غزل
اکیلے ہی جل جل کے مرجائیں گے
سلویٰ کی جگہ اشک پیئے جائیں گے
گر آئے دنیا میں مَن کھا کے
یہی سوختہ من ہی لیئے جائیں گے
اتنی نار ہو ہار ملی ہے دنیا میں
دوزخ کی سزا نہ سہہ پائیں گے
جیتے جی کسی کے کام نہ آئے ہم
ہم تو مر کے بھی کیا کام آئیں گے
’’وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے‘‘
ہم تو استغفار ہی کیئے جائیں گے
سرفراز بیگ ۱۹۹۲۔ ۰۳۔ ۱۵ راولپنڈی
No comments:
Post a Comment