاننے کا موقع ملا۔ پاکستانی فوج کے بارے ایسی ایسی باتیں پتا چلیں کہ میں حیران رہ گیا۔ میں پانچ ہزار روپے ماہوار کی نوکری کرتا تھا۔ میرے کئی کام بنا سفارش کے ہی ہوجاتے تھے۔ پاکستانی پولیس جس سے ہر شریف آدمی ڈرتا ہے حتیٰ کہ دونوں شریف بھائی بھی۔ میں ان سے چائے پیتا تھا اور کبھی کبھی تحفے کی صورت میں تھوڑی رقم بھی مل جاتی تھی۔ وہ سب لوگوں سے رشوت لیتے ہیں لیکن صحافی ان سے رشوت لیتے ہیں۔ میری زندگی ٹھیک گزر رہی تھی۔ مجھے ایسے لگتا تھا جیسا میں صحافی کم اور بلیک میلر زیادہ ہوں۔ آمدن معقول نہیں تھی لیکن گزارا ہوجاتا تھا۔ صحافت کی دنیا میں قدم رکھتے ہی میں نے دیکھاایک عام پاکستانی اور سیاسی ارکان کی زندگی میں کتنا فرق ہے۔ وہ نہ بجلی کے بحران سے واقف ہیں، نہ چینی اور گیس کے نہ ہی آٹے کی قلت سے واقف ہیں۔ ان سارے ذہنی خلفشاروں سے جان جھڑا کر میں اٹلی آگیا۔ یہاں میں فیکٹری میں پانچ دن اپنا کام کرکے دو دن فارغ ہوتا ہوں اور چند ایک اخباروں میں لکھ کر اپنا شوق پورا کرلیتا ہوں۔ اطالوی حکومت میری تنخواہ سے ٹیکس کاٹتی ہے اور اس کے بدلے مجھے میڈیکل کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ مجھے کسی بھی سرکاری دفتر میں جانے کے لیئے کسی سفارش کی ضرورت نہیں پڑتی۔ میں اٹلی کا نظام دیکھ کر بڑا حیران ہوں کہ جو یورپ کا کرپٹ ترین ملک گنا جاتا ہے یہاں یہ حال ہے تو باقی یورپیئن ملک ان سے کہیں زیادہ آگے ہوں گے۔
خیر جب سے میں یہاں آیا ہوں میںیہ باتیں ہر وقت سوچتا رہتا ہوں۔ مجھے فرشتہ کی شخصیت بھی عجیب سی لگتی ہے۔ میں اس کے دیئے ہوئے کو پلندے کو پڑھنا شروع کیا ہے۔ یہ خود نوشت کے سے انداز میں لکھی گئی کہانی ہے۔ فرشتہ بہت اچھی اردو لکھتا ہے ۔اس کا اندازہ مجھے اس کی کہانی پڑھ کر ہوا۔ ابھی میں اسے پورا نہیں پڑھا لیکن جتنا پڑھا ہے اس کو آپ کی نظر کرتا ہوں کیونکہ جو کچھ میں اب تک پڑھا ہے وہ فرشتہ کے بارے میں میری جو رائے تھی اس کو بدلے کے لیئے کافی ہے۔
میرا نام فرشتہ ہے ۔ صرف نام ہی فرشتہ ہے میرے کام فرشتوں والے نہیں بلکہ انسانوں والے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ میرے ساتھ پیٹ لگاہوا ہے جس کی آگ بجھانے کے لیئے مجھے کافی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ مجھے لوگ دیکھ سکتے ہیں فرشتوں کی ہم نے صرف کہانیاں سنی ہیں لیکن ہم نے ان کوآج تک نہیں دیکھا۔ میرے پر بھی نہیں ہیں جبکہ فرشتوں کے دو سفید پر ہوتے ہیں لیکن یہ تصور ہمیں الف لیلوی کہانیوں نے دیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ دیو مالائی کہانیوں میں جانوروں کو پروں کے ساتھ دکھایا گیا۔ اس میں سب سے زیادہ گھوڑے کی پروں والی تصاویر ہیں۔ جب میں چھوٹا تھا تو پاکستان میں ٹرکوں کے اوپر پروں والا گھوڑا بنا ہوا دیکھ کر بڑا حیران ہوتا تھا۔ اس پروں والے گھوڑے کے منہ کے بجائے کسی حوبصورت لڑکی کی شکل بنی ہوتی تھی۔ میرے لیئے یہ چیز بڑی حیران کن تھی۔ میں آج تک یہ سوچتا ہوں کہ ٹرکوں پے پینٹنگ کرنے والوں نے یہ پروں والے گھوڑے کا تصور کہاں سے لیا ہے ۔اور اس گھوڑے یا یوں کہنا چاہیئے کہ گھوڑی کی شکل کے بجائے اس پے وہ لڑکی کی شکل کیوں بناتے ہیں۔ یقیناًاس کا کوئی مطلب ہوگا۔ ٹرکوں پے پینٹنگ کرنے والوں نے یہ تصور کہیں سے تو لیا ہوگا۔ کوئی تو پہلا شخص ہوگا جس نے عورت کی شکل والی گھوڑی بنائی ہوگی اور اس کے پر بھی ہوں گے۔
میرے دادا کو تاریخ سے بہت لگاؤ تھا۔ وہ کئی دفعہ ابولقاسم فرشتہ کی تاریخ حوالے دیا کرتے تھے۔ میرا نام فرشتہ بھی انہوں نے رکھاتھا ۔ میں نے اپنی زندگی کا کافی حصہ اپنے دادا کی صحبت میں گزارا۔ اس طرح مجھے بھی تاریخ سے لگاؤ ہوگیا۔ تاریخ سے کیا لگاؤ ہوا، دنیا کے دیگر علوم سے دوستی کرلی۔ جس میں تاریخ، آثارِ قددیمہ، فنونِ لطائف ، ادب، شاعری۔ میرے دادا کہتے تھے کہ اللہ تعالی نے انسان کو حواسِ خمسہ سے نوازا ہے۔ اس طرح ایک انسان اپنی ان حواسِ خمسہ سے پانچ مختلف چیزیں محسوس کرتا ہے۔ اسے اپنی ان حسوں کے ضائع نہیں کرنا چاہیئے۔ آنکھیں صرف دیکھنے کے لیئے نہیں ہوتیں بلکہ مشاہدے کے لیئے بھی ہوتی ہیں۔ کان صرف سننے کے لیئے نہیں ہوتے بلکہ صوتی اثرات کی چانچ کرنے کے لیئے بھی ہوتے ہیں۔ زبان صرف بولنے کے لیئے نہیں ہوتی بلکہ آپ اسے ذائقے کے لیئے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اس طرح وہ دیگر حسیات کے بارے میں بیان کرتے تھے۔ ان کا خیال نہیں یقین تھا کہ اگر کوئی شخص ایک سے زیادہ زبانیں سیکھ لے تو اس طاقت دگنی تگنی ہوجاتی ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص دو زبانیں جانتا ہے تو وہ ایک شخص نہیں دو ہوجاتا ہے۔ اگر وہ اس سے زیادہ زبانیں جانتا ہے تو وہ جتنی بھی زبانیں جانتا ہے اس کی طاقت اتنی ہی ہوجاتی ہے۔ میرے دادا طالبِ علم تھے۔ سہی معنوں میں علم کے طالب تھے۔ ان کی صحبت میں وقت کیاگزارا میں نے بھی زبانوں سے دوستی کرلی۔ سب سے پہلے تو میں نے اردو زبان پے عبور حاصل کیا۔ پھر انگریزی پے لیکن میرے دادا آخری وقت تک کہتے رہے کہ تمہاری انگریزی کمزور ہے۔ جب میں نے اپنی تعلیم مکمل کی تو میں نے سوچا کوئی نوکری کرلوں لیکن میرے دادا نے مجھے مشورہ دیا، بیٹا یا تو سی ایس ایس کی تیاری کرو یا کوئی زبان سیکھ لو۔ اس طرح میں نے نیشنل انسٹیوٹ آف ماڈرن لینگویجز میں فرنچ زبان سیکھنی شروع کردی۔ اس کے علاوہ میں شام کو فرنچ کلچرل سنٹر بھی جانے لگا۔ نیشنل لینگویجز میں گرامر درست ہوئی اور فرنچ سنٹر میں میری بولنے کی استعداد بڑھی اس کے علاوہ میں نے فرنچ زبان بولنے کا صحیح تلفظ کلچرل سنٹر سے ہی سیکھا۔
اب میں بقول اپنے دادا کے تین انسانوں کے برابر ہوچکا تھا۔ میں پنجابی بھی جانتا ہوں اس لیئے یہ بھی ایک خوبی جانی جائے۔ عربی میں نے قرانِ پاک پڑھنے کے لیئے سیکھی لیکن میں اسے سمجھنے سے قاصر ہوں۔ اتنا کچھ جاننے کے بعد بھی میں اپنے اندر ایک عجیب سی کمی محسوس کرتا تھا۔ جن دنوں میں نیشنل لینگویجز میں فرنچ زبان سیکھ رہا تھا ان دنوں میری ملاقات نعمان خان سے ہوئی۔ وہ بنوں کا رہنے والا تھا۔ وہ نیشنل لینگویجز میں جاپانی زبان سیکھ رہا تھا۔ میں اس سے پوچھا کہ تم یہ زبان کیوں سیکھ رہے ہو تو اس نے مجھے بتایا کہ اس نے پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا ہے لیکن کوئی نوکری نہیں مل رہی ۔اسے کسی نے مشورہ دیا کہ جاپانی زبان سیکھ لو تمہیں آسانی مترجم کی نوکری مل جائے گی یا تمہیں ٹورسٹ گائیڈ کی نوکری مل جائے گی۔ وہ ایک سال سے جاپانی زبان سیکھ رہا تھا اور پڑھائی کے دوران ہی اسے فری لانس ٹورسٹ گائیڈ کی نوکری مل گئی۔ اس نے جیسے ہی دو سال کا جاپانی زبان کا ڈپلومہ مکمل کیا اسے ٹورسٹ کمپنی نے مستقلاً بھرتی کر لیا۔ اس نے مجھے مشورہ دیا کہ میں بھی فرنچ زبان میں ڈپلومہ مکمل کرنے کے بعد اس کمپنی میں فرنچ سپیکنگ گائیڈ کی نوکری کے لیئے درخواست دوں۔ میں نے نعمان خان کے بارے میں اپنے دادا سے بات کی تو انہوں نے کہا اچھا مشور ہ ہے لیکن میری مانوں تو اپنے علم میں اضافہ کرو تانکہ تمہیں لوگوں کو اپنے ملک کے بارے بیان کرنے میں دقت نہ پیش آئے۔
جب میں نے فرنچ زبان میں دو سال کا ڈپلومہ مکمل کیا تو میں نے نعمان خان سے رابطہ قائم کیا۔ ہم دونوں کی ملاقات ٹورسٹ آفس میں ہوئی۔ اس نے مجھے ہیومن ریسورسز ڈیپارٹمنٹ کے افسر مبین صاحب سے متعارف کروایا۔ مبین صاحب پہلے سی ایس پی افسر تھے اور کراچی کے رہنے والے تھے۔ لمبے قد اور چوڑی چکلی جسامت کے مالک تھے۔ ناک نقشہ بھی ٹھیک تھا۔ جب انہوں بات کرنے کے لیئے منہ کھولا تو ان کے دانتوں کی پیلاہٹ سے صاف دکھائی دیا کہ محترم پان اور سگرٹ کے شوقین ہیں۔ اردو بولنے کا انداز بہت ہی شائستہ تھا۔ مجھ سے کہنے لگے ہماری کمپنی میں گائیڈز کو زیادہ تنخواہ نہیں دی جاتی کیونکہ ان کو بخشش بھی ملتی ہے ، ٹی اے ،ڈی اے بھی۔ اس کے علاوہ کچھ گائیڈ کمشن بھی لیتے ہیں ۔اصولاًیہ غلط ہے لیکن ہمارے پاس اس چیز کو روکنے کا کوئی خاص طریقہ کار نہیں اس لیئے ہم نے آج تک کوئی قانونی کاروائی نہیں کی۔ اس چھوٹی سی ملاقات کے بعد مجھے اس کمپنی میں فرنچ اور انگلش سپیکنگ گائیڈ کی نوکری مل گئی۔
گائیڈ کی نوکری کافی دلچسپ تھی کیونکہ اس میں علم و ادب،آثارِقدیمہ، تاریخ اور مذاہبِ عالم کا گہرا دخل تھا۔ میں سیاحوں کو آئیٹنری ( جن جن جگہوں جانا ہوتا ہے اس کا پورا پروگرام اس میں لکھا ہوتا ہے) کے مطابق ساری جگہیں دکھایا کرتا اس کے علاوہ کبھی بدھ مت کی بات ہوتی اور کبھی ہندومت کی۔ مجھے اپنے علم میں اضافہ کرنے کے لیئے سدھارتھا گوتما بدھا کے بارے میں کافی کتابیں پڑھنے کا موقع ملا ۔ جیسا کہ دیپن کارا جاتکا، دھمپدا وغیرہ۔ پہلے میں اس بات سے واقف نہیں تھا کہ بد ھ مت میں کتنے فرقے ہیں لیکن آہستہ آہستہ مجھ پے یہ بات آشکارا ہوئی کہ بد ھ مت میں دو فرقے ہیں اور اس کے علاوہ کئی چھوٹے چھوٹے فرقے بھی ہیں۔ ہنا یانا، مہایانہ، وجرا پانی، تانترک بدھ مت۔ ہنایا نا اور مہایانا دو بنیادی فرقے ہیں۔ اس کے علاوہ مجھ آج تک یہ نہیں پتا تھا کہ ہندو ازم میں لاکھوں نہیں کروڑوں خدا
ہوتے ہیں۔ کچھ میں رام بھگوان کی طرح پوجا جاتا ہے اور کچھ میں راون کی پوجا کی جاتی ہے۔ پاکستان، ہندوستان، نیپال، بنگلہ دیش، بھوٹان ، برما، سری لنکا اور افغانستان ان سارے ممالک میں اسلام کیا آ مد سے پہلے ہندوازم تھا اور اس کے بعد بدھ مت رائج کردیا گیا تھا۔ میں یہ جان کر بھی بڑا حیران ہوا کہ سوات اور پشاور جو کہ قبائلی علاقوں پر مشتمل ہیں۔ جہاں پے آج اسلام کے بول بالا ہے ، یہاں سب سے زیادہ بد ھ مت کا پرچار کیا گیا۔ محکمہ آثارِ قدیمہ نے سب سے زیادہ خانقاہیں یہاں دریافت کیں۔ بت کڑا یا بت کارا یعنی کالے پتھر کے بت، شنگر دار سٹوپا، سفولہ سٹوپہ ، تخت بائی ۔سوات، تخت بائی اور پشاور میں بہت ساری چیزیں اطالوی ماہر آثارِ قدیمہ ،جناب جوزپے ٹوچی نے دریافت کیں۔ ٹیکسلا میں بھی کئی شہر دریافت کیئے گئے۔ جن میں جولیاں ،سری کپ،شہباز گھڑی ،دھرم راجکا سٹوپا برٹش آثارِ قدیمہ کے ماہر ،سر جان مارشل نے دریافت کیں۔
میں بڑی محنت کے ساتھ سیاحوں کو ان تاریخی مقامات کی سیر کروایا کرتا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو تفصیل بھی بتا یا کرتا۔ اب میں تاریخِ پاکستان پے بڑی خوبصورتی سے لیکچر دے لیا کرتا۔ میرے گروپ میں زیادہ تر یونیورسٹیز کے پروفیسر، سکالر اور فلاسفر ہوتے۔ میرے شوق کو دیکھتے ہوئے کمپنی نے میری تنخواہ بھی بڑھا دی اور مجھے پی ایچ ڈی ڈاکٹرز اور پروفیسرز کے گروپ ملنے لگے۔
میں راولپنڈی سے ان کو ٹیکسلا لے کر جاتا۔ تمام تاریخی مقام دکھا کے ان کو بیشام لے جاتا۔ وہاں یہ لوگ رات گزار کے آگے کو چل دیا کرتے۔ صبح جب بیشام سے نکلتے تو ہمارا اگلا پڑاؤ چلاس ہوتا۔ یہاں ان کو ہائیروگلفس اور پکٹوگرام دکھایا کرتا ۔شتیال کی یہ راک کارونگز پاکستان کے مشہور پروفیسر احمد حسن دانی کی دریافت ہیں۔ اس کے بعد ہم گلگت ،سکردو، ہنزہ، چترال اور پشاور کی سیر کرکے واپس آجایا کرتے۔
گائیڈنگ کے دوران کئی چیزوں نے مجھے حیران کیا۔ میں نے حضرت موسیٰ ؑ کے بارے میں سنا تھا اللہ تعالی نے انہیں پتھر کی سلِ پے لکھ کر دس کمانڈمنڈ بھیجی تھیں۔ پہلی سل ان سے ٹوٹ گئی تھی ۔خدا نے دوبارہ انہیں اس طرح کی سل بھیجی۔ میں جب سیاحوں کو گلگت لے جایا کرتا تو بیشام سے پہلے ہمارا تھوڑی دیر کا پڑاؤ مانسہرہ کے پاس بھی ہوا کرتا۔ یہاں مانسہرہ میں پتھر کی بہت بڑی سِل نصب ہے۔ جس پر بدھ مت کی کمانڈمنٹس لکھی ہوئی ہیں۔ یہ پالی زبان میں لکھی ہوئی پتھر کی سِل مہاراجہ اشوک نے لگوائی تھی۔ اشوک جب کالنگا کی لڑائی سے واپس آیا تو اس نے جنگ و جدل سے توبہ کرلی۔ پھر اس نے پاٹلی پتر سے کنیا کماری تک جہاں جہاں اس کا راج تھا سب کے لیئے بدھ مت لازمی مذہب قرار دے دیا۔ اس نے سدھارتھا گوتماء بدھا کے استھیاء (راکھ) کو اس کی دفن کردہ جگہ سے نکلوا کر اسی(
۸۰) مختلف جگہوں پے دفن کروایا۔ وہاں سٹوپے تعمیر کروائے گئے اور ان سٹوپوں کے اندر بدھا کی راکھ سونے کی ڈبیوں میں رکھوائی۔ اس طرح شنگر دارسٹوپا، دھرم راجکا سٹوپا اور سفولہ سٹوپا اور مانکیلا سٹوپا وجود میں آئے۔ ان سٹوپو کی اصل تعداد اسی تھی لیکن کئی سال گزرنے کے بعد ان کی تعداد چھ سات رہ گئی۔ انگریز ان سٹوپوں سے سوناچاندی، ہیرے جواہرات نکال کے لے گئے اور خالی سٹوپے سیاحوں کی تفریح کے لیئے چھوڑ گئے۔
مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ مسلمانوں کے آخری خلیفہ امام مہدی ؑ نے ابھی آنا ہے۔ عیسائیوں کا خیال ہے کہ حضرت عیسی ؑ ایک دفعہ پھر تشریف لائیں گے ۔بالکل اسی طرح بدھ مت میں جب دنیا ختم ہوجائے گی تو میتریا تشریف لائے گا۔ بالکل اسی طرح کا فلسفہ ہندوؤ میں بھی ہے۔ یعنی کہ ہم سب نجات دہندہ کے انتظار میں ہیں۔
یہ تو تھیں مذہب سے متعلق باتیں جنھوں نے مجھے حیران کیا۔ اس کے علاوہ سیاسی نقطہء نگاہ سے جن باتوں نے مجھے حیران کیا ان میں ایک بات تو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ ہمارے گروپ ہنزہ، چترال اور پشاور ضرور جایا کرتے۔ چترال شہر میں ایک اور چھوٹا سا گاؤں کہہ لیجئے یا شہر اس کا نام ہے گرم چشمہ۔ امریکن سیاحوں کی سب سے زیادہ تعداد گرم چشمہ جایا کرتی۔ وہاں پے باقاعدہ گرم پانی کا چشمہ ہے اور ایک ہوٹل کے اندر گرم پانی کا سومنگ پول ہے۔اس ہوٹل کا چیف یا بڑا باورچی کینیڈین نیشنل تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم یہاں کیوں رہتے ہو تو کہنے لگا، کیونکہ یہاں کی چرس سب سے اچھی ہوتی۔ وہ باورچی، پشتو، فارسی، چترالی اور انگریزی روانی سے بولتا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے کئی حساس علاقوں میں امریکہ اور دیگر یورپیئن ملکوں کے لوگ بھیس بدل کر رہ رہے تھے۔ گرم چشمہ سے روس صرف پینتیس کلومیٹر دور ہے۔ اس چھوٹے سے حصے کو وا خان کوریڈور کہتے ہیں۔ روس کی اس علاقے میں موجودگی امریکہ کو بہت کھٹکتی تھی۔ خیر اس کے علاوہ بہت سارے ٹورسٹ درم آدم خیل جایا کرتے ۔میں اور میرے کئی ساتھی بلکہ دیگر ٹورسٹ کمپنیوں کے لڑکے بھی خوشی خوشی ان سیاحوں کو اسلحے کی فیکٹریاں دکھلانے لے جایا کرتے۔ ہمیں اپنی تنخواہ اور ٹپ سے مطلب ہوتا۔ کبھی کبھی کمیشن بھی مل جاتا کرتا۔ اب دنیا کے بدلتے ہوئے سیاسی ڈھانچے کو دیکھتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں کہ ہم لوگ کتنے بیوقوف ہیں۔
درہ آدم خیل کی اسلحہ فیکٹریوں میں ہر طرح کی کلاشنیکوف ہوتی۔ روسی، چینی اور پاکستانی۔ جب میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو گولیوں کے خالی کھوکھوں میں بارود بھرتے دیکھتا تو بڑا حیران ہوتا۔ میں ہوٹل میں واپس آکے سوچتا کہ یہ عمر ان بچوں کے پڑھنے کی ہے جانے کون انہیں ان کاموں پے مجبور کرتا ہے لیکن یہ سوچ بالکل ایسے ہی تھی جیسے انسان مردے کو قبر میں دفن کرنے کے لیئے قبرستان جاتا ہے تو اس کے دل میں موت کا خوف طاری ہوجاتا ہے لیکن جیسے ہی وہ قبرستان سے باہر آتا ہے تو وہ دوبارہ دنیا کے کاموں گم ہوجاتا ہے ، قبر اور موت کے خوف کو بھول جاتا ہے۔
گائیڈ کی نوکری کرتے مجھے ابھی سال ہی گزرا ہوگا کہ پرویز مشرف نے نواز شریف کا تختہ الٹ دیا اور ہمارا ملک ایک دفعہ پھر مارشل لاء کی زد میں آگیا۔ میرے دادا مجھے اکثر کہتے تھے کہ جس ملک میں نواز شریف جیسا شخص پرائم منسٹر بن سکتا ہے وہاں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ نواز شریف کو سیاست میں لانے والا میاں اظہر تھا لیکن بعد میں ان دونوں بھائیوں نے مل کر اسے سیاست سے علیحدہ کردیا۔ نواز شریف نے سیاست میں قدم رکھنے کے لیئے ضیاء الحق کی بیٹی زین ضیا ء کو ایک کروڑ روپے کا تحفہ دیا تھا۔ میری دادا کو شریف برادارن بالکل پسند نہیں تھے کیونکہ انہیں ایسا لگتا جیسا بھولوں براداران ، صابری براداران ہوں۔
جب مشرف نے نواز شریف کا تختہ الٹا یہ
۱۲ اکتوبر کا دن تھا۔ کارگل کا واقع جولائی میں پیش آیا۔ لوگوں نے کارگل کی کڑیاں تختہ الٹنے کے ملا دیں۔ جس دن نواز شریف کا تختہ الٹا اس دن پاکستان کے تمام ٹیلی ویژن سٹیشن پانچ گھنٹے تک بند رہے۔ اس ساری کاروائی میں پنڈی کا کور کماندر پیش پیش تھا۔ آرمی کے ایک میجر نے پورے ٹی وی سٹیشن پے تھوڑی دیر میں قبضہ کرلیا ۔
وقت اسی طرح گزرتا رہا اور پاکستان میں چھوٹے موٹے دھماکوں کے واقعات ہونے لگے۔ سردیوں میں ٹورزم کا کام کم ہوجاتا ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ بند ہوجاتا ہے۔ میں نے کمپنی سے ایک مہینے کی چھٹی لی اور فرانس کا ویزہ لے کر پیرس آگیا۔ میرے گائیدنگ کے دوران کئی سیاحوں سے اچھے تعلقات پیدا ہوچکے تھے۔ اس طرح مجھے کئی کمپنیوں کے مالکان کی طرف کمپلی مینٹری (مفت) رہائش اور کھانا مل گیا۔ یورپ میں کھانا پینا اور رہائش آپ کو مفت مل جائے آپ کو اس سے بڑھ کے اور کیا چاہیئے۔ میں نے ایک مہینہ جی بھر کے پیرس کی سیر کی۔ ویزے کی معیاد ختم ہوئی تو میں واپس آگیا۔ جیسے ہی پاکستان واپس آیا مجھے سب نے ایک ہی بات کہی، واپس کیوں آگئے۔ ونہی رک جاتے ۔ میں ان کو کیسے یقین دلاتا کہ مجھے اس کی ضرورت ہی نہیں میں تو صرف سیر کی غرض سے گیا تھا اور میرا مقصد پورا ہوگیا۔
جب میں واپس آیا تو میرے دادا نے مجھ سے پہلا سوال جانتے ہیں کیاکیا؟ بیٹا پیگال گئے تھے۔ میں نے جواب دیا جی دادا جی۔ اس کے علاوہ انہوں مجھ سے بے شمار سوال کیئے۔
میں دوبارہ ٹورسٹ کمپنی جانا شروع کردیا لیکن پرویز مشرف کے آنے سے ہماری کمپنی کا کام کم ہوگیا تھا۔ سیاحوں کا خیال ہے کہ جس ملک میں ڈکٹیٹرشپ ہو ،وہ ممالک سیاحت کے لیئے ٹھیک نہیں ہوتے۔ آہستہ آہستہ ہماری گائیڈنگ کمپنی سے لڑکوں نے جانا شروع کردیا۔ کام ہی نہیں تھا ۔ ایک دو لڑکوں نے مل کے اپنی کمپنی کھول لی۔ اب مجھے بھی کمپنی والوں نے اشارے کنائے میں کہنا شروع کردیا تھا کہ تم بھی اپنا کوئی بندوبست کرلو۔ میں ٹورسٹ گائیڈ کی نوکری اس لیئے نہیں کرتا تھا کہ اس سے میرا گھر چلتا تھا بلکہ اس کام میں مجھے وہ کچھ سیکھنے کو ملا جو میں سکول ، کالج اور یونیورسٹی میں ساری زندگی نہ سیکھ سکتا۔ جیسا کہ ہماری سیاست دان اخباروں میں کیا بیان دیتے ہیں حقیقت میں کیسے ہیں۔ ان کے کام ملک کے مختلف شہروں میں پھیلے ہوتے ہیں۔ ہماری فوج کس طرح کے کام سرانجام دیتی ہے۔
سن
۲۰۰۰ ہزار میں نے بڑی مشکل میں کاٹا اور سال کے آخر میں میں ایک دفعہ پھر یورپ کی سیر کو نکلا۔میں یہاں آپ کو ایک بات بتاتا چلوں کہ میں مالی طور پے کافی اسودہ تھا۔ تنخواہ کے پیسوں سے کبھی سیر کے لیئے نہیں نکلا۔ سیر و تفریح کے لیئے مجھے میرے دادا پیسے دیتے۔ اس کے علاوہ میرے نام کافی زمین جائیداد ہے جس کی تفصیل بیان کرنا میں مناسب نہیں سمجھتا۔ اب کہ بار میں نے اٹلی کی سیر کرنے کی ٹھانی۔ جب میں پاکستان سے چلا تو نعمان خان نے کہا، اگر اٹلی گئے تو میرے چچا کے بیٹے نیائش خان سے ضرور ملنا۔ وہ فلورنس کے پاس کوئی چھوٹا سا شہر ہے اریزو وہاں رہتا ہے۔ میں نے نیائش کا فون نمبر اور پتہ جیب میں رکھا اور اٹلی آگیا۔ یہاں میری رہنے اور گھومنے پھرنے کا انتظام گراندی ویاجی کی ڈائیرکٹر نے کیا۔ میں تین چار دن میلان رہا۔ اس کے بعد روم ، وینس کی سیر کی۔ پیسا ٹاور دیکھا۔ فلورنس کی سیر کی۔ چنددن اریزو میں نیائش خان کے پاس گزارے اور وواپس پاکستان آگیا۔ سن ۲۰۰۱ میں شروع میں میری کمپنی والوں نے مجھے کام سے نکال دیا۔ مجھے بالکل افسوس نہ ہوا کیونکہ ان کی دی ہوئی تنخواہ سے میں گزر بسر نہیں کرتا تھا۔ اللہ کا دیا بہت کچھ تھا۔ اس دوران میرے جن دوستوں نے کمپنی بنائی تھی انہوں نے مجھے کام کی آفر کی۔ میں نے منظور کرلی۔ تین چار مہینے کام کیا اور اگست کے آواخر میں یورپ کا مارکیٹنگ مینیجر بن کے فرانس ، جرمنی اور اٹلی کے دورے پے نکلا۔مجھے تین چار کمپنیوں سے کام بھی مل گیا۔ میں اپنی کمپنی کے منیجنگ ڈائیرکٹر کو خوشخبری سنائی ۔ میں نے جن لوگوں کے ساتھ کام شروع کیا تھا وہ لوگ زیادہ تر جاپان کے ساتھ کام کرتے تھے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی چھوٹی کمپنی کو یورپیئن ٹور مل رہے تھے حالانکہ جس کمپنی میں پہلے کام کرتا تھا ان کا کام بہت کم ہوگیا تھابلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ میں پندرہ ستمبر کی واپسی سیٹ ریزرو کروائی۔ اب میرے پاس ایک ہفتہ بچا تھا۔ میں پیرس سے فلورنس آگیا اور فلورنس سے اپنے دوست نعمان خان کے چچا کے بیٹے نیائش خان کے پاس آگیا۔ وہ مجھے ایک بار پھر دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ منگل کا دن تھا۔ ستمبر میں اٹلی میں نہ سردی ہوتی ہے نہ گرمی۔ دن کو موسم اچھا ہوتا اگر دھوپ نکلے تو، اور رات کو تھوڑی بہت خنکی ہوجاتی ہے۔ لیکن آج دھوپ میں کافی تیزی تھی۔ میں ناشتے وغیرہ سے فارغ ہوا تو ٹی وی آن کیا۔ نیائش صبح صبح کام پے چلا گیا تھا اس لیئے میں گھر پے اکیلا تھا۔ اس کے ساتھ دو لڑکے اور بھی مکان میں حصے دار تھے اور وہ بھی کام پے گئے ہوئے تھے۔ مجھے وقت کا انداہ نہ ہوا لیکن اچانک ٹی وی پے بلٹن چلاکہ امریکہ کے ٹوئن ٹاور دہشت گردوں نے گرا دیئے۔ اس کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ پہلے ایک ٹاور سے جہاز گزرتے ہوئے دکھایا گیا اس کے بعد دوسرے ٹاور سے ۔ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی سات عمارتیں ہیں ۔یہ جو دو عمارتیں ہیں ان کو جڑوا ں مینار بھی کہا جاتا۔ ٹی وی پے بلٹن چلنے لگا کہ یہ کام القاعدہ کا ہے ۔اس کام کے پیچھے اسامہ بن لادن ہے۔ جب ٹی وی پر یہ خبر چلی اور جہاں جہاں بھی یہ خبر چلی ، پوری دنیا میں یہ کوئی نہیں جانتا تھا یہ کام کس کا ہے۔ انٹرنیشنل میڈیاء نے اس کا الزام مسلمانوں کے سر تھوپ دیا اور مسلمانوں نے بد حواسی میں ایسی عجیب و غریب حرکتیں کی کہ شک یقین میں بدل گیا۔ مسلمان دو حصوں میں تقسیم ہوگئے ۔ایک تو وہ تھے جنھوں نے یہ کہا یہ ٹھیک ہوا ہے دوسرے وہ جو یہ کہتے تھے کہ یہ ٹھیک نہیں ہوا۔
نیائش جب گھر آیا تو گھبرایا ہوا تھا۔ مجھ سے پوچھنے لگا کہ تم تو پریشان نہیں ہو۔ میں نے کہا جب تک اس خبر کے بارے میں تفصیل پتا نہ چل جائے میں اس بات کو تسلیم نہیں کرسکتا کہ یہ کام کس کا ہے۔ ا س لیئے اس میں ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔
۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کے دن پورے اٹلی کی اجینسیاں حرکت میں آگئیں۔ یہ دن پوری دنیا میں مسلمانوں نے بڑی مشکل سے کاٹا۔ اگلے دن میری زندگی میں میرا زندگی کا سب سے سنگین واقع پیش آیا ۔ مجھے پاکستان سے گھر والوں نے فون کیا کہ تمھارے دادا کا انتقال ہوگیا ہے۔ دوسرا فون مجھے میری کمپنی نے کیا کہ ہم نے کمپنی بند کردی ہے اور کمپنی کا مینیجنگ ڈائیریکٹر جاپان چلا گیا ہے ۔ یہ بات مجھے بعد میں پتا چلی کہ چوبیس گھنٹے کے اندر اندر تمام غیر ملکیوں نے جن میں یورپ اور امریکہ کی ٹور کمپنیاں تھیں۔ سب نے اپنے ٹور کینسل کردیئے ہیں۔ دو دن بعد،جن کمپنیوں کے ساتھ میں بات چیت کرکے آیا تھا ،ان کے فون آنے لگے کہ ہم نے پاکستان کے لیئے اپنے تمام گروپس کینسل کردیئے ہیں ۔ میں بڑا حیران ہوا اور اس بات حیران ہوا امریکہ میں دھماکہ ہوا تو اس کا پوری دنیا نے اثر لیا اور پاکستان میں کئی دفعہ دھماکہ ہوتا لیکن ایک دو دن بعد زندگی معمول پے آجاتی ہے۔ فلسطین، کشمیر، عراق اور افغانستان کئی سالوں سے انسانی خون سے اپنی زمین کو سینچ رہے ہیں لیکن پوری دنیا کے کان پے جوں تک نہیں رینگتی۔ مجھے اس بات کا افسوس تھا کہ جڑواں عمارتوں کے اندر اور آس پاس رہنے والے بے گناہ لو گ تھے جو مارے گئے۔ اس ناگہانی آفت کا کسی کو علم نہیں تھا۔ میڈیاء اور ویڈیو کریسی نے پوری دنیا کو اس بات کا یقین دلا دیا کہ اس کام کے پیچھے مسلمانوں کا ہاتھ ہے اور انہوں اس بات کو تسلیم بھی کرلیا۔ مجھے اپنے دادا کے اس دنیا سے چلے جانے کا بھی افسوس تھا۔
میں نے نیائش سے بات کی کہ میں پاکستان واپس چلا جاتا ہوں کیونکہ میرے ویزے کی میعاد بھی ختم ہونے والی۔ تو اس نے کہا، اس وقت پاکستان جانا ٹھیک نہیں۔ ایئرپورٹس پر بہت سختی ہے۔ لیکن میں نے کہا کہ مجھے اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ خیر میں نے نیائش کی بات مانتے ہوئے ویزے کی معیاد بڑھانے کے لیئے فون کیا تو انہوں نے کہا کہ تم نے فرانس کا ویزہ لیا تھا اس لیئے وہاں جاکے اپلائی کرو۔ اب میں فرانس جانا چاہتا تھا ۔ میں نے پاکستان فون کیا کہ مجھے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے تو انہوں نے کہا کہ تمہارے اکاؤنٹ میں کوئی پیسے نہیں میرے حصے کی زمین جائیداد پے بھائیوں نے قبضہ کرلیاہے ۔ میرے دادا مرنے سے پہلے اپنی وصیت میں ایک بات لکھ گئے تھے کہ میں اپنی ساری کتابیں فرشتہ کے لیئے چھوڑ کر جارہا ہوں۔ اب میرے پاس صرف کتابوں کے کچھ نہیں تھا اور وہ بھی پاکستان میں میرے دادا کے کمرے میں تھیں۔
نیائش نے مجھے مشورہ دیا کہ یہیں رہ جاؤ۔ چھوڑو پاکستان کو۔ میں نے اسے کہا کہ میرے تمام سرٹیفیکیٹ پاکستان میں ہیں۔ میں اگر یہاں نوکری ڈھونڈوں بھی تو کیسے ۔مجھے کوریکولم وٹے یعنی ’’سی وی‘‘ بنانا ہوگا ۔ اس نے کہا کہ اٹلی میں اس طرح نہیں ہوتا۔ تمہیں کسی فیکٹری میں کام مل جائے گا۔ جیسے تیسے کر کے میں نے کام کے لیئے ہاتھ پیر مارنے شروع کیئے۔ میرے ویزے کی معیاد ختم ہوچکی تھی اور میں اب اٹلی میں غیر قانونی طور پے رہ رہا تھا۔ میں نے کئی ٹریول کمپنیوں سے بات کی کہ میں ٹور گائیڈ ہوں لیکن مجھے کہیں بھی کام نہ ملا۔ اس طرح ایک دو ماہ گزر گئے۔ میری انگریزی، فرینچ اور تھوڑی بہت اٹالین کسی کام نہ آئی۔ میں نے ساری زندگی آرام و آسائش میں گزاری تھی۔ اس کے باوجود میں خود دار انسان تھا۔ اس لیئے میں نے نیائش سے کہہ دیا کہ میں کسی بھی قسم کا کام کر لوں گا لیکن تم پر بوجھ نہیں بنوں گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے ایک ریسٹورنٹ میں ویٹر کی نوکری مل گئی۔ اس طرح مجھے اس ذہنی اذیت سے نجات مل گئی کہ میں نیائش پے بوجھ ہوں۔ میرا گھر والوں سے رابطہ بالکل منقطع ہوگیا اور میں نے اپنا دل اٹلی میں ہی لگا لیا۔ اس بات کو میں بالکل بھول گیا کہ میں کبھی ٹورسٹ گائیڈ تھا۔ ااستمبر کے واقعے کے بعد ویسے تو پوری دنیا نے مسلمانوں سے نفرت شروع کردی تھی لیکن اٹالین نے اس بات کا کچھ زیادہ ہی اثر لیا۔ انہوں نے پاکستانیوں کی دوکانوں پے چھاپے مارنے شروع کردیئے ۔ان کی ڈاک کو شک کی نظر سے دیکھنے لگے۔ ان کے موبائیل فون کنٹرول ہونے لگے ۔ نہ صرف اٹلی کے بلکہ پوری دنیا کے مسلمان ایسا محسوس کرنے لگے جیسے یہودیوں والی ہولوکوسٹ دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔ جہاں کئی مسلمان ملکوں نے امریکہ کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیئے اپنے تعاون کا یقین دلایا وہاں پاکستان آمر پرویز مشرف نے بھی امریکہ کو یقین دلایا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ اور انہیں باقاعدہ طور پے دعوت دی کہ تم خود پاکستان آکے دہشت گردوں کا خاتمہ کرسکتے ہو۔
ویسے تو ریسٹورنٹ کا مالک اچھا انسان تھا لیکن کئی دفعہ گاہکو کو جب پتا چلتا کہ میں پاکستانی ہوں تو وہ مجھے اچھی نظر سے نہ دیکھتے۔ انہیں میری شکل میں اسامہ بن لادن نظر آتا۔ انہیں ایسا لگتا کہ ٹون ٹاور میں نے گرائے ہیں۔ اا ستمبر کا سب سے زیادہ اثر معیشت پر پڑا۔ پوری دنیا کی معیشت کو اس واقعے نے ہلا کر کھ دیا۔ ایئرلائنز کو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ جن ملکوں کا امریکہ کے ساتھ امپورٹ ایکسپورٹ کا کام تھا وہ بری طرح متاثر ہوا۔ جہاں پوری دنیا نے مسلمانوں کے ساتھ نفرت کا اظہار کیا وہاں کاروباری حضرات کو اپنے کاروبار کی فکر پڑ گئی۔ اریزو شہر کو سونے کا شہر کہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہاں چھوٹی بڑی سونے اور چاندی کی فیکٹریاں۔ جو لوگ اپنا مال امریکہ کی کمپنیوں کو بیچتے تھے ان کا کاروبار بہت بری طرح متاثر ہوا۔ کئی لوگوں نے اپنی فیکٹریاں بند کرکے کوفی بار ز کھول لیں، کچھ نے ٹریول اجینسیز بنا لیں۔ بے شمار لوگ بے روزگار ہوگئے۔ پوری دنیا شدید معاشی بحران کا شکار ہوگئی۔
روز نئی نئی خبریں سننے کو ملتیں۔ کبھی خبر آتی کہ اسامہ بن لادن پکڑا گیا ،کبھی اخبار میں آتا کہ پیسا ٹاور گرا دیا جائے گا۔ ان خبروں میں کتنی صداقت تھی یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔ ایک خبر جو صداقت پر مبنی تھی وہ یہ کہ امریکہ کی فوجیں طالبان کا قلقمع کرنے افغانستان میں داخل ہوچکی تھیں۔ اب امریکہ عراق میں داخل ہونے کے بہانے ڈھونڈ رہا تھا۔ افغانستان میں ایک عارضی سی حکومت قائم کردی گئی تھی۔ جب امریکن فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں تو ساری دنیاکے ترقی یافتہ ملکوں نے امریکہ کا ساتھ دیا اس میں برطانیہ پیش پیش تھا۔ اٹلی تو ایک ایسا ملک ہے جو ،’’جیڑا جتے اودے نال‘‘ ۔انہوں نے بھی اپنی فوجیں افغانستان بھیج دیں۔ یہ روز طالبان کے بہانے بے گناہ اور نہتے شہریوں پے بمباری کرتے اور افغانستان جہاں آسمان سے بم برسانے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ پورا ملک بارودی سرنگوں سے بھرا پڑا ہے۔ آگے کھڈا پیچھے کھائی والا حساب ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی یورپیئن یا اٹالین فوجی کے مرنے کی خبر آتی تو میڈیاء اس خبر کو خوب اْچھالتا اور اس طرح چند دنوں کے لیئے لوگ پھر طالبان اور مسلمانوں کی مخالفت میں اپنی بھڑاس نکالتے ۔ ان دنوں ٹی وی والے عجیب و غریب ویڈیوز دکھاتے۔ ایک دن خبر آتی کہ افغانستان میں طالبان اور امریکی فوجیوں کے درمیان جنگ ہورہی ہے۔ دوسری دن وہی جگہ دکھاتے اور بتاتے کہ دیکھئے ہم نے افغانستان سے طالبان کو صاف کردیا ہے ۔وہاں کے سٹیڈیم میں فٹبال میچ ہورہا ہوتا۔
سن
۲۰۰۲، فروری کے مہینے میں میرے مالک نے مجھے جواب دے دیا کہ وہ اب مجھے کام پے نہیں رکھ سکتا اس کی وجہ مسلمانوں سے نفرت نہیں بلکہ کام کی کمی تھی۔ اس کی نظر میں میں اچھا انسان تھا لیکن خود مجھے بھی نہیں پسند تھا کہ میں بنا کام کے تنخواہ لوں۔ دو تین مہینے گھر پے گزارے اس کے بعد اپریل میں ایک کوریئر کمپنی میں ٹرک لوڈ کرنے کا کام مل گیا۔ میں اس بات کو بھول ہی گیا کہ میں پہلے کیا تھا لیکن میرا مشاہدہ بہت اچھا تھا۔ آس پاس ہونے والے واقعات پے ضرور نظر رکھتا۔ کام دوران اگر کوئی تنقید کا نشانہ بناتابھی تو خاموشی اختیار کیا کرتا کیوں کہ اٹالین لوگوں ایک بڑی تعداد جو ٹی وی دیکھتی ہے اسی پے یقین کرتی ہے اس لیئے ان بحث کرنا بیوقوفی ہے۔ اریزو شہر کے لوگوں کی زندگی بالکل کسی ایسے گاؤں کی ہے جہاں سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ یہ لوگ صبح نو بجے دوکانیں کھولتے ہیں اور ایک بجے بند کردیتے ہیں۔ پھر تین گھنٹے کے وقفے کے بعد کھولتے ہیں ۔ چار بجے دوبارہ دوکانیں کھولتے ہیں اور آٹھ بجے پھر بند کردیتے ہیں۔ یہ ساڑھے سات بجے اپنا سامان سمیٹنا شروع کردیتے ہیں۔ میں چونکہ کوریئر کمنی میں کام کرتا تھا اس لیئے صبح چھ بجے چلا جاتا ایک بجے واپس آتا اور شام کو بھی تین یا چار گھنٹے کام کرتا۔ ہفتے اتوار کو چھٹی ہوتی۔ ۲۰۰۲مئی کے آخر میں جس کوریئر کمپنی میں کام کرتا تھا وہاں چھاپا پڑا اور مجھے کام سے فارغ کردیا گیا اور جس شخص کے لیئے میں کام کرتا تھا اس کو جرمانہ ہوا۔ اس واقعے کے بعد میرا دل بہت کھٹا ہوا۔ میں نے پکا ارادہ کرلیا کہ اب اٹلی میں رہنا ہی نہیں۔ میں گھر آیا تو اس واقعے کا نیائش سے ذکر کیا ۔اس نے کہا دلبرداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر تم اٹلی اس لیئے چھوڑنا چاہتے ہو کہ تمہارے پاس کام نہیں یا تمہیں اس بات کی فکر ہے کہ مجھ پے بوجھ پڑے گا۔ اس بات کی تم بالکل فکر نہ کرو۔ مجھے اس بات کا پورا یقین تھا کہ نیائش دوسرے لوگوں کی طرح نہیں ہے۔ اریزو میں اکثر لوگوں کے بارے مختلف قسم کی کہانیاں سننے کو ملتی تھیں۔
میری اور نیائش کی کافی بحث و تمحیص ہوئی اور ہم دونوں اس نتیجے پر پہنچے کہ میں سوئٹزرلینڈ جاؤں گا۔ نیائش کہنے لگا میرا ایک دوست میلانوں کے پاس ایک شہر ہے واریسے وہاں رہتا ہے۔ اس کا یہی کام ہے کہ وہ لوگوں کو اٹلی کی سرحد پار کراکے سوئٹزرلینڈ پہنچاتا ہے۔ میرا خیال وہ دو سو یورو لیتا ہے۔ وہاں جاکے تم سیاسی پناہ لے لینا ۔اس کے بعد کیا کرنا ہے تم مجھ سے بہتر جانتے ہو۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔