برف جیسا اک شخص
برف جیسا وہ اک شخص جو دِکھتا نہیں
کڑی دھوپ میں بھی جو پگھلتا نہیں
زندگی بھر ساتھ رہنے کی کھاتا ہے قسم
ساتھ چلتا تو ہے پر ساتھ دیتا نہیں
چپ رہ کر اس کی سرگوشی سننا میں چاہوں
لفظوں سے جو کھیلتا تو ہے پر باتیں کرتا نہیں
کیسے پہنچے اس تک میرے دل کی یہ بات
جو دل تو رکھتا ہے پر دل کی سنتا نہیں
روما ، اریزو
14/06/2013
No comments:
Post a Comment